کتبِ حدیث کی روشنی میں سیرتِ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ

کتبِ حدیث اور سیرتِ مُعاویہ رضی اللہ عنہ

        کتب تاریخ پر اکتفا کیا جائے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یقیناً ایک دنیا دار بادشاہ محسوس ہوتے ہیں مگر کتب حدیث کے معتبر ذخیرے پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو وہ ایک باکردار، عالم فاضل، مخلص اور خدا ترس حکمران دکھائی دیتے ہیں۔ ذخیرۂ حدیث (جوامع، سنن، مسانید اور معاجم) میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ تصویر دیکھئے۔


برائیوں اور گناہوں سے نفرت:

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خود بھی گناہوں سے بچتے اور رعایا کو بھی ان چیزوں سے بچانے کی کوشش کرتے۔ آپ کے خطبات اس جذبے کے آئینہ دار ہیں۔ ایک بار فرمایا: ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے سات کاموں سے منع کیا ہے، میں بھی ان سے منع کرتا ہوں: میت پر نوحہ وزاری سے، گانے سے، تصویروں سے، (عشقیہ اور ناجائز) شاعری سے، (مردوں کے لیے) سونے کے استعمال سے، درندوں کی کھالیں پہننے سے، نمود و نمائش سے اور (مردوں کو) ریشم سے۔“

        آپ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ ایک شخص نے اپنی لڑکی دوسرے کے نکاح میں دی اور اس کے مہر کے بدلے اس شخص کی لڑکی اپنے نکاح میں لے لی۔ اپنے گورنر کو حکم دیا کہ دونوں جوڑوں میں تفریق کرا دو اور اپنے مراسلے میں لکھا: ”یہ عقد شغار ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔“

        بعض اوقات لوگوں کو منکرات سے روکنے اور ان سے نفرت دلانے کے لیے اللہ کی قسمیں دے دے کر پوچھتے کہ بتاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ان باتوں سے منع کرنا تمہیں معلوم ہے کہ نہیں۔

        سبائی راویوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے گھرانے میں یزید کو شرابی اور آپ کو اس حرکت سے درگزر کرنے والا بتایا ہے، جو ایک بہتان کے سوا کچھ نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ شراب نوشی کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے یہ فرمان نبوی سنایا کرتے تھے: ”جو شراب پیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر پیے پھر کوڑے لگاؤ، پھر پیے پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر پیے تو چوتھی بار میں اسے قتل کردو۔“

فیشن، بناوٹ اور نمود و نمائش کی روک تھام:

        آپ نمود و نمائش کو ناپسند فرماتے تھے اور ایسی حرکات کی بروقت روک تھام کر دیتے تھے۔ عورتیں سیاہ رنگ کی پٹیاں سروں پر باندھنے اور بالوں میں نقلی بال ملانے کا فیشن کرنے لگی تھیں۔ آپ نے اسے ”زور“ یعنی جھوٹا پہناوا قرار دیا اور فرمایا: ”میرا خیال ہے یہ یہود کے سوا کسی کا طریقہ نہیں۔“ آپ نے لوگوں کو تلقین کی کہ اس سے احتراز کریں۔

        اس قسم کی بناوٹ کی ممانعت آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے خود سنی تھی اس لیے آپ یہ تاکید کرتے ہوئے فرماتے تھے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’زور‘ سے منع کیا تھا، جبکہ تم لوگ یہی بری شکل اختیار کرنے لگے ہو۔“

        ایک دن ایک شخص لاٹھی کا سہارا لیے سر پر پٹی باندھے آیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

        ”غور سے سنو، یہی وہ بناوٹ ہے۔“

        کچھ لوگ فیشنی بال رکھنے لگے تھے، آپ نے اس پر پابندی لگا دی۔ ایک بار مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسجد نبوی کے منبر پر اس قسم کے بالوں کا گچھا لے کر آپ نے لوگوں کو دکھایا۔ (یہ بال کسی فیشن زدہ شخص کے کاٹے گئے ہوں گے) اور فرمایا: ”میں کسی کو آئندہ یہ یہود جیسا کام کرتے نہ دیکھوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے بناوٹ کا نام دیا تھا۔“

        یہ بھی فرمایا: ”مدینے والو! تمہارے علماء کہاں گئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو میں نے کہتے سنا ہے کہ آپ نے اس سے منع کیا اور فرمایا: بنی اسرائیل کی عورتوں نے جب یہ فیشن شروع کیے تو ان پر عذاب آیا۔“

دین کو اصل شکل پر برقرار رکھنے کا جذبہ:

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ دین کو اس کی اصل شکل پر رکھنے کی تڑپ رکھتے تھے۔ بدعات کے سخت مخالف تھے۔ دین میں کسی کمی یا اضافے کو برداشت نہ کرتے تھے۔ آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ عصر کے بعد دو نفل پڑھنے لگے ہیں۔ آپ نے اپنے خطبات میں اس پر گرفت کی۔ فرمایا: ”تم لوگوں نے ایک نماز شروع کر رکھی ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ رہے، ہم نے انہیں یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے عصر کے بعد کے دو نفلوں سے منع کیا ہے۔“

انسانی جان کی قدر و قیمت:

        مشہور ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بڑی بے دردی سے لوگوں کو قتل کرا دیتے تھے، جبکہ آپ خود فرماتے تھے:

        ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا ہے کہ اللہ سے ہر گناہ کی بخشش کی امید ہے مگر سوائے اس کے کہ آدمی کافر ہو کر مر جائے یا کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے۔“

غیر اسلامی طور طریقوں سے گریز:

        لوگوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو عجمی بادشاہت کے طور طریقوں کا حامل مشہور کر رکھا ہے، جبکہ آپ دنیا کے سب سے بڑے حکمران ہوتے ہوئے بھی اپنے لیے غیر اسلامی آداب و تکلفات کو قطعاً پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک بار آپ حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لے گئے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے، حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے۔

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تنبیہ کی اور فرمایا: ”ایسا مت کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے جو یہ پسند کرے کہ لوگ اس کی تعظیم میں کھڑے ہوں وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں سمجھے۔“

خوشامدیوں کی روک تھام:

        بعض لوگوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک خوشامد پسند حکمران قرار دے رکھا ہے جس کے پاس حق گو لوگوں کی کوئی جگہ نہ تھی۔ جس کے ہاں چاپلوسی کرنے والے ہی مقام پاتے تھے۔ حالاں کہ آپ رضی اللہ عنہ کو چاپلوسی سے نفرت تھی۔ خوشامدی لوگوں سے بچنے کے لیے آپ رضی اللہ عنہ مدح و ستائش سے منع کرتے تھے۔ یہ حدیث سنایا کرتے تھے:

”إِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ ذَبْحٌ .“
مدح سے بچنا یہ ذبح کر دیے جانے کے مترادف ہے۔

حق گوئی کی حوصلہ افزائی۔ ضمیر کی آزادی:

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں آزادیِ اظہار رائے اور حق گوئی کا ماحول اگرچہ دور خلافت راشدہ جیسا نہ تھا مگر پھر بھی حق گو لوگ موجود تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی سخت باتوں کو خندہ  پیشانی سے سنا کرتے تھے۔ بلکہ اگر کبھی لوگوں میں حق گوئی کا حوصلہ کم دیکھتے تو ڈرتے تھے کہ ظالم جابر حکمرانوں میں شمار نہ ہو جائے۔

        ایک بار آپ رضی اللہ عنہ نے تقریر میں امتحان کے طور پر یہ جملہ کہہ دیا: ”یہ مال ہمارا ہے، جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں“ کوئی اعتراض نہ ہوا۔ دوسرے جمعے میں تقریر میں پھر یہی جملہ کہا۔ لوگ چپ رہے، تیسرے جمعے میں یہی جملہ کہا تو ایک شخص چیخ کر بولا: ”مال ہمارا ہے، اگر کوئی روکے گا تو ہماری تلواریں فیصلہ کریں گی۔“ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نماز کے بعد اسے ساتھ لے گئے، اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور حاضرین سے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے میں نے سنا تھا کہ عن قریب ایسے لوگ آئیں گے جن کی بات کی کوئی تردید نہیں کرے گا۔ وہ بندروں کی طرح دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔“ میں نے دو جمعوں تک وہ بات کہی، کوئی تردید نہ ہوئی تو میں ڈرا کہ میں اس وعید کا مستحق تو نہیں۔ اس شخص نے اپنا ردعمل ظاہر کر کے مجھے بچا لیا۔ اللہ اسے خوش رکھے، ۔ امید ہے اللہ ان ظالموں میں مجھے شمار نہیں کرے گا۔“

        ایک بار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جمعے کے خطبے میں طاعون سے فرار ہونے کے بارے میں مشہور حدیث سنائی اور اس میں کوئی غلطی کر گئے، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ خطبے کے دوران ہی کھڑے ہو گئے اور پکار کر کہا: ”تمہاری ماں ہندتم سے زیادہ علم رکھتی تھی۔“

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نماز کے بعد حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو بلایا اور امام کو خطبے کے دوران ٹوکنے پر تنبیہ کی، مگر جب ان کی باتیں سن کر یقین ہو گیا کہ واقعی حدیث سنانے میں لغزش ہوئی ہے تو عصر کی نماز کے بعد منبر پر خود اعلان کیا: ”میں نے منبر پر آپ کے سامنے ایک حدیث بیان کی تھی، گھر جا کر معلوم ہوا وہ حدیث ویسے ہے جیسے حضرت عبادہ  بیان کرتے ہیں لہٰذا انہی سے استفادہ کیجئے۔ وہ مجھ سے بڑے عالم ہیں۔“

        حضرت مِسْوَر بن مَخْرَمَہ رضی اللہ عنہ ایک بار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کام سے گئے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: مسور! آپ جو حکام پر اعتراضات کیا کرتے ہیں ان کا کیا حال ہے؟“

        انہوں نے پس و پیش کی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اصرار کیا۔

        ”نہیں، آپ اپنے دل کی ساری باتیں کہہ ڈالیے۔“

        حضرت مسور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے ان سے جو بھی شکایات تھیں سب کہہ دیں، کوئی بات نہیں چھوڑی۔

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں سن کر فرمایا: ”لغزشوں سے کوئی پاک نہیں ہو سکتا، آپ اپنے اندر بھی ایسی باتیں محسوس کرتے ہوں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ معاف نہ کرے تو آپ تباہ ہو جائیں۔“

        حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بالکل“

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر بھلا آپ مجھے بھی اپنی طرح اللہ کے ہاں مغفرت کا حق دار کیوں نہیں سمجھتے۔ اللہ کی قسم! میں عوام کی اصلاح، شرعی حدود کے نفاذ اور جہاد کی جن خدمات میں مصروف ہوں وہ ان غلطیوں سے زیادہ ہیں۔ اور پھر میں اُس دین کا ماننے والا ہوں جس میں رب نیکیوں کو قبول کرتا اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔“

        پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے جب بھی اللہ اور اللہ کے غیر میں سے کسی ایک کو چننے کا موقع درپیش ہوتا ہے تو میں اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں اختیار کرتا۔“

        حضرت مسور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دلائل پر غور کرتا رہا، میں مان گیا کہ انہوں نے اس بات چیت میں مجھے لاجواب کر دیا۔ اس کے بعد حضرت مسور رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر آنے پر ہمیشہ ان کے لیے دعائے خیر فرمایا کرتے تھے۔

بے تکلف رہن سہن:

        رہن سہن ایسا بے تکلف تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جب آرام فرما ہوتے تب بھی آپ کے ساتھی ارد گرد بیٹھے بے تکلف بات چیت کر رہے ہوتے۔ کسی پر کوئی روک ٹوک نہ تھی۔

شرعی جزئیات، سنن و مستحبات تک کا خیال:

        بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ محض ایک دنیوی حکمران تھے، ان کی توجہ ریاست کی حفاظت و ترقی پر تو تھی مگر ریاست کے اندر اسلام کے احیاء اور اسلامی شخصیت سازی پر نہیں۔ اس لیے وہ فقہی جزئی احکام اور سنتوں کو نظر انداز کر جاتے تھے۔ کتب احادیث میں مذکور حقائق اس تاثر کی نفی کرتے ہیں۔

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنت بلکہ مستحبات کی بھی پابندی کا خیال رہتا تھا۔ ایک صاحب نے ان کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی اور پھر اسی جگہ سنتیں شروع کر دیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نماز کے بعد انہیں بلوایا اور یہ حدیث سنائی:

”لَا تُوْصِلْ صَلَوةً بِصَلَوةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ.“
(نماز کے ساتھ فوراً دوسری نماز مت ملاؤ، کوئی بات کر لو، یا وہاں سے ہٹ جاؤ۔)

سنت کی اشاعت کا ولولہ:

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سنت اور فقہ کے عالم تھے اور اس علم کی اشاعت کا زبردست ولولہ رکھتے تھے۔ دین کی تبلیغ کو مسلم حکمران کے فرائض میں تصور کرتے تھے، اس لیے موقع بموقع احادیث بیان فرما کر اپنا فریضہ ادا کیا کرتے تھے۔

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کو وضو کر کے دکھایا کرتے، بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اس طرح وضو فرمایا کرتے تھے۔ لوگ سر کے مسح میں عموماً غلطیاں کر جاتے ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ عملی طور پر انہیں دکھا کر سمجھاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کس انداز میں ہتھیلیاں سر کے اگلے حصے پر رکھ کر انہیں مسح کرتے ہوئے پیچھے گدی تک لے جاتے اور کس طرح واپس  پیشانی تک لے کر آتے۔

        ایک تابعی کہتے ہیں: ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، اتنے میں اذان شروع ہو گئی۔ انہوں نے اَللهُ اَكْبَر اَللهُ اَكْبَر سے لے کر اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہِ تک ہر جملے کا اسی طرح جواب دیا۔

        حَیَّ عَلَی الصَّلوٰةِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کی جگہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ پڑھا، باقی کلمات کی جگہ انہی کو دہرایا۔ پھر فرمایا: ”اسی طرح میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو کہتے سنا ہے۔“

خصوصی ایام کے بارے میں ترغیب اور اعتدال:

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خصوصی ایام مثلاً: شب قدر، دس محرم وغیرہ کا بڑا اہتمام فرماتے تھے۔ دوسروں کو ترغیب دیا کرتے تھے کہ وہ اللہ کی خصوصی عنایات کے ان نادر موا قع سے فائدہ اٹھایا کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان مروی ہے: ”شب قدر کو رمضان کی ستائیس ویں میں رات میں تلاش کرو۔“

        مگر اس قسم کی ترغیب میں آپ اعتدال کا پورا خیال رکھتے تھے، تاکہ ایک مستحب عمل کو سنت مؤکدہ یا واجب نہ سمجھا جانے لگے۔ ایک بار دس محرم کو آپ رضی اللہ عنہ نے مدینہ طیبہ میں لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا: ”مدینہ والو! یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں۔ ہاں میرا روزہ ہے۔ تم میں سے جو چاہے رکھے جو چاہے نہ رکھے۔“

طالب علمانہ جذبہ:

        عالم وفقیہ ہونے کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ خود کو طالب علم سمجھتے تھے۔ عمر بھر سنتیں سیکھاتے رہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  جو دعا نماز کے بعد پڑھتے تھے، لکھ بھیجو۔ انہوں نے دعا لکھی:

﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ.﴾

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یہ دعا یاد کر کے دوسروں کو بھی سکھانے لگے۔

دینی مسائل کی تحقیق:

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جب تک کسی فقہی مسئلے کی پوری تحقیق نہ کر لیتے اور پورے سلسلۂ سند سے واقف نہ ہو جاتے مطمئن نہ ہوتے۔ شرعی مسائل اور سنتوں کو سیکھنے اور عام کرنے کا اتنا ولولہ تھا کہ ایک خطبے کے دوران منبر پر ہی حضرت کثیر بن صلت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ جا کر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ مسئلہ پوچھ کر آئیں۔

        ایک ایک مسئلے کے لیے اتنی تحقیق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے علمی وتحقیقی ذوق کی واضح عکاسی کرتی ہے۔

علمی و فقہی مہارت اور فضلائے صحابہ کا آپ کے علم پر اعتماد:

        سنت پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نگاہ اس قدر گہری تھی کہ صحابہ کو بعض حدیثیں صرف آپ سے ملیں اور انہیں سب نے نہایت اعتماد سے قبول کیا حتی کہ بنو ہاشم کے اصحاب بھی حدیث رسول میں آپ پر پورا بھروسہ کرتے تھے۔ علمی و فقہی مہارت کا یہ حال تھا کہ حضرت عبداللہ  بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے بحر علم نے بعض سنتیں ان سے سیکھی تھیں۔

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کے مو قع پر طواف کے دوران دیکھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما خانہ کعبہ کے چاروں کونوں کا استلام کر رہے ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا:

        ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے صرف دو کونوں (حجر اسود اور رکن یمانی) کا استلام کیا تھا۔“

        حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک بار خود فرمایا: ”مجھے حضرت معاویہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو انہوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے قینچی سے اپنے بال مبارک ترشوائے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد حضرت مجاہد اور عطاء رحمہما اللہ کہنے لگے: ”حضرت! یہ حدیث ہم نے کسی اور سے نہیں سنی۔“

        حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے:

        ”معاویہ رضی اللہ عنہ ایسے نہیں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی حدیث کے بارے میں ان پر شک کیا جائے۔“

اللہ کی حدود کا قیام ، ریاست کی اولین ذمہ داری:

            حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حدود اللہ کو معطل ، دین کے نفاذ کو ترک اور سیاسی مفادات کے لیے ظلم کرنے والا مشہور کیا گیا ہے، جبکہ آپ ہمیشہ اس پر زور دیتے رہے کہ اقامتِ دین ہی حکومت کی اساس ہے۔ اس اُمت کی حکومت و ریاست دین کی بنیاد پر ہی قائم رہے گی ورنہ نہیں۔ ایک بار اس موضوع پر کلام کرتے ہوئے فرمایا:

        ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا ہے کہ یہ امرِ خلافت قریش میں رہے گا۔ اللہ ان سے حکومت چھیننے کی کوشش کرنے والے ہر شخص کو منہ کے بل گرا دے گا مگر تب تک جب تک وہ اقامتِ دین پر جمے رہیں گے۔“

خلافت کی اہمیت:

        مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کے لیے خلافت اور سربراہ کی موجودگی اور عوام کی اس سے وابستگی کو بہت اہم سمجھتے تھے اور یہ حدیث سنایا کرتے: ”جو کسی سربراہ کے بغیر مر جائے وہ جاہلیت کی موت مرا۔“

فرقہ بندیوں کا علاج : شریعت کو تھامے رہنا

        نئے فتنوں اور فرقہ بندیوں کے آثار آپ کی نگاہ میں تھے اور آپ کے نزدیک اس کا واحد حل یہ تھا کہ سب سے پہلے اس دین کے اولین داعی یعنی عرب، شریعت پر اس شکل میں عمل  پیرا رہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اسے لے کر آئے تھے۔

        ایک بار آپ رضی اللہ عنہ نے حج کے مو قع پر مکہ معظمہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے: یہود و نصاریٰ اپنے دین میں افتراق کا شکار ہو کر ۷۲ فرقے بن گئے اور یہ امت عنقریب ۷۳ فرقے بن جائے گی۔ ان میں سے ایک کے سوا سب جہنم میں جائیں گے۔ وہ ایک نجات یافتہ فرقہ مسلمانوں کی جماعت (سوادِ اعظم یعنی جمہور مسلمین) ہے۔“

        پھر آپ رضی اللہ عنہ نے دردِ دل کے ساتھ حاضرین کو مخاطب کر کے کہا: ”اللہ کی قسم! اے عرب قبائل والو! جس دینِ مبین کو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  لے کر آئے ہیں، اگر تم اس پر کاربند نہ رہو گے، تو بھلا دوسروں سے کیا امید رکھی جاسکتی کہ وہ اس دین کو سنبھالیں۔“

صحابہ کرام کا اعزاز و اکرام:

        صحابہ کرام کے تمام طبقات کا خوب اکرام کرتے اور ان کی فضیلتوں کا اعتراف کرتے، کسی کی دل شکنی نہ ہونے دیتے۔ ایک بار انصار کی ایک مجلس میں تشریف لے گئے اور فرمایا: ”تمہاری فضیلت میں ایک اور حدیث نہ سنا دوں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو فرماتے سنا: ”جو انصار سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے، جو انصار سے بغض رکھتا ہے اللہ بھی اس سے بغض رکھتا ہے۔“

جہاد اور اقامت دین کی تڑپ:

        جہاد اور اقامت دین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کا اہم ترین مقصد تھا، انہوں نے جوانی میں پرچم جہاد اُٹھایا اور درمیان میں فتنے کے چند برسوں کو چھوڑ کر وفات تک اس فریضے کی ادائیگی میں مشغول رہے۔ شمشیر و سنان اور لسان و قلم سے جہاد کرنے والوں کی آپ حوصلہ افزائی فرماتے۔ اس بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات سنایا کرتے۔

        ان میں یہ حدیث بھی تھی: ”اس امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہے گی، کسی کی مخالفت یا تکذیب اسے کچھ نقصان نہ دے گی۔ یہاں تک کہ اللہ کا امر (قیامت) نہ آجائے اور وہ حق پر اس طرح قائم ہوں گے۔“

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے کو عروج دیتے ہوئے یورپ فتح کرنا چاہتے تھے، قُسْطَنْطِیْنِیَہ کی مہم کے لیے آپ رضی اللہ عنہ نے بڑے بڑے صحابہ اور اپنی اولاد کو بھیجا۔ اپنے رفقاء کو آپ رضی اللہ عنہ کی آخر وصیت یہ تھی:

”خُذُوْا خِنَاقَ الرُّوْمِ، فَإِنَّكُمْ تَضْبِطُوْنَ بِذَالِكَ غَيْرَ هُمْ مِنَ الْأُمَمِ.“
”اہل روم کا گلا گھونٹ ڈالو؛ کیوں کہ تم ان کے ذریعے دوسری اقوام پر قابو پا سکو گے۔“

        تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے جب تک اس مردِ جہاں آگاہ کی اس وصیت کو یاد رکھا ساری دنیا پر ان کا سکہ چلتا رہا مگر جب وہ اسے بھولے اور اہل یورپ کو سر اٹھانے کا موقع دیا تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کی سطوت و شوکت کے بڑے بڑے قلعے زمین بوس ہو گئے۔

روایت حدیث میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا انداز :

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حدیث میں سند کی اہمیت کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے۔ اس لیے احادیث سنانے میں آپ کا یہ معمول تھا کہ کسی واسطے کے حذف کا وہم تک  پیدا نہیں ہونے دیتے تھے۔ ہمیشہ اہتمام سے یوں کہتے تھے:

”سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“
(میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو فرماتے سنا ہے۔)

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے تقریباً تمام روایات اسی طرح منقول ہیں۔

        فکر آخرت کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث نقل کرنے میں بہت احتیاط کرتے تھے کہ کہیں کوئی غیر محتاط روایت نقل نہ ہو جائے۔ خود فرماتے تھے:

        ”کوئی ایسا نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے مجھ جیسا قرب رکھتا ہو اور پھر وہ مجھ سے بھی کم احادیث نقل کرتا ہو۔“

        علمی حلقوں میں بھی کہا جاتا تھا: ”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم احادیث نقل کیا کرتے تھے۔“

جعلی روایات کی روک تھام اور اس پر سرزنش:

        اس دور میں سازشی گروہوں کے کارندے اور جاہل واعظ لوگوں میں من گھڑت احادیث پھیلانے لگے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی سختی سے تردید کرتے تھے۔ اگر کوئی ایسی روایت سننے میں آ جاتی تو آپ کا ردعمل شدید ہوتا تھا۔ جھوٹی احادیث پھیلانے کی مذمت کرتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ یہ حدیث نبوی سناتے: ”جو مجھ سے جان بوجھ کر جھوٹ منسوب کرے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔“

جھوٹی روایات کی پہچان کا معیار:

        کسی حدیث کے من گھڑت ہونے کی علامت آپ کے نزدیک یہ تھی کہ وہ قرآنی عقیدے اور نظریے کے مخالف ہو یا صحیح سند سے مروی نہ ہو یا اس سے نفس کو خوش کرنے والی خواہشات کی پاسداری ہو۔

        چنانچہ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ایک بار فرمایا:

        ”میں نے سنا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی احادیث سنا رہے ہیں جو نہ کتاب اللہ میں ہیں نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے مروی ہیں۔ یہ تمہارے جاہل لوگ ہیں ان سے بچتے رہنا اور ان خواہشات سے بھی جو لوگوں کو گمراہ کر کے چھوڑتی ہیں۔“

جعلی راویوں اور جاہل واعظوں پر سرکاری پابندی:

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایک عظیم کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے جعلی روایات کا سلسلہ بند کرنے کے لیے جاہل واعظوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ آپ کے دور میں کسی کو سرکاری طور پر تقرری یا اجازت نامہ حاصل کیے بغیر عوامی مجالس میں روایتیں اور قصے سنانے کی اجازت نہ تھی؛ کیوں کہ اس طرح جاہل لوگ ہر طرح کی روایتیں پھیلا دیتے ہیں۔

        حج کے مو قع پر معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ میں بنو مخزوم کا ایک آزاد کردہ غلام لوگوں کو قصے اور واقعات سناتا پھرتا ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا: ”تمہیں اس پر مقرر کیا گیا ہے؟“ بولا: ”جی نہیں!“

        فرمایا: ”پھر بلا اجازت یہ کام کرنے کا کیا مطلب؟“

        بولا: ”ہم تو وہ علم پھیلاتے ہیں جو اللہ نے دیا ہے۔“

        فرمایا: ”اگر میں تیری مجلس میں آگیا ہوتا تو تیری زبان کاٹ دی ہوتی۔“

اس غلط فہمی کی تردید کہ اصلاح باطن کافی ہے:

        اس دور میں بعض گمراہ فرقے زیر زمین تانے بانے بن رہے تھے۔ شاید ان کے زیر اثر لوگ اس دور میں یہ سوچ رکھنے لگے تھے کہ ظاہر کا شریعت کے مطابق ہونا ضروری نہیں، بس دل صاف ہونا چاہیے۔ اس باطل خیال کی تردید کرتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے ایک بار فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو میں نے فرماتے سنا تمہارے عمل کی مثال برتن کی سی ہے، اس کی بالائی سطح عمدہ ہو تو نچلا حصہ بھی عمدہ ہوگا، اور اوپر سے  گندا ہو تو اندر سے بھی گندا ہوگا۔“

علماء، طلبہ اور مؤذنین کی حوصلہ افزائی:

        لوگوں کو مساجد میں علم و ذکر کی مجالس میں دیکھتے تو بے حد خوش ہوتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے۔ ایک بار کسی حلقۂ ذکر میں تشریف لے گئے اور قسم دے کر پوچھا کہ کیا صرف ذکر کے لیے بیٹھے ہو؟ اثبات میں جواب ملا تو فرمایا:

        ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  بھی اسی طرح ایک مجلسِ ذکر سے گزرے تھے اور قسم دے کر یہی پوچھا تھا اور پھر فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں فرشتوں کے سامنے فخر فرما رہے ہیں۔“

        تقریباً ہر جمعے کو اہل علم کی حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے یہ حدیث سنایا کرتے تھے:

        ”جب اللہ کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دین کی فقاہت نصیب کر دیتا ہے۔“

        مؤذن حضرات امت کا وہ طبقہ ہیں جن کی عظمت اور اہمیت کو اکثر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان حضرات کی بڑی قدر کرتے تھے۔ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ حدیث سناتے تھے:

 إِنَّ الْمُؤَذِّنِيْنَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. 
”مؤذن حضرات قیامت کے دن سب سے بلند گردنوں والے ہوں گے۔“

دنیا سے اکتاہٹ، فکرِ آخرت اور عشقِ نبوی:

        دنیا کی زیب وزینت اور آرزوؤں سے آپ رضی اللہ عنہ کو کوئی دلچسپی نہ تھی۔ دل ہمیشہ فکرِ آخرت سے لبریز رہتا۔ اس بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کو اکثر یاد کرتے اور ساتھیوں کو سناتے۔

        ایک بار فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو میں نے فرماتے سنا کہ دنیا میں امتحان اور فتنے کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔“

        ایک بار خطبہ دینے منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈالی تو استغفار پڑھ کر رو دیے۔ پھر فرمایا:

        ”چہرے زیادہ ہیں مگر معرفت کے آثار کم۔ لوگ ایک دوسرے کے ہم عصر ہوتے ہیں۔ آدمی کی موت کی نشانی ہے کہ اس کے ہم عصر فنا ہوجائیں۔ جنگ صفین میں میرے ساتھ متعدد اصحاب رسول تھے، آج روئے زمین پر ان جیسے لوگ کہیں نہیں۔“

        یہ کہہ کر منبر سے اترے اور کچھ ہی دنوں بعد وفات پا گئے۔

        نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے اتنا عشق تھا کہ جب عمر ٦۳ سال کی ہوئی تو آپ کی تمنا تھی کہ اسی عمر میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں تاکہ اس غیر اختیاری سنت پر عمل ہو جائے۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور آزادیٔ اظہارِ رائے:

        بعض معترضین کا کہنا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں منبروں پر قفل چڑھا دیے گئے تھے اور زبانیں بند کر دی گئی تھیں، اظہار رائے کی ہرگز آزادی نہ تھی۔

        یہ الزام اتنا بے وزن ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اکثر مخالفین بھی اس سے متفق نہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نرمی، تحمل، قوتِ برداشت، فیاضی اور بردباری ایسی صفات ہیں جن کو عام تاریخ نویسوں تو کیا، مخالف مؤرخین نے بھی تسلیم کیا ہے۔ ذیل میں کچھ تاریخی روایات  پیش کی جاتی ہیں:

        ایک بار کوئی شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیر تک برا بھلا کہتا رہا اور وہ خاموش رہے۔

        لوگوں نے کہا: ”آپ اس پر بھی صبر کا مظاہرہ کریں گے؟“

        فرمایا: ”میں لوگوں کے اور ان کی زبانوں کے درمیان اس وقت تک آڑے نہیں آنا چاہتا جب تک وہ ہماری حکومت کے درمیان حائل نہ ہونے لگیں۔“ (یعنی بغاوت پر آمادہ نہ ہوں)

        ایک بار کسی شخص نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بے نقط سنا ڈالیں۔ حاضرین نے بعد میں کہا: ”آپ جواب دے دیتے تو اچھا ہوتا۔“ فرمایا: ”مجھے اللہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ میری قوتِ برداشت، میری رعایا کے کسی فرد کی غلطی کے مقابلے میں کم ثابت ہو۔“

        عوام کی خوشی اور اطمینان کو وہ ہر چیز پر ترجیح دیتے تھے، اس لیے ان لوگوں کو دوست اور مقرب بناتے جو عوام کے نزدیک ہر دل عزیز اور محبوب ہوتے۔ کسی نے دریافت کیا: ”آپ کے پسندیدہ ترین لوگ کون ہیں؟“

        فرمایا: ”وہ جن سے عوام سب سے زیادہ محبت کریں۔“

        بعض اوقات لوگوں کی سخت کلامی اور بدتمیزی کا آپ رضی اللہ عنہ جواب دیتے تو وہ بھی تحمل، وقار اور خیر خواہی کا عمدہ نمونہ ہوتا۔ ابو جہم نامی ایک صاحب آپ سے درشت کلامی کرتے رہے، آپ سر جھکائے خاموش رہے۔ جب وہ دل کی بھڑاس نکال چکے تو فرمایا: ”حکمرانوں سے ہوشیار رہنا چاہیے، ان کا غصہ بچوں کی طرح ہوتا ہے اور پکڑ شیر کی مانند۔“

        پھر ان صاحب کو انعام و اکرام سے نواز کر واپس بھیجا۔

        اظہارِ رائے، راست بازی اور حق گوئی کی حوصلہ افزائی کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ خوشامد اور مد ح سرائی سے منع کرتے تھے۔ مروان بن حکم کے بھائی عبدالرحمن بن حکم کو شعر و شاعری میں منہمک دیکھا تو فرمایا:

        ”قصیدہ گوئی سے بچتے رہنا؛ کیوں کہ یہ بے حیا لوگوں کی کمائی ہے۔“

        یہ روایات پختہ شہادت دے رہی ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خوشامد پسندانہ باتوں سے نفرت تھی، وہ ضمیر کی آزادی کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور ان کے دور میں عوام کا گلا گھونٹ کر نہیں رکھا گیا تھا جیسا کہ بعض لوگوں کو غلط فہمی ہے بلکہ رواداری، درگزر اور نرمی کا ماحول تھا۔ خود اکابر صحابہ اس کی گواہی دیتے تھے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاست میں درگزر اور چشم پوشی کا پہلو نمایاں تھا، اس کی ایک اہم وجہ بزرگ صحابی حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے  بیان کی تھی۔

        انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کی گورنری کے دور میں ایک حدیث سنائی جس پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمل کیا اور ان کی گورنری کامیاب رہی۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”معاویہ کو ایک جملے نے نفع پہنچایا جو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا تھا، وہ یہ کہ لوگوں کے بھیدوں کے پیچھے مت پڑو، ورنہ تم انہیں بگاڑ دو گے۔“

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اکابر صحابہ سے نصائح لیتے رہتے تھے۔ ایک بار ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو خط لکھ کر بطور نصیحت کوئی خاص حدیث طلب کی۔ انہوں نے جواباً لکھوایا: ”حضورصلی اللہ علیہ وسلم  سے میں نے سنا کہ جو شخص اللہ کی ناراضی والے کام کرتا ہے، اس کے مداح لوگ بھی اس پر نکتہ چینی کرنے والے بن جاتے ہیں۔“

        فن تاریخ کے مجدد اور عمرانیات کے بانی علامہ ابن خلدون حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حلم کے متعلق فرماتے ہیں:

        ”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ عرب رؤساء اور قبائلِ مضر کے ساتھ چشم پوشی اور درگزر کا معاملہ فرمایا کرتے تھے، اذیت ناک اور ناگوار باتوں کو برداشت کر جاتے تھے اور ان پر صبر کرتے تھے۔ وہ بردباری کی اس انتہا پر تھے کہ کوئی دوسرا ان تک نہیں پہنچ سکتا۔“

شیعہ مؤرخ مسعودی کا یہ بیان بھی قابلِ غور ہے:

        ”امیر معاویہ کے بعد عبدالملک بن مروان اور اس جیسے کچھ لوگوں نے کوشش کی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اخلاق کو اپنا سکیں مگر ان جیسے تحمل، ان جیسی سیاسی مہارت، ان کی طرح حالات کے ادراک، ان جیسی لوگوں کی حسب مرتبہ خاطر مدارات اور ان جیسی حسب مراتب مہربانی کا اہتمام کوئی نہ کرسکا۔“

شیعہ مؤرخ یعقوبی کا بیان ہے:

        ”معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جہاں میرا کوڑا کام دے جائے وہاں تلوار استعمال نہیں کرتا اور جہاں زبان سے کام نکل آئے وہاں کوڑا حرکت میں نہیں لاتا۔ اگر میرے اور لوگوں کے درمیان تعلق ایک بال سے بندھا ہو، تو میں اسے بھی نہیں ٹوٹنے دوں گا۔ پوچھا گیا: وہ کیسے؟ فرمایا: جب وہ کھینچیں گے تو میں ڈھیلا چھوڑ دوں گا۔ جب وہ ڈھیلا چھوڑ دیں گے تو میں کھینچ لوں گا۔“

معلوم ہوا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں اظہار رائے پر پابندی کا الزام قطعاً بے بنیاد ہے۔


مزید پڑھیں