عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور یزید
ان تمام حوادث کے دوران صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کی چاردیواری میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ انہیں توقع تھی کہ کم از کم کائنات کے اس مقدس ترین گوشے میں وہ مامون رہیں گے، مکہ معظمہ میں سال کے چار ماہ حاجیوں اور باقی ایام میں عمرہ کے زائرین اور عبادت گزاروں کا ہجوم رہنے کی وجہ سے بھی یہ امید کی جاسکتی تھی کہ حکومت یہاں کوئی مسلح کارروائی کرنے کی کوشش کر کے بدنامی مول نہیں لے گی۔ چنانچہ انہوں نے اپنا لقب "العائذ باللہ" یا عائذ بیت اللہ (اللہ کے گھر میں پناہ لینے والا) رکھ لیا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا اٹل موقف جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تھا، اب بھی برقرار تھا کہ مسلم معاشرے میں انتقالِ اقتدار موروثیت نہیں شورائیت پر استوار ہونا چاہیے، جس میں مہاجرین و انصار اور افاضلِ امت کا اہم کردار ہو۔ اگرچہ جمہور صحابہ حالات کے پیشِ نظر اس مسئلے میں خلافِ افضل صورت کو برداشت کرنے کی گنجائش محسوس کرتے تھے مگر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی علمی عبقریت اور اتباعِ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر معمولی جذبے کے باعث سیاسی نظام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ پیمانے پر قائم کرنا چاہتے تھے۔ یہی موقف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا بھی رہا تھا۔
یزید نے مسندِ خلافت پر بیٹھنے کے بعد جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو بیعت پر مجبور کرنے کی کوشش کی تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو فوری طور پر راتوں رات مدینہ چھوڑنا پڑا۔ جب وہ مکہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو یزید نے ولید بن عتبہ کو اس کوتاہی کا ذمہ دار سمجھتے ہوئے برطرف کر دیا اور عمرو بن سعید کا تقرر کیا۔
صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو مکہ آنے کے بعد بھی بنو امیہ کے حکام کی طرف سے مسلح کارروائی کے خدشات ضرور لاحق تھے۔ چونکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ مکہ کو خونریزی کے امکانات سے بھی بچانا چاہتے تھے، اس لیے یہاں مطمئن نہ رہے اور کوفہ جانے سے پہلے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
"کہیں اور قتل ہو جانا مجھے پسند ہے مگر حرم میں خونریزی گوارا نہیں۔"
اس کشیدہ فضا میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ اہل عراق کی حمایت کے ذریعے نظامِ حکومت کی اصلاح کی کوشش میں کامیابی کی امید لیے کوفہ روانہ ہو گئے اور وہاں ناسازگار حالات کا سامنا کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ ہی میں مقیم رہے۔ ان کی بلند پایہ شخصیت، محبوبیت اور مکہ مکرمہ کی حرمت کے علاوہ خود اپنی کمزوری کے پیشِ نظر حکام کچھ مدت تک ان پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کرتے رہے۔ اس دوران عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس پر اکتفا کیا کہ کوئی انہیں ان کے فتوے اور ضمیر کے خلاف بیعت کرنے پر مجبور نہ کرے۔ وہ حرم میں پناہ لے کر بہتر حالات کے منتظر رہے۔ وہ دن بھر خانہ کعبہ کا طواف کرتے، نوافل پڑھتے اور اکثر اوقات عبادت میں گزارتے۔ نہ وہ کسی کی مخالفت کرتے تھے نہ کوئی ان پر وار کرتا۔
عمرو بن سعید کی مکہ پر فوج کشی:
