جنگِ حرّہ کا تاریخی پس منظر اور یزید کا مدینہ منورہ پر حملہ

جنگِ حرّہ

        یزید میں سپاہیانہ جوش وخروش کی کمی نہیں تھی۔ مگر وہ سربراہِ حکومت تھا جسے جوش وجذبے سے کہیں زیادہ تدبر، تحمل، اور انجام بینی کا ملکہ درکار ہوتا ہے۔ یزید کے مختلف فیصلے یہ ثابت کرتے رہے کہ وہ ان صفات سے عاری تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے معاملے میں بھی اس سے ایسی ہی غلطیاں اور بے اعتدالیاں صادر ہوئیں جس کا نتیجہ سانحۂ کربلا کی شکل میں نکلا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے بعد وہ بہت محتاط ہو جاتا اور صحابہ کرام کے متعلق آئندہ کوئی فیصلہ کرتے ہوئے ہزار بار سوچتا، مگر افسوس کہ جب اسے اہل مدینہ کے خروج سے سابقہ پڑا تو اس کی کیفیت نہایت جارحانہ ہوگئی۔ اور اس نے مدینہ منورہ اور ساتھ ہی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سرکوبی کے لیے مکہ پر بھی حملے کا اٹل فیصلہ کرلیا۔ یہ سنتے ہی دمشق میں موجود صحابہ وتابعین نے یزید سے پرزور سفارش کی کہ یہ مہم ترک کر دی جائے۔

یزید صحابہ وتابعین کے مشوروں سے بے زار:

        عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے یزید کو اس جنگ سے باز رکھنے کے لیے یہاں تک کہہ دیا:

        "ایسا کر کے تم اپنی جان کو ہلاک کرو گے۔" مگر یزید پر کوئی اثر نہ ہوا۔

    صخرہ بن عبید مدنی رحمہ اللہ نے بھی بہت سمجھایا مگر یزید اپنی ضد پر اڑا رہا۔

        نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ہر کوشش بے سود دیکھ کر فرمایا: "اس مہم کے لیے مجھے بھیج دیں، میں کافی ہو جاؤں گا۔"

        مگر یزید کو مدینہ والوں کے لیے کوئی بردبار اور متحمل مزاج شخص نہیں بلکہ سنگ دل اور بدلحاظ آدمی درکار تھا۔ اس لیے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی پیش کش بھی رائیگاں گئی۔

اموی امراء بھی مدینہ پر حملے سے نالاں: عبیداللہ بن زیاد کا صاف جواب

        مدینہ اور مکہ پر حملے کا سوچتے ہی ہر کسی کا دل کانپ اٹھتا تھا اس لیے یزید کی تاکید کے باوجود اس کے وہ امراء بھی اس مہم کے لیے تیار نہ ہوئے جو سخت گیری میں مشہور تھے۔ عمرو بن سعید جیسے شخص نے جو دو سال قبل مکہ پر لشکر کشی کر چکا تھا، اس بار صاف انکار کر دیا۔ آخر عبیداللہ بن زیاد کو یہ کام سونپنے کی کوشش کی گئی مگر وہ سانحۂ کربلا کی وجہ سے اپنی رسوائی کا ذمہ دار یزید کو سمجھتا تھا جس کی خوشنودی کے لیے اس نے یہ مظالم ڈھائے تھے۔ چنانچہ اب وہ یزید کی خاطر مزید بدنامی مول لینے کی ہمت نہ کرسکا اور صاف جواب دیتے ہوئے کہا: "اس فاسق (یزید) کے لیے میں یہ دونوں کام کبھی جمع نہیں ہونے دوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کا قتل بھی میرے ذمے ہو، اور بیت اللہ پر حملہ بھی۔"

        سب کو ہچکچاتے دیکھ کر یزید نے مسلم بن عقبہ جیسے سنگ دل آدمی کو یہ مہم سونپی اور اسے تاکید کی:

        "تین دن تک اہل مدینہ کو اطاعت کی دعوت دینا، پھر بھی وہ نہ مانیں تو لڑنا۔ اگر تم غالب آ جاؤ تو تین دن تک شہر کو لوٹنا۔ روپیہ  پیسہ، عام استعمال کی اشیاء، اسلحہ اور سامانِ خور و نوش فوج کا ہو گا۔ علی بن حسین (زین العابدین رحمہ اللہ) کا خیال رکھنا، ان کا اس بغاوت سے کوئی تعلق نہیں۔"

        اس فوج کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ یعنی یہ لشکر مدینہ والوں کی طاقت سے کہیں بڑھ کر تھا کیوں کہ وہاں لڑنے والے صرف دو ہزار سرفروش تھے۔

        مدینہ کے جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں جھلسے ہوئے ٹیلوں کے سلسلے ہیں جنہیں "حرّہ" کہا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں آتش فشاں لاوے کے ابلنے سے یہ علاقہ جھلس گیا تھا۔ اس لیے یہ جگہ حرّہ کہلاتی تھی۔

        اہل مدینہ نے غزوۂ خندق کی طرز پر خندق کھود کر شہر کو محفوظ کرلیا تھا تاکہ محاصرانہ طویل لڑائی لڑی جاسکے۔ تاہم مشرقی سمت سے حرّہ واقم کا علاقہ کھلا تھا۔ اہل مدینہ لشکرِ شام کو روکنے کے لیے یہیں جمع ہوئے تھے۔ شامی سپاہی اسی سمت سے مدینہ کے سامنے پہنچے۔

گھمسان کی جنگ، عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کی سرفروشی:

        شہر کے لوگوں کو لڑنے مرنے کے لیے تیار دیکھ کر شامی سپاہی ٹھٹک گئے، مدینہ منورہ کی حرمت بھی ان کے تذبذب کا باعث بنی۔ یہ دیکھ کر مسلم بن عقبہ نے اپنا تخت دونوں لشکروں کی صفوں کے بیچ میں لا بچھایا اور آواز لگائی:

        "اب مجھے بچانے کے لیے لڑو۔" تب اہل شام نے زور دار حملہ کیا اور نہایت شدید جنگ شروع ہوئی۔

        عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نے اس حالت میں اپنے سات بیٹوں کو یکے بعد دیگرے دشمن پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دیا۔ وہ سب بے جگری سے لڑ کر شہید ہوگئے۔

        اس دوران اہل مدینہ کے ایک قبیلے بنو حارثہ نے سرکاری فوجوں کا ساتھ دیا اور انہیں پشت کی طرف سے مدینہ میں داخل ہونے کا راستہ دے دیا۔ جب مدینہ کے حریت پسندوں نے شہر کے وسط سے تکبیر کے نعرے سنے تو سمجھ گئے کہ دشمن شہر پر قابض ہوچکا ہے۔ چنانچہ وہ پسپا ہونے لگے۔ بعض صحابہ کرام اور ان کے غیور فرزند میدان میں جمے رہے اور لڑتے لڑتے جان دے دی۔ پسپائی کے دوران بہت سے لوگ اس خندق میں گرے جو شہر کے دفاع کے لیے کھودی گئی تھی۔ جو لوگ خندق میں گر کر زخمی ہوئے ان کی تعداد مقتولین سے بھی زیادہ تھی۔

        عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کی کمان میں صرف پانچ افراد رہ گئے تھے۔ کسی نے کہا:

        "واللہ! اب ہمارا کوئی اور ساتھی نہیں بچا، اب کس بھروسے پر لڑیں؟"

        عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "تیرا برا ہو، ہم تو موت کا عہد کر کے نکلے ہیں۔"

        یہ کہہ کر حریف پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے جان دے دی۔ یہ جگر پاش واقعہ ۲۷ ذی الحجہ ۶۳ھ کو پیش آیا۔

اہلِ مدینہ کے شہداء کی تعداد:

        حرّہ کے سانحے نے ایک آتش بگولے  کی طرح مہاجرین و انصار کے مہکتے ہوئے گلستاں کو اجاڑ کر رکھ دیا۔

 امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے مروی ایک عمدہ روایت کے مطابق:
"حرّہ کے مقتولین سات سو افراد تھے جو قرآن مجید کے حافظ و قاری تھے۔"

جنگ میں شریک صحابہ کرام:

        جنگِ حرّہ میں کم از کم پانچ مدنی صحابہ کرام شامل رہے تھے۔ ان میں سے تین میدانِ جنگ میں شہید ہوئے۔ ایک کو قیدی بنا کر قتل کیا گیا۔ ایک کو بچ نکلنے کا موقع مل گیا۔ ایک صحابی کو جو جنگ میں شریک نہ تھے، بعد میں گھر سے بلوا کر شہید کیا گیا۔ ان حضرات کے نام درج ذیل ہیں:

        ۱۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ...... جو انصار کے سردار تھے، میدان میں قتل ہوئے۔

        ۲۔ حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ...... یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر مسیلمہ کذاب کو واصلِ جہنم کیا تھا۔ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محافظہ ام عمارہ رضی اللہ عنہا کے فرزند ہیں۔ ان سے وضو کے سنت طریقے کی حدیث منقول ہے۔یہ میدان میں قتل ہوئے۔

        ۳۔ حضرت ابوحلیمہ معاذ بن الحارث رضی اللہ عنہ...... جن کی حسنِ قرآت کی بناء پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں تراویح کا امام مقرر کیا تھا یہ بھی میدان میں قتل ہوئے۔

        ۴۔بزرگ صحابی حضرت مَعقِل بن سِنان رضی اللہ عنہ...... جو فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ بنو اشجع کا پرچم اٹھائے ہوئے تھے، جنگ کے بعد وہ قیدی بنے۔ یزید کے سپہ سالار مسلم بن عقبہ نے انہیں قتل کرا دیا۔

        ۵۔ حضرت عبداللہ بن مطیع رضی اللہ عنہ...... یہ واحد صحابی ہیں جو جنگ سے زندہ بچ نکلے تھے۔

        ان پانچ حضرات کے علاوہ چھٹے صحابی حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے، جنگ کے بعد گھر سے بلوا کر قتل کیے گئے۔

مشہور شہدائے مہاجرین:

        صحابہ کرام کے بیٹے اور رشتہ دار جو اس جنگ میں شہید ہوئے، سینکڑوں تھے جن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں:

        ۱۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حارث بن عبدالمطلب کے پوتے عبداللہ۔ حارث کے پڑپوتے فضل۔

        ۲۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابوبکر۔

        ۳۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تین پوتے: ابوبکر، عبداللہ، سلیمان۔

        ۴۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ماں شریک بھائی موسیٰ بن الحارث۔

        ۵۔ ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبدالرحمن۔ تین بھتیجے: ربیعہ، عمرو، عبداللہ۔

        ۶۔ ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے حضرت عبدالرحمن بن حویطب اور ان کے بیٹے عبدالملک۔

        ۷۔ عشرہ مبشرہ میں شامل حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹے زید اور تین بھتیجے: ابان، عیاض، محمد۔

        ۸۔ عشرہ مبشرہ میں شامل سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے: عمیر اور عمرو۔ تین بھتیجے: اسحاق، عمران اور محمد۔

        ۹۔ عشرہ مبشرہ کے رکن حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے بیٹے: عمر (یا عمرو) اور پوتے ابوبکر۔

        ۱۰۔ مشہور صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے پوتے عبداللہ۔

        ۱۱۔ حضرت مِسوَر بن مَخرَمہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد۔

        ۱۲۔ حضرت عُتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبیداللہ۔

                 بنو زَمعہ کے وہب بن عبداللہ، یزید بن عبداللہ، ابوسلمہ بن عبداللہ، مقداد بن وہب، خالد بن عبداللہ۔

        مجموعی طور پر قریش کے "۹۷" قیمتی افراد اس سانحے کی نذر ہوئے۔ رحمهم الله رحمة واسعة

مشہور شہدائے انصار:

        ۱۔ عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کے سات بیٹے، جن میں سے درج ذیل چھے کے نام محفوظ ہیں: عبدالرحمن، حارث، حکم، عاصم، یحییٰ، عبداللہ (آخری دو جڑواں تھے)

        ۲۔قاری کثیر بن افلح رحمہ اللہ، جن سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی کتابت کروا کر محفوظ نسخہ شائع کیا تھا۔

        ۳۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ۔

        ۴۔ حضرت عثمان بن حُنیف رضی اللہ عنہ کے دو لڑکے: سہل اور محمد۔

        ۵۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پانچ بیٹے: سعید، سلیمان، زید، یحییٰ، عبداللہ۔

        ۶۔ حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے چار بیٹے: محمد، عبداللہ، جابر، معاویہ۔ عمارہ۔ گھر کے دیگر افراد کو ملا کر تیرہ۔

        ۷۔ حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے تین پوتے: عبدالرحمن، عثمان، عبدالملک۔

        ۸۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد۔

        ۹۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پوتے اسماعیل۔

        ۱۰۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے: عبداللہ اور یحییٰ۔

        ۱۱۔ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے تین بیٹے: محمد، یحییٰ، عبداللہ۔

        ۱۲۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پوتے نوفل۔

        ۱۳۔ حضرت کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد۔

        ۱۴۔ حضرت رِفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے بیٹے حارث۔

        بنو حارثہ بن حارث کے عبداللہ بن عبدالرحمن بن سہل، کنانہ بن سہل، عبداللہ بن اویس، سہل بن ابی امامہ۔

        انصار کے کل "۷۳" افراد شہید ہوئے تھے۔ رحمهم الله رحمة واسعة

        واقعۂ حرّہ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم سانحہ تھا جس میں مہاجرین و انصار کی آل اولاد کا ایک بہت بڑا اور نہایت گراں قدر حصہ یک لخت فنا ہو گیا۔ اسی لیے سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:

        "پہلا فتنہ شہادتِ عثمان کا وقوع پذیر ہوا تو اس کے نتیجے میں اصحابِ بدر میں سے کوئی باقی نہ رہا۔ پھر دوسرا فتنہ واقعۂ حرّہ برپا ہوا تو اصحابِ حدیبیہ میں سے کوئی نہ بچا۔ پھر تیسرا فتنہ (یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف اموی امراء کی بغاوت) واقع ہوا تو اس کے تھمنے سے قبل لوگوں میں کوئی رمق باقی نہیں رہی ہوگی۔"

شامی لشکر کا اہل مدینہ پر ظلم، شعائر رسالت مآب میں لوٹ مار:

        اہل مدینہ کو شکست دے کر مسلم بن عقبہ شہر میں داخل ہوا تو اس کے ذہن سے اہل مدینہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات محو ہوچکے تھے جن میں اہل مدینہ کی عزت و حرمت کا خاص خیال رکھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: "جس نے اہل مدینہ کو ڈرایا، اللہ اسے ڈرائے گا، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی۔"

        اگر اہل شام کی زور آزمائی صرف میدانِ جنگ میں مقابلے پر آنے والوں تک ہی محدود رہتی تو ایک درجے میں اس کی گنجائش سمجھی  جاسکتی تھی اور کہا جاسکتا تھا کہ وہ اپنے طور پر ایک بغاوت کو کچل رہے تھے، مگر سب سے افسوس ناک بات یہ ہوئی کہ فتح کے بعد مسلم بن عقبہ کی کمان میں شامی سپاہی تین دن تک شہر میں لوٹ مار کرتے رہے۔

        تین دن تک مسجد نبوی میں اذان و اقامت کہنے والا کوئی نہ تھا، فقط سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ مسجد میں پڑے رہتے تھے، جب نماز کا وقت ہوتا تو روضۂ اطہر سے ایک ہلکا سا ترنم سنائی دیتا۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق مدینہ منورہ کے جو صحابہ لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی اہل شام کی سفاکی کا شکار ہوئے۔ مشہور صحابی جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ جو اس وقت بہت بوڑھے اور بصارت سے محروم ہوچکے تھے، لڑائی میں شامل نہ تھے، ان کے گھر کو بھی لوٹا گیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک اونٹ خرید کر انہیں قیمت میں جو دراہم یادینار دیے تھے، ان میں سے کچھ ان کے پاس اب تک آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی یادگار کے طور پر محفوظ تھے مگر اس سانحے میں شامیوں نے ان سے یہ متاعِ عزیز بھی لوٹ لی۔

        اس سانحے کے دن ہی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے دو بیٹوں: محمد اور عبدالرحمن کا سہارا لیے جا رہے تھے کہ اچانک انہیں ایک پتھر سے ٹھوکر لگی، تو وہ یکدم بولے: "ہلاک ہو وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دہشت زدہ کیا۔"

        صاحبزادے بولے: "ابا جان کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دہشت زدہ کرسکتا ہے؟"

        صحابیِ رسول نے اپنے دونوں پہلوؤں پر ہاتھ رکھ کر کہا: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، جس نے اس انصار کے قبیلے کو دہشت زدہ کیا، اس نے میرے ان دونوں (پہلوؤں) کے درمیان کی شے (دل) کو دہشت زدہ کیا۔"

        مدینہ منورہ میں خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ بہت سے لوگ جان و عزت کے خوف سے شہر سے نکل کر پہاڑوں اور جنگلوں میں روپوش ہو گئے تھے۔ شامی سپاہی ایسے لوگوں کو تلاش کر رہے تھے۔ ان میں نامور فقیہ صحابی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ وہ ایک غار میں  پناہ لیے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے انہیں دیکھ لیا اور جا کر کسی شامی سپاہی کو بتا دیا۔ وہ تلوار سونتنے غار کے دہانے پر آ دھمکا اور آواز لگائی: "باہر نکلو۔"

        حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی تلوار سنبھالی اور فرمایا: "میں نہیں نکلوں گا۔ تو اندر آیا تو تجھے ماروں گا۔"

        مگر جب شامی اندر گھسا تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فکرِ آخرت سے مجبور ہو کر اپنی تلوار زمین پر پھینک دی اور فرمایا:"لے!میرے اور اپنے گناہ سمیٹ کر جہنمی بن جا۔" وہ شرمندہ ہو گیا اور بولا:"کیا آپ ابوسعید خدری ہیں؟"

        فرمایا: "ہاں"...... وہ بولا: "میرے لیے استغفار کریں۔" فرمایا: "اللہ تجھے معاف کرے۔"

        ایسا بھی نہیں تھا کہ مدینہ میں ہر ہر مکان کو لوٹا گیا ہو۔ چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت زین العابدین اور دیگر کئی اکابر اور ان کے متعلقین محفوظ رہے۔ اس کے باوجود اتنی لوٹ مار ہوئی کہ شہر میں قحط کی صورت حال   پیدا ہوگئی تھی۔ اشیائے خورد و نوش کے عام آدمی کی دسترس کے باہر ہونے کے باعث لوگ مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے انہیں اہل مدینہ کے لیے شفاعتِ نبوی کی بشارت سنائی تاکہ وہ نقل مکانی سے رک جائیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بعض متعلقین نے بھی نقل مکانی کی اجازت مانگی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مدینہ میں رہائش کے فضائل سنا کر انہیں بمشکل روکا۔

کیا شامی سپاہی کافر تھے؟

        یہ بات ظاہر ہے کہ شامی سپاہ کافر نہیں مسلمان ہی تھے۔ ان میں کچھ نیک و صالح افراد کی شمولیت کا امکان بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا جو اس مہم کو خلافتِ اسلامیہ کے استحکام کا ذریعہ سمجھ کر شریک ہوئے ہوں ۔ جبکہ عام سپاہی تنخواہ، انعام اور غنیمت کے لیے آئے تھے۔ بظاہر لوٹ مار ان عام سپاہیوں نے کی تھی جن کا مقصد ہی مادی مفاد تھا۔ جب انہیں لوٹ مار کی اجازت دے دی گئی تھی تو وہ پیچھے نہ رہے کیوں کہ وہ پہلے ہی اہل مدینہ کو باغیوں کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ بہرحال یہ لوٹ مار نہایت افسوس ناک اور شرعاً بالکل ناجائز تھی۔ خصوصاً اس لیے کہ شہر مدینہ کا ادب و احترام واجب تھا۔

مسلم بن عقبہ کا زبردستی بیعت لینا:

        فتح کے نشے میں چور مسلم بن عقبہ مدینہ منورہ میں داخل ہوا اور لوگوں سے یزید کی اطاعت پر بیعت لی۔ اس کارروائی میں بھی اس نے بڑی سختی دکھائی۔ جن پر بغاوت میں ملوث ہونے یا لڑنے والوں کا ساتھ دینے کا شبہ تھا ان سب کو جمع کر کے اعلان کیا: "اس بات پر بیعت کرو کہ تم یزید بن معاویہ کے غلام ہو۔ وہ تمہارے گھروں اور جان ومال کے بارے میں جو چاہے فیصلہ کرے گا۔"

        عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سگے بھانجے تھے۔ وہ بھی مسلم بن عقبہ کے پاس بیعت کے لیے آئے۔ اگرچہ وہ یزید بن معاویہ کے پرانے دوست تھے، پھر بھی مسلم بن عقبہ نے ان کے ساتھ سخت برتاؤ کیا اور کہا:

        "اس بات پر بیعت کرو کہ تم امیر المؤمنین کے غلام ہو۔ وہ تمہارے خون، تمہارے گھر والوں اور مال کے بارے میں کچھ بھی فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔"

        عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ بولے: "میں کتاب اللہ اور سنت نبوی کی  پیروی پر بیعت کرتا ہوں۔"

        مسلم بن عقبہ نے حکم دیا کہ انہیں بھی قتل کر دیا جائے۔ مروان بن حکم نے لپک کر عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کو خود سے چمٹالیا اور جان بخشی کی سفارش کی مگر مسلم بن عقبہ نے ایک نہ سنی اور عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرا دیا۔

        مسلم بن عقبہ، مدینہ کے جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ کو بھی قتل کرنے کے درپے تھا مگر مروان بن حکم نے قسم کھا کر اسے یقین دلایا کہ یہ ایک مجنون آدمی ہے، تب ان کی جان بچی۔

ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یزید کی بیعت کو "بیعتِ ضلالت" قرار دینا:

        بیعت کے لیے ان لوگوں کو بھی بلوایا گیا تھا جو خروج میں بالکل شریک نہ تھے۔ اس پر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سمیت مدینہ کے بزرگ صحابہ سخت رنجیدہ تھے اور ایسی جبری بیعت کو "بیعتِ ضلالت" قرار دیتے تھے۔

        جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل صحیح السند روایت قابلِ غور ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

        "جب مسلم بن عقبہ مدینہ آیا تو لوگوں سے بیعت لی، یہ واقعہ حرّہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ مسلم بن عقبہ کے پاس بنو سلمہ بھی آئے۔ وہ بولا: میں تم سے بیعت نہیں لوں گا جب تک جابر نہیں آ جاتے۔ جابر فرماتے ہیں، میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلا گیا تاکہ ان سے مشورہ لوں۔ وہ بولیں: میں یقیناً اسے بیعتِ ضلالت قرار دیتی ہوں، مگر میں نے اپنے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ کو بھی حکم دیا ہے وہ اس کے پاس جائے اور بیعت کر لے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پس میں نے بھی جا کر بیعت کر لی۔"

        در حقیقت واقعۂ حرّہ میں مسلم بن عقبہ کا کردار اس قدر افسوس ناک تھا کہ اس کی کوئی توجیہ ممکن نہیں، اسی وجہ سے اسلاف اسے "مُسرِف بن عقبہ" کہہ کر یاد کرتے رہے ہیں۔

کیا شامی لشکر نے عزّتیں لوٹی تھیں؟

        مشہور ہے کہ شام کے لشکر نے مدینہ کی مستورات کی عزّتیں لوٹی تھیں۔ مگر قدیم تاریخی مآخذ: تاریخِ طبری، طبقات ابن سعد، انساب الاشراف، بلاذری اور تاریخِ خلیفہ میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں۔ واقدی اور ابو مخنف نے بھی ایسی کوئی روایت نقل نہیں کی۔ یہ اضافہ یا تو المدائنی کی ایک روایت میں ملتا ہے جس میں مذکور ہے:

        "واقعۂ حرّہ کے بعد، ایک ہزار عورتوں کے نکاح کے بغیر بچے ہوئے۔"

        دوسرے اسے امام بیہقی نے مغیرہ بن مقسم (م ۱۳۶ھ) سے یوں نقل کیا ہے:

        "مغیرہ کا گمان ہے کہ اس موقع پر ایک ہزار کنواری لڑکیوں سے زنا کیا گیا۔"

        عقلی لحاظ سے دیکھئے تو اس دور میں ایسا واقعہ ہونا بہت ہی بعید تھا کیوں کہ مسلمانوں کے لشکر بارہا کفار کے شہروں پر قابض ہوئے، وہاں بھی عورتوں سے کبھی ایسا سلوک نہیں کیا تو ایک اسلامی شہر اور وہ بھی مدینہ منورہ میں ایسے اجتماعی گناہ کا مظاہرہ وہ کیسے کرتے؟! ہاں اکا دُکا بعض بدبختوں نے ایسی حرکات کی تھیں جیسا کہ ام الہیثم بنت یزید سے مروی ہے کہ ان کے سامنے ایک خاتون نے "یوم الحرّہ" کے دن اپنی عصمت لٹنے کا ذکر کیا تھا۔

        ایک روایت میں ہے کہ عبداللہ بن مطیع رضی اللہ عنہ ایک گھر میں روپوش تھے۔ ایک شامی سپاہی نے وہاں گھس کر خاتونِ خانہ سے بدکاری کی کوشش کی تو عبداللہ بن مطیع رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ نہ صرف حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بلکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی جزوی طور پر عصمت دری کے واقعات کو مانا ہے۔

        بہر کیف عمومی عصمت دری ثابت نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جیسے حضرات کا موقف بھی بدل جاتا حالاں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما واقعۂ حرّہ کے بعد بھی عبداللہ بن مطیع رضی اللہ عنہ کو مکہ جانے سے روک رہے تھے اور حکومت کی اطاعت کی تلقین کر رہے تھے۔


واقعۂ حرّہ پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا تأثر:

        واقعۂ حرّہ  پیش آیا تو بعض صحابہ کرام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ تنبیہات یاد آگئیں۔ ان کے نزدیک یزید بن معاویہ ان وعیدوں کا مصداق تھا۔ مدینہ منورہ کے ثقہ راوی ابو عبداللہ قراظ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یزید بن معاویہ کے بارے میں یہ کہتے سنا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص اس شہر یعنی مدینہ کے باشندوں سے کسی برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے یوں گھلا دے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔"

واقعۂ حرّہ پر یزید کا تأثر:

        واقعۂ حرّہ پر یزید کی طرف سے مسلم بن عقبہ کے مظالم کی مذمت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ البتہ ایک روایت میں ہے کہ اس نے اہل مدینہ کی تکالیف پر رنج و افسوس کا اظہار کیا تھا۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

        "جب یزید کو اس واقعہ (حرّہ) کی خبر ملی تو اس نے کہا: 'ہائے میری قوم!' پھر ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: 'اہلِ مدینہ پر جو گزری وہ تمہیں معلوم ہے۔ بتاؤ اس کی تلافی کی کیا صورت ہوگی؟' وہ بولے: 'نقد اور مالی امداد۔' یزید نے اہل مدینہ کے لیے خوراک کی رسد بھیجنے کا حکم دیا اور ان کے لیے مالی امداد جاری کر دی۔"

ظلم، کفر  یا منافقت:

        یہ ثابت نہیں کہ یزید کا مدینہ یا مکہ پر لشکر کشی کا حکم دینا اور مسلم بن عقبہ کا حملہ کرنا کسی کفر و نفاق کے جذبے پر مشتمل تھا بلکہ بظاہر  یہ سب ہوسِ اقتدار کا کیا دھرا تھا۔ یعنی یہ لوگ کسی طرح اپنے اقتدار اور اپنی حکومت کی بالا دستی کو باقی رکھنا چاہتے تھے۔ ان کے خلاف کھڑے ہونے والے بلاشبہ بڑے جلیل القدر، نیک اور بزرگ تھے، مگر حکومت کی نگاہ میں قانوناً باغی تھے جن کے خلاف تلوار کا استعمال کرنا حکمران اپنا آئینی حق سمجھتے تھے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سرکاری لوگ جس حد تک مظالم کے مرتکب ہوئے، انہیں اسی حد میں رکھنا چاہیے۔ ان مہمات میں جو افسوس ناک واقعات  پیش آئے ان پر اہلِ ایمان کا غمزدہ ہونا فطری بات اور ان کی مذمت کرنا لازمی ہے، مگر ان سانحوں کو حکام کی تکفیر، بے دینی یا منافقت کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

        بہر حال علمائے امت نے یزید اور اس کے حکام کے اس طرزِ عمل کو کبھی درست نہیں سمجھا بلکہ اس کی پرزور مذمت کی ہے۔ جو حضرات یزید یا اس کے حکام کے مظالم کا شکار ہوئے وہ انتہائی قابلِ احترام تھے۔ ان میں جو لڑتے ہوئے قتل ہوئے وہ ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر، نیک جذبے کے ساتھ، ایک شرعی تأویل کی بناء پر لڑ رہے تھے۔ اس لیے علمائے امت ان کے لیے مقامِ شہادت، اخروی درجات اور اجر و ثواب کی امید رکھتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic