یزید کے احوال کا خلاصۂ بحث
یزید کی ولی عهدی سے اس کے انتقال تک پیش آنے والے اہم تاریخی قضیوں کے متعلق گزشتہ صفحات میں ہم نے جو بحث کی ہے، اس کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ:
۱۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے امت کی بہتری کو سامنے رکھتے ہوئے نیک نیتی کے ساتھ یزید کو جانشین نامزد کیا تھا۔
خلیفہ بننے تک اس کا کردار ایسا قابلِ اعتراض ظاہر نہیں ہوا تھا جیسا بعد میں مشہور ہوا۔
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ تحریر فرماتے ہیں:
"بلاشبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں یزید کا فسق وفجور کسی قابلِ اعتماد روایت سے ثابت نہیں۔"
یزید کو ولی عہد بنانا جواز کی حد میں تھا، اگر چہ امت میں اس سے بہتر اور حکمرانی کے زیادہ اھل افراد بھی موجود تھے۔
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ لکھتے ہیں:
"اس (یزید) کو خلافت کا اھل تو سمجھا جاسکتا تھا، لیکن امت میں ایسے حضرات کی کمی نہیں تھی جو دیانت و تقویٰ اور ملکی انتظام کے اور سیاسی بصیرت کے اعتبار سے بھی یزید کے مقابلے میں بدر جہا بلند مقام رکھتے تھے۔"
یزید کی تخت نشینی کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے شرعی تحفظات اور اجتہاد کی بناء پر اس سے بیعت نہ کی اور اس کی حکومت کو بننے سے روکنے کی جدوجہد کی۔ باقی صحابہ اور تابعین نے دیگر شرعی دلائل کی بناء پر اس کی بیعت کر لی، اگرچہ طبیعی طور پر اہل شام کے سوا، اکثر مسلمان اس سے خوش نہیں تھے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں اور یزید کی حکومت کے دوران بھی اصل نکتۂ اعتراض یہ تھا کہ موروثی حکومت اسلامی شورائیت کی روح کے خلاف ہے، اس لیے نظامِ حکومت قابلِ اصلاح ہے، اسے دوبارہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طرز پر لے جانا ضروری ہے۔ یہ ان حضرات کا مخلصانہ اجتہاد اور فتویٰ تھا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور جمہور صحابہ کرام کے نزدیک بھی افضل صورت وہی تھی جس کے داعی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ و حسین رضی اللہ عنہ تھے مگر ان کے خیال میں تبدیلی کی کوشش سے مزید مفاسد کا خطرہ تھا۔ اس لیے موجودہ حکومت اور نظام سے (جو جواز کی حدود کے اندر تھا) وفاداری نبھانا لازم تھا۔
یزید کے فسق وفجور کی شہرت اس کے خلیفہ بننے کے بعد ہوئی۔ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
"حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو خلیفہ کیا۔ اس وقت یزید اچھی صلاحیت میں تھا۔"
نیز تحریر فرماتے ہیں: "یزید اوّل صالح تھا۔ بعد خلافت کے خراب ہوا۔"
یزید کے فسق وفجور پر یقین کرتے ہوئے اہل مدینہ نے اس کے خلاف خروج کیا، ان کے فقہی مسلک کے مطابق فاسق حکمران کو معزول کرنا واجب تھا۔ ان کے سامنے وہ احادیث تھیں جن میں گناہوں کو ہاتھ کی طاقت سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حضرات اپنے فیصلے میں مجتہد تھے اس لیے ان کی جدوجہد پر حرف گیری نہیں کی جاسکتی۔
جمہور صحابہ و تابعین سمیت امت کی اکثریت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی وجہ سے یزید کی بیعت برقرار رکھی جن میں حکام کی بیعت توڑنے سے منع کیا گیا ہے چاہے وہ ظالم اور فاسق ہوں۔ بعض حضرات ایسے بھی تھے جن کے خیال میں یزید کا فسق ثابت نہ تھا جیسے محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ۔
یزید سے منسوب کفر یہ اعمال اور زنا بالامحارم جیسے الزامات جو ضعیف راویوں سے منقول ہیں، درست نہیں۔ البتہ یزید کے فسق پر علماء کا اتفاق ہے اور اس کی سب سے بڑی اور نا قابلِ تردید دلیل مدینہ کے متعدد صحابہ اور تابعین کا خروج ہے جو فسق یزید پر پختہ یقین کیے بغیر نہیں ہوسکتا تھا۔ نیز اس کا ظلم و ستم بھی فسق کی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔
حکمران بننے کے بعد یزید سے بعض ناروا فیصلے صادر ہوئے جو کئی قومی الیمیوں، سیاسی بحرانوں، ظلم و ستم، رعایا کی ناراضی اور سربراہ کی بدنامی کا سبب بنے مگر ان اقدامات سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا کوئی تعلق نہ تھا کیوں کہ وہ غیب دان نہ تھے۔ یہ سب ان کی وفات کے بعد ہوا تھا۔
یزید کے بڑے غلط سیاسی اقدامات یہ تھے:
1۔ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بیعت لینے پر مصر تھا۔ مصلحت یہ تھی کہ وہ انہیں عزت و اکرام کے ساتھ ان کے فتوے اور ضمیر کے فیصلے کے مطابق زندگی گزارنے دیتا۔ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "انہیں (حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو) یزید کی بیعت نہ کرنے پر قتل کا اندیشہ بلکہ یقین تھا، حالاں کہ خلافت قائم ہو جانے کے بعد بھی ہر فرد پر بیعتِ خلیفہ فرض نہیں۔ صرف اتنا فرض ہے کہ بغاوت نہ کرے۔"
یزید نے انہیں بیعت سے دست کش رہنے کی گنجائش نہ دی، جس کی وجہ سے ان حضرات کو مدینہ چھوڑ کر مکہ میں پناہ لینا پڑی اور بعد میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا سفر کرنا پڑا۔
2 ۔ اس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ جیسے دور اندیش، معاملہ فہم اور تجربہ کار لوگوں کہ جگہ عبیداللہ بن زیاد، عمرو بن سعید اور مسلم بن عقبہ جیسے سخت گیر حکام کو آزمایا اور معاملات کی باگ ڈور انہی کے حوالے کر دی۔ ان لوگوں کے ہاتھوں کربلا، مدینہ اور مکہ میں قتل و غارت کا بازار گرم ہوا۔
3۔ یزید نے ان حکام کے مظالم اور زیادتیوں پر پسِ پشت مذمتی فقرے کہہ دینے سے زیادہ کچھ نہ کیا۔
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی، یزید کے اس طرزِ عمل کے متعلق رقم طراز ہیں:
"اس کی یہ غلطی نا قابلِ انکار ہے کہ اس نے عبیداللہ بن زیاد کو اس سنگین جرم پر کوئی سزا نہیں دی۔"
اس طرزِ عمل کے باعث حکومت بدنام ہوئی اور حکمران بھی۔ اور ہر طرف فساد اور بدامنی کا دور دورہ ہو گیا۔
یزید کے بارے میں اسلاف کی آراء:
یزید سے محبت کا اظہار اور اس کی تعدیل بھی علمائے اسلام کا طریقہ نہیں رہا۔ یزید کے کردار کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ان کے عالی قدر شاگرد امام مہنّٰی بن یحییٰ رحمہ اللہ کی گفتگو قابلِ غور ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
"میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کے بارے میں پوچھا۔
انہوں نے فرمایا: 'وہی تو تھا جس نے مدینہ میں سب کچھ کیا۔'
میں نے کہا: 'اس نے کیا کیا؟' فرمایا: 'مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو قتل کیا اور بہت کچھ کیا۔'
میں نے پوچھا: 'اور کیا کیا؟' فرمایا: 'مدینہ کو لوٹا۔'
میں نے کہا: 'کیا اس سے حدیث نقل کی جاسکتی ہے؟'
فرمایا: 'اس سے حدیث نقل نہ کی جائے۔ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کی کوئی حدیث لکھے۔'
میں نے پوچھا: 'وہ کون تھے جنہوں نے مدینہ میں وہ سب کچھ کیا؟'
فرمایا: 'اہلِ شام۔' میں نے کہا: 'اور اہلِ مصر؟'
فرمایا: 'نہیں۔ اہلِ مصر تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قضیے میں ملوث ہوئے تھے۔'"
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"یزید بن معاویہ نے بعض برے کاموں کا ارتکاب کیا، ان میں سے 'واقعۂ حرّہ' بھی ہے۔"
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ یہ بھی لکھتے ہیں:
"امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے نے کہا: 'کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم یزید سے محبت رکھتے ہیں۔' امام صاحب نے فرمایا: 'کیا کوئی آدمی جس میں کچھ خیر ہو، یزید سے محبت رکھ سکتا ہے؟'"
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"یزید ان لوگوں میں سے ہے جنہیں ہم نہ برا بھلا کہتے ہیں، نہ ان سے محبت کرتے ہیں۔"
شوافع کے نامور عالم شیخ ابن العماد (ابوبکر احمد بن حسین) فرماتے ہیں:
"ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں اور یزید کے باطن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔"
یزید کے فسق پر علماء متفق ہیں:
علمائے اُمت یزید کے فسق پر متفق چلے آ رہے ہیں۔ صفِ اوّل کے چند علماء کی آراء پیشِ خدمت ہیں:
حضرت علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ نے یزید کو 'فاسق، شر پسند، نشہ باز اور ظالم' لکھا ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے بھی یزید کو کھلم کھلا فسق میں مبتلا لوگوں میں شمار کیا ہے۔
علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "یزید بلاشبہ فاسق تھا۔"
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ایک استفتاء کے جواب میں فرماتے ہیں:
"یزید فاسق تھا اور فاسق کی ولایت (حکومت کا انعقاد) مختلف فیہ ہے۔"
علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: "یزید کے فاسق ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔"
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ یزید کے کردار کے بارے میں فرماتے ہیں:
"میں یزید کے فاسق ہونے کے بارے میں کسی تردد کا شکار نہیں ہوں۔ فسقِ یزید کا بنیادی سبب اس کے دورِ امارت کے یہ تین واقعات ہیں......"
اس کے بعد شیخ الحدیث رحمہ اللہ واقعۂ کربلا کے مجرموں کو سزا نہ دینے، حرّہ میں صحابہ کرام اور تابعین کے قتل اور پھر مکہ مکرمہ پر یزید کی لشکر کشی کا مختصر ذکر کرتے ہیں۔ اور اس کے بعد اس شبہے کا نہایت جامع اور محققانہ جواب دیتے ہیں کہ یزید کی بدسیرتی کی تمام روایات تو شیعوں کی پھیلائی ہوئی ہیں۔ حضرت شیخ الحدیث صاحب مرحوم تحریر فرماتے ہیں:
"باقی جہاں تک شیعہ فرقے کی خرافات اور بہتان طرازیوں کا تعلق ہے تو اس سے حضراتِ خلفائے ثلاثہ، حضرت معاویہ اور امہات المؤمنین میں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہن تک مستثنیٰ نہیں۔ روافض نے جب ان اکابر صحابہ کے خلاف ایک طومارتصنیف کر دیا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس فرقے نے یزید کے متعلق کیا کچھ خرافات و ہذلیات نہ وضع کی ہوں گی۔
تاہم متذکرہ تین واقعات تاریخی تسلسل میں متواتر ہیں اور اکابرِ اہلِ سنت نے ان پر اعتماد کیا ہے۔ علمائے اہلِ سنت کو حضراتِ صحابہ کرام کے ساتھ ساتھ حضراتِ اہلِ بیتِ اطہار (جس کے مصداق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواجِ مطہرات، تمام بناتِ طاہرات، اور تمام بنینِ طیبین رضی اللہ عنہم ہیں) کے فضائل و مناقب کو پوری سرشاری اور ایمانی جذبے کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔ اور جو لوگ یزید کی مدح و توصیف بیان کرتے ہیں، ان کا راستہ روکنا چاہیے۔"
یزید کے دورِ خلافت کے بارے میں جو حقائق صحیح روایات کی روشنی میں ثابت ہوئے، وہ ہم نے قارئین کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔ جن باتوں کا ذکر صرف ضعیف روایات میں ہے، اور وہ صحیح روایات سے متعارض ہیں ہم نے ان کی تردید کر چکے ہیں۔ علماء کی آراء بھی قارئین کے سامنے ہیں۔ ان کی روشنی میں صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنا مشکل نہیں۔