تاہم حکومت برابر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر قابو پانے کی فکر میں تھی۔ ان کے مکہ پہنچنے کے صرف ایک ماہ بعد رمضان ۶۰ھ میں حجاز کے نئے اموی گورنر عمرو بن سعید نے مسجدِ نبوی کے منبر پر عوام سے پہلا خطاب کرتے ہوئے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر کڑی تنقید کی اور نہایت سختی سے کہا: 'اُس نے مکہ میں پناہ لی ہے تو کیا ہوا، اللہ کی قسم! ہم وہاں بھی اس پر حملہ کریں گے اور اگر وہ مکہ میں داخل ہو چکا ہے تو مکہ کو اس کے گرد جلا دیں گے، چاہے کسی کی ناک کٹے تو کٹے۔
مدینہ یا مکہ میں موجود سرکاری اہلکاروں کی مختصر نفری عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جیسی مقبول اور محترم شخصیت کو نہیں پکڑ سکتی تھی۔ یہ کام ایک بڑی فوجی کارروائی کے بغیر ممکن نہ تھا اور یزید کی حکومت جو اس وقت خود ڈگمگا رہی تھی، اس کی متحمل نہیں تھی۔ اگر دمشق میں کوئی بڑی فوج جمع کر لی جاتی تب بھی یہ کام فوراً نہیں ہوسکتا تھا کیوں کہ مکہ جیسے غیر پیدااواری علاقے میں کسی لشکر کا پڑاؤ ڈالنا کمک اور رسد کی طویل اور مضبوط لائن قائم کیے بغیر ممکن نہ تھا۔
یزید کی حکومت کو قدم جمانے اور عسکری کارروائیوں کی طاقت پکڑنے میں کچھ وقت لگ گیا۔ پھر کارروائی کے لیے سوچ بچار، فیصلے اور تیاری میں بھی کچھ دن لگے۔ اس کے بعد حرم کے تقدس یا کسی شخصیت کے مقام و مرتبے کو سامنے رکھے بغیر عمرو بن سعید نے اپنے کہے پر عمل کیا اور دو ہزار افراد کا ایک لشکر مکہ روانہ کیا۔ اس وقت ایک صحابی ابو شریح رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعید کو منع کرتے ہوئے بڑے دلنشین انداز میں کہا:
"یا امیر! اگر اجازت ہو تو ایک حدیث سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بذاتِ خود اپنے کانوں سے سنی، اپنی آنکھوں سے دیکھی اور اپنے دل میں اسے محفوظ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکہ کو اللہ نے محترم بنا دیا ہے۔ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے کے لیے جائز نہیں کہ یہاں خون بہائے بلکہ یہاں کا درخت تک اکھاڑے۔"
صحابی کی اس نصیحت آمیز گفتگو اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں عمرو بن سعید نے بڑی سختی سے کہا:
"ابو شریح! میں تم سے زیادہ جانتا ہوں کہ مکہ کسی گناہ گار، کسی مفرور قاتل اور کسی مفرور مجرم کو نہیں بچا سکتا۔"
عمرو بن سعید کا لشکر مکہ پہنچا تو مکہ کے شہری عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دستِ راست عبداللہ بن صفوان کی قیادت میں جمع ہو گئے اور مقابلے میں بڑی پامردی دکھائی۔ آخر کار عمرو بن سعید کا لشکر ناکام واپس آیا۔
اس مہم کی ناکامی پر عمرو بن سعید کے مخالف امراء نے یزید کو یقین دلایا کہ عمرو بن سعید نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف کارروائی میں کوتاہی کی ہے۔ چنانچہ یزید نے عمرو بن سعید کو ہٹا کر دوبارہ حجاز میں ولید کا تقرر کر دیا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شخصیت کی منفی عکاسی:
مؤرخین نے صحیح اور ضعیف کا فرق کیے بغیر ایسی درجنوں غلط روایات کو قبول کر لیا جو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ایک فتنہ پرور، طالبِ اقتدار اور عاقبت نااندیش قائد کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ حالاں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فسادی تھے نہ اقتدار کے حریص۔ انہوں نے یزید کی موت تک خلافت یا حکمرانی کا دعویٰ بھی نہیں کیا تھا۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرح آپ کا مقصد بھی امت کی صحیح سیاسی رہنمائی تھا۔ آپ اپنی تقاریر میں فرماتے تھے:
"اللہ کی قسم! میری نیت اصلاح اور حق کی اقامت کے سوا کچھ نہیں۔"
آپ نہ تو خود کو امیر یا خلیفہ کہلواتے تھے نہ اپنی حکمرانی کی دعوت دیتے تھے بلکہ آپ اس موقف کو عام کرتے تھے کہ امتِ مسلمہ میں اقتدار کا محور شورائیت ہونا چاہیے اور مجلسِ شوریٰ کو نظامِ حکومت میں سب سے فعال اور بااختیار مقام ملنا چاہیے۔ حجاز کے اکثر لوگ دل و جان سے آپ کے ساتھ تھے اور خود آپ سے بیعت لینے پر اصرار کرتے رہے تا کہ آپ حکمران کے طور پر حجاز کا نظام و نسق سنبھال لیں مگر آپ اتنے بے لوث تھے کہ انکار فرماتے رہے۔ مگر اس قسم کی خبروں نے یزید کو ضرور فکر مند کر رکھا تھا اور اسے اپنی ڈگمگاتی حکومت کے چھن جانے کا سخت خطرہ تھا۔
یزید کی پیش کش:
مکہ پر ناکام حملے کے بعد یزید نے یکدم لچک دار رویہ اپنا لیا۔ اس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ اور ہمام بن قبیصہ جیسے دو معززین کو بھیجا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پیش کش کریں کہ وہ اگر بیعت کر لیں تو انہیں پورے حجاز کی ولایت دے دی جائے گی۔ اور وہ اپنے خاندان کے کسی فرد کو جہاں کا چاہیں حاکم مقرر کرا سکتے ہیں۔
اگر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا مقصد حکومت حاصل کرنا ہوتا تو ان کے لیے اس سے بہتر موقع اور کوئی نہ تھا، مگر وہ ایک اصول کی بنیاد پر یزید سے اختلاف کر رہے تھے۔ لہذا انہوں نے یہ پیش کش مسترد کر دی۔
بعض حضرات نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے انکار کو بے تدبیری پر محمول کیا ہے مگر یہ درست نہیں۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا یزید سے بیعت نہ کرنا اپنے اجتہاد اور فتوے کی رو سے تھا اور اس وقت نہ صرف یہ کہ بیعت سے احتراز کی اصل وجہ یعنی اقتدار میں موروثیت اور ایک خاندان کی اجارہ داری جوں کی توں تھی بلکہ کربلا کے سانحے کے باعث حکومت کی کارکردگی پر مزید کئی سوالیہ نشان لگ چکے تھے جن میں یزید کو براہِ راست ملوث نہ بھی مانا جاتا، پھر بھی نرم سے نرم الفاظ میں اس کی حکومت کو ناکام ہی شمار کیا جاسکتا تھا۔
علاوہ ازیں یزید کے فسق و فجور کی خبریں بھی مشہور ہوچکی تھیں، خصوصاً حجاز میں ان خبروں کو یقینی حیثیت مل چکی تھی (اہلِ مدینہ کا خروج اسی یقین کی وجہ سے ہوا تھا)۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی مجتہدانہ رائے کی بناء پر فاسق حکمران کو بزورِ قوت برطرف کرنے کی کوشش واجب تصور کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو یزید کی حکومت کا حصہ بننا گوارا نہ تھا۔
یزید کی قسم:
یزید جو بہر صورت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قائل کرنا چاہتا تھا، اس پیش کش کے مسترد کیے جانے پر سخت غضب ناک ہوا۔ اس نے طیش میں آ کر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تذلیل کا فیصلہ کر لیا اور قسم کھا لی کہ اب وہ ان کی بیعت اسی وقت قبول کرے گا جب انہیں ہتھکڑی اور گلے میں طوق پہنا کر لایا جائے۔ یزید کے مشیر اسے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سخت سلوک سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ یزید کے بیٹے معاویہ نے بھی منع کیا اور کہا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ایسی ذلت کبھی قبول نہیں کریں گے۔ معاویہ نے اپنی تائید کے لیے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے بھی سفارش کروائی مگر یزید کا فیصلہ اٹل تھا۔ یزید نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا:
"میں تمہیں چاندی کی زنجیر، سونے کی ہتھڑیاں اور چاندی کی ہتھڑیاں بھیج رہا ہوں۔ میں نے قسم کھائی ہے کہ تم یہ پہن کر میرے پاس آؤ گے۔"
یزید کی طرف سے عبداللہ بن مسعدہ فزاری رضی اللہ عنہ اور ابن عِضاء اشعری قید و بند کے یہ زیور لے کر مکہ روانہ ہوئے۔ یزید نے انہیں ایک ٹوپی دار جبہ (بُرنُس) بھی دیا تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو طوق و زنجیر پہنانے کے بعد اوپر سے یہ جبہ اوڑھا دیا جائے تا کہ ان کا پردہ رہے۔
اگرچہ یزید کی طرف سے کہا گیا تھا کہ یہ اقدام محض خلیفہ کی قسم پوری کرنے کے لیے ہے مگر ظاہر ہے کہ اصل مقصد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرنا ہی تھا۔ ورنہ اگر یزید چاہتا تو اس کے لیے قسم کا کفارہ دے دینا کیا مشکل تھا۔
یزید کے سفیر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ملے۔ ابن عضاء نے کہا:
"خلیفۂ مظلوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی نصرت و حفاظت میں آپ کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں مگر امیر المؤمنین یزید کو غصہ اس بات پر آیا ہے کہ آپ نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی وساطت سے بھیجی گئی پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ اس لیے امیر المؤمنین نے قسم کھائی ہے کہ آپ کو ہلکی پھلکی ہتھکڑی لگا کر ان کے پاس حاضر کیا جائے۔"
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس ذلت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: "اللہ اس کی قسم پوری نہ ہونے دے۔"
پھر یہ اشعار پڑھے:
إِنِّي لَمِنْ نَبْعَةٍ صمٍّ مَکَاسِرُهَا ... إِذَا أَنَا وَحتِ الْقَصبَاءُ وَالْعَشَر
"میں وہ شاخ ہوں جو جھکانے میں بہت سخت ہے چاہے بڑے بڑے درخت جھک جائیں۔"
وَلَا أَلِيْنُ لِغَيْرِ الْحَقِّ أَسْأَلُهٗ ... حَتّٰى يَلِينَ لِضرْسِ الْمَاضِغِ الْحَجَر
"میں جس حق کا سوالی ہوں اس کے بغیر نرم نہیں ہوسکتا، چاہے کسی چبانے والے کی داڑھ میں پتھر نرم پڑ جائے۔"
یہ کہہ کر فرمایا: "اللہ کی قسم! عزت کے ساتھ تلوار کا وار سہہ لینا ذلت کے ساتھ کوڑے کھانے سے بہتر ہے۔"
آخر میں فرمایا: "اللہ کی قسم! میں کبھی یزید کی بیعت کروں گا نہ اس کے حلقۂ اطاعت میں داخل ہوں گا۔"
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سمجھوتے سے گریزاں کیوں رہے؟
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ آخر میں یزید کے پاس جانے کے لیے تیار ہو گئے تھے تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سمجھوتے سے کیوں گریزاں رہے؟
در اصل اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نزدیک اُن حالات میں یزید سے ملے بغیر نظام کی اصلاح کی کوئی اور ممکنہ صورت نہیں رہی تھی۔ اس کے علاوہ یزید کی طرف سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر براہِ راست کوئی عتاب نہیں آیا تھا اس لیے وہ اس سے مناسب سلوک کی امید رکھ سکتے تھے۔ مگر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ براہِ راست یزید کے عتاب کی زد میں تھے۔
نیز واقعۂ کربلا کے وقت یزید کے فسق و فجور کا مسئلہ ویسا ظاہر نہ تھا جیسا بعد میں موضوعِ بحث بنا۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی یزید کا فسق و فجور یقینی تھا اور جمہور کے برعکس ان کا اجتہاد یہی تھا کہ فاسق آدمی حکمرانی کا اہل نہیں رہتا اور اس کے خلاف خروج ضروری ہوتا ہے اور اس پر "خروج منھی عنہ" کا اطلاق نہیں ہوتا۔
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے گرفتاری نہ دینے کے بعد مکہ معظمہ میں حالات ایسے بن گئے کہ شہر عملی طور پر ان کے عقیدت مندوں کی گرفت میں آ گیا۔ نواسۂ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے گرد جانثاروں کے مسلح پہرے کی وجہ سے شہر میں ایک متبادل طاقت ابھر آئی اور مقامی اموی حاکم کا رعب داب جاتا رہا۔
مکہ میں یہ صورتحال تھی اور ادھر ۶۳ھ میں اہل مدینہ نے اموی حاکم عثمان بن محمد کو شہر سے نکال کر اپنی شورائی حکومت قائم کر دی جس کی وجہ سے دمشق کا رابطہ مکہ سے بالکل کٹ گیا، اور مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے عقیدت مندوں کی گرفت مضبوط ہو گئی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں مِسوَر بن مَخرَمہ رضی اللہ عنہ، مُصعَب بن عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن صفوان اور جبیر بن شیبہ کی چار رکنی شوریٰ نے حالات کو سنبھال لیا۔ اہل حجاز پر قابو پانے کے لیے یزید نے لشکر بھیجا تو سانحۂ حرّہ رونما ہوا جس نے عوام کو حکومت کے خلاف مزید مشتعل کر دیا۔
شامی لشکر کا حرمِ مکہ پر حملہ:
حرّہ کی لڑائی کے تین دن بعد مسلم بن عقبہ نے اپنے لشکرِ جرار کے ساتھ مکہ کی طرف کوچ کیا۔ مگر وہ بیمار تھا۔ راستے میں مرض کی شدت بہت بڑھ گئی اور بچنے کی امید نہ رہی۔ سات محرم کو وہ ابواء کے قریب مر گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے یزید کی ہدایت کے مطابق حُصین بن نُمَیر کو بلا کر اپنی جگہ لشکر کا امیر مقرر کر دیا تھا اور اسے سختی سے کہا تھا: "قریش سے ہوشیار رہنا اور ان سے منافقت کا معاملہ کرنا،" پھر اس نے حکم دیا: "مکہ پہنچ کر مورچے سے بنانا، حملہ کرنا اور واپس ہو جانا۔ کسی قریشی کے مشورے پر کان نہ دھرنا۔" اسے ڈر تھا کہ قریشی رؤساء اپنے اثر و رسوخ سے جنگ نہ رکوا دیں۔حُصین بن نُمَیر ۲۶ محرم ۶۴ھ کو شامی لشکر کے ساتھ مکہ پہنچ گیا۔ ادھر اہلِ مکہ نے بھی اپنے دفاع کے لیے تیاری کر لی۔ کئی دنوں تک ناکام بات چیت کے بعد اتوار ۱۳ صفر ۶۴ھ کو جھڑپوں کا آغاز ہو گیا۔
منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ کی مکہ آمد اور والدہ محترمہ سے ملاقات:
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے عالم فاضل بھائی منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ عراق میں تھے۔ یزید کو ان سے بھی خطرہ محسوس ہوا۔ اس نے عبیداللہ بن زیاد کو ان کی گرفتاری کا حکم نامہ بھیج دیا، مگر عبیداللہ بن زیاد اب یزید سے نالاں ہو چکا تھا لہذا اس نے منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ کو بھاگنے کا موقع دے دیا اور وہ مکہ کے محاصرے سے قبل عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کی آمد پر بڑی مسرت کا اظہار کیا۔
منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ محترمہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بہترین کپڑوں کا ہدیہ پیش کیا، انہوں نے ناراض ہو کر رد کر دیا۔ اب منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عام سا کپڑا پیش کیا۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے خوشی سے قبول کر لیا اور فرمایا: "میں ایسے کپڑے پہنتی ہوں۔"
منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور شہادت:
مکہ کا محاصرہ ہوا تو منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی حُصین بن نُمَیر کے خلاف مزاحمت میں شریک ہو گئے۔ وہ مال دار اور سخی انسان تھے۔ سخاوت کی انتہا یہ تھی کہ دن کو شامیوں سے مقابلہ کرتے اور شب کو ان کی ضیافت کا اہتمام کرتے۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ چالیس سالہ نواسا جبلِ ابو قبیس اور کوہِ قعَیقعان کی بلندی پر شامیوں کے خلاف شمشیر زنی کے جوہر دکھاتا اور ساتھ میں یہ رجز پڑھتا:
لَمْ يَبْقَ إِلَّا حَسَبِيْ وَدِيْنِيْ ... وَصَارِمٌ تَلتَذُ بِه يَمِيْنِيْ
"میری نسبی شرافت اور دین کے سوا کچھ نہیں بچا......
اور سوائے اس تیز دھار تلوار کے جس سے میرے دائیں ہاتھ کو لذت ملتی ہے۔"
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسجد الحرام کے صحن سے نگاہ اٹھا کر انہیں چیتے کی طرح لڑتے دیکھتے تو بے اختیار فرماتے:
هٰذَا رَجُلٌ يُقَاتِلُ عَنْ دِيْنِهٖ وَحَسَبِهٖ۔
(یہ ہے وہ شخص جو اپنے دین اور حسب و نسب کے لیے لڑ رہا ہے۔)
ایک دن ایک شامی نے منذر رضی اللہ عنہ کو دعوتِ مبارزت دے دی۔ دونوں خچروں پر سوار ہو کر نیزوں سے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے۔ ہر ایک کا نیزہ دوسرے کے جسم سے پار ہو گیا۔ منذر رضی اللہ عنہ کے قتل پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو سخت صدمہ ہوا، مگر دل کو تھام کر فقط اتنا فرمایا: "ابو عثمان بھی کام آ گئے۔"
مکہ کی ایک خاتون نے منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت پر بے ساختہ کہا:
قُلْ لِأَبِي بَكْرٍ السَّاعِي بِذمّتہ ... وَمُنْذِرٍ مِثْلِ لَيْثِ الْغَابَةِ الضَّارِي
"ابوبکر سے کہو جنہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ اور منذر سے جو جنگل کے خونخوار شیر کی طرح حملہ آور ہوئے،"
شَدَا فِدًى لَكُمَا أُمِّي وَمَا وَلَدَتْ ... لَا تُوصِلنِي إِلَى الْمَخْزَاةِ وَالْعَارِ
"تم پر میری ماں قربان وہ (تم جیسا) نہ جن سکی، (شاباش کہ) تم نے مجھے ذلت و خواری میں مبتلا نہیں ہونے دیا۔"
حُصین بن نُمَیر کا محاصرہ سخت سے سخت تر:
حُصین رفتہ رفتہ گھیرا تنگ کرتا گیا۔ ربیع الاول کا چاند طلوع ہوا تو وہ مسجد الحرام کی قریبی پہاڑیوں: جبلِ ابو قبیس اور کوہِ قُعَیْقِعَان پر قابض ہو چکا تھا۔ یہاں سے ۳ ربیع الاول کو اس نے منجنیق کے ذریعے محصورین پر سنگ باری شروع کر دی جو اتنی شدید تھی کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے رفقاء، طواف کرنے کے لیے کعبہ کے قریب نہیں آ سکتے تھے۔
مِسوَر بن مَخرَمہ رضی اللہ عنہ اور مُصعَب بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کی شہادت:
اس دوران عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دستِ راست حضرت مِسوَر بن مَخرَمہ رضی اللہ عنہ سنگ باری کی زد میں آ کر شہید ہو گئے۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے مُصعَب بن عبدالرحمن جو فقاہت میں اعلیٰ مقام کے باعث قاضی بھی رہ چکے تھے، ایک تیر سے گھائل ہو کر جاں بحق ہو گئے۔
خارجیوں کے کچھ گروہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا ساتھ دے رہے تھے مگر اس دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں رائے رکھنے پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ان کا اختلاف ہو گیا۔ خوارج حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے تھے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ خوارج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے اس موقف پر ناراضی کا اظہار کیا جس پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے صاف صاف کہا کہ تم گمراہ ہو چکے ہو۔
آخر کار خوارج کا سردار نافع بن ازرق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ کر چلا گیا۔ کچھ لوگوں نے اس پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کم عقل ٹھرایا، ان کا خیال تھا کہ وقتی مصلحت یہی تھی کہ خوارج کے سامنے اپنا موقف نہ بیان کیا جاتا اور انہیں بہلا پھسلا کر ساتھ شامل رکھا جاتا، مگر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اعتقادی مسائل میں صاف گوئی کے قائل تھے۔ اگر اس پر دل برداشتہ ہو کر کوئی ساتھ چھوڑ جائے تو انہیں اس کی پروا نہ تھی۔
کعبہ شریف کی آتش زدگی:
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مسجد الحرام کے صحن میں ایک بڑا خیمہ لگا رکھا تھا جس میں مکہ کی عورتیں مجاہدین کو پانی پلاتیں، کھانا کھلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور دیکھ بھال کرتی تھیں۔ ایک دن حُصین بن نُمَیر نے پہاڑی کی بلندی سے اس خیمے کو دیکھ کر کہا: "اس سے شیر نکل کر مسلسل حملہ کرتے ہیں گویا یہ ان کی کچھار ہے۔ کوئی ہے جو اس خیمے کو نشانہ بنائے"۔ ایک شامی سپاہی نے کہا: "میں کر کے دکھاؤں گا"۔
رات کو اس نے اپنے نیزے کے آگے جلتی ہوئی شمع باندھی، گھوڑے کو ایڑ لگا کر ممکنہ حد تک پہاڑی کی ڈھلوان پر نیچے آیا اور خیمے پر نیزہ دے مارا۔ نشانہ صحیح لگا۔ خیمہ جلنے لگا تو ہوا کے تیز جھونکوں نے شعلوں کا رخ کعبہ کی طرف کر دیا۔ کعبہ کی عمارت (جو اس وقت ۲۷ فٹ اونچی تھی) مسلسل پتھر لگنے سے پہلے ہی شکستہ ہو چکی تھی۔ اب آگ لگنے سے پہلے غلافِ کعبہ سوختہ ہوا، پھر کعبہ کی دیواروں نے جو انینوں کے علاوہ ساج کی لکڑی سے بنی تھیں، آگ پکڑلی۔
یہ حادثہ ہفتہ ۵ ربیع الاول کو وقوع پذیر ہوا۔
کعبہ کی سوختگی نے فریقین کے دل دہلا دیے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ایک کونے میں جا کر گریہ وزاری میں مشغول ہو گئے۔ وہ کہہ رہے تھے: 'یا رب! یا رب! مجھے کیا معلوم تھا کہ ایسا حادثہ ہو گا۔'
لشکرِ شام کا ایک پریشان حال شخص دوڑ کر آیا اور زمزم کے کنارے کھڑے ہو کر چلایا:
"اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، دونوں فریق ہلاک ہو گئے۔"
یزید بن معاویہ کی وفات:
اسی دوران ۱۴ ربیع الاول ۶۴ھ کو ۳۸ سالہ یزید بن معاویہ ۳ سال ۷ ماہ ۲۲ دن کی حکومت کے بعد دنیا سے کوچ کر گیا۔ اس وقت وہ "حوارین" میں مقیم تھا۔ اس کے لڑکے معاویہ بن یزید نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔

