مُعاویہ بن یزید کی خلافت، وفات اور عبداللہ بن زبیرؓ کی دور اندیشی

قسط : 163

مُعاویہ بن یزید

        یزید کا نوجوان  بیٹا مُعاویہ اخلاق و کردار اور سیاست و تدبر میں ہر لحاظ سے قیادت کے لائق تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس وقت بنو امیہ کا کوئی فرد شرافت اور عبادت گزاری میں اس کے برابر نہ تھا۔ یزید نے اس کو ولی عہد بنایاتھا۔    

    اس کی ولادت ۴۳ھ میں ہوئی تھی۔ گوری رنگت، موٹی آنکھوں، اونچی ناک اور گھنگریالے بالوں کے ساتھ وہ نہایت حسین لگتا تھا۔ وہ ایک مدت سے  بیمار تھا۔ منصبِ خلافت سنبھالنے کے باوجود ایک بار بھی ایوان میں نہ آسکا۔ اسے سیاست میں حصہ لینے کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس لیے سابقہ عہدے داروں کو جوں کا توں رہنے دیا۔ ایک قول کے مطابق چالیس دن اور دوسرے قول کے مطابق ڈیڑھ ماہ حکومت کرسکا۔

        مگر یہ مختصر سی مدت اس لحاظ سے قابلِ تحسین ہے کہ اس نے نظامِ حکومت کو اس کی اصل شکل و ہیئت پر لانے کی پوری کوشش کی جو خلفائے راشدین کی اختیار کردہ اور اُمت کی پسندیدہ تھی۔ اس نے سیاسی بحران کے حل کا راستہ بھی نکالا کہ انتقالِ اقتدار کا معاملہ مکمل طور پر مسلمانوں کی رضامندی اور شورائیت پر چھوڑ دیا جائے جیسا کہ اکابرِ مدینہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا موقف بھی یہی چلا آرہا تھا۔

        مرض کی شدت میں جب اس کے بچنے کی امید نہ رہی اور بنو امیہ کے عمائد نے اصرار کیا کہ وہ اپنے بعد کے لیے کسی کو خلیفہ نامزد کر جائے تو اس نے صاف انکار کر دیا۔

        جب امرائے شام نے اسے ولی عهدی کی ضرورت سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے کہا:

        "اللہ مجھ سے اس بارے میں پوچھ گچھ نہیں کرے گا، البتہ تم اتنا کرنا کہ میں مر جاؤں تو ولید بن عُتبہ نمازِ جنازہ پڑھائیں، جب تک خلافت کا مسئلہ حل نہ ہو تب تک ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نمازوں میں امامت کرتے رہیں۔"

        اس کی والدہ نے دودھ کا واسطہ دے کر اس پر زور دیا کہ وہ اپنے بھائی خالد بن یزید کو جانشین بنا دے مگر اس نے عجیب جواب دیا: "میں زندگی میں بھی یہ بارِ گراں اٹھاؤں اور مر کر بھی!! میں ایسا نہیں کروں گا۔"

        یہ وہی جواب تھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بسترِ مرگ پر اس قسم کے اصرار کے جواب میں دیا تھا:

"أَكْرَهُ أَنْ أَتَحَمَّلَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا۔"

        اس فیصلے اور اس جواب سے اندازہ ہوتا ہے کہ مُعاویہ بن یزید کم عمری کے باوجود نہایت مدبر اور دور اندیش انسان تھا۔ اگر زندگی وفا کرتی تو وہ بہت اچھا حکمران ثابت ہوتا۔

        اس کی انگوٹھی کا نقش تھا: باللہ یثق معاویة (معاویہ کو اللہ ہی پر بھروسہ ہے)۔

مُعاویہ بن یزید کی موت کی خبر، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حُصین بن نُمَیر میں جنگ کا خاتمہ:

        یزید بن معاویہ کی وفات ۱۴ ربیع الاول کو ہوئی تھی۔ یہ خبر سترہ دن میں یکم ربیع الآخر  مکہ پہنچی جہاں حُصین بن نُمَیر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حالتِ جنگ میں تھے۔

        دمشق میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے کچھ حمایتی اور خبر رساں موجود تھے جو انہیں فوراً ہر اطلاع پہنچا دیتے تھے۔ اس لیے یزید کی موت کی اطلاع حُصین بن نُمَیر سے بھی پہلے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ملی تھی۔ انہوں نے فوراً اہلِ شام کو پکار کر کہا: "آپ اب کس کی خاطر لڑ رہے ہیں؟ آپ کے سربراہ کی تو وفات ہوگئی ہے۔"

        اہلِ شام کہنے لگے: "اب ہم یزید کے جانشین کی خاطر لڑیں گے۔"

        چالیس دن بعد مُعاویہ بن یزید کی وفات کی خبر بھی آن پہنچی۔ یہ خبر اور اس کی تفصیل بھی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پہلے معلوم ہوگئیں۔ تب انہوں نے اہلِ شام سے کہا: "یزید کے جانشین کی بھی وفات ہوگئی ہے۔"

        اہلِ شام نے کہا: "اب ہم اس کے جانشین کی خاطر لڑیں گے۔"

        عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: "اس نے کسی کو جانشین نہیں بنایا۔"

        حُصین بن نُمَیر کہنے لگا: "اگر آپ جو کہہ رہے ہیں وہ درست ہے تو بہت جلد ہمیں بھی پتہ چل جائے گا۔"

        جب حُصین بن نُمَیر کو سرکاری قاصد سے مُعاویہ بن یزید کی موت کی خبر ملی اور ساتھ ہی یہ تفصیل بھی کہ اب اُمت کا کوئی خلیفہ نہیں ہے، تو اس نے محاصرہ ختم کر کے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔

        وہ خود آ کر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ملا۔ وہ حرم کے کبوتروں کا لحاظ کر رہا تھا، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر بولے: "ان کی اذیت تمہیں برداشت نہیں مگر یہاں مسلمانوں سے لڑنے پر تلے ہو؟"

        حُصین نے نادم ہو کر کہا: "اب میں آپ سے نہیں لڑوں گا۔ ہمیں طواف کا موقع دیں۔ ہم لوٹ جائیں گے۔"

        ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ اور یہ اعلان کرا دیا کہ اہلِ شام میں سے جو چاہے وہ عام مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو جائے جو چاہے واپس چلا جائے۔

حُصین بن نُمَیر کی پیش کش اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی دور اندیشی:

        بلاذری کی صحیح روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ واپسی سے پہلے حُصین بن نُمَیر نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا:

        "میں کل حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان آپ سے اس شرط پر بیعت کر لوں گا کہ آپ شام تشریف لے چلیں اور وہیں رہیں۔ ہم آپ کے دفاع میں آخری سانس تک لڑیں گے۔"

        عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا:

        "میں اپنے ارکانِ شوریٰ سے پوچھے بغیر کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ان سے گفتگو کر کے آپ کو بتا دوں گا۔"

        آپ نے اپنے مشیروں سے رائے مانگی تو وہ بولے: "کیا آپ اللہ کے حرم اور اس کی امان کو ترک کر دیں گے جہاں اللہ نے آپ کی نصرت کی ہے، اس کی بجائے آپ ایسے لوگوں سے ملیں گے جنہوں نے  بیت اللہ پر حملہ کیا؟"

        حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے حُصین کو  پیغام بھیج دیا: "میرے ساتھی شام جانے پر آمادہ نہیں ہیں۔"

        عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کا اہلِ شام پر عدمِ اعتماد ایک فطری سی بات تھی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے یہ ساتھی تعداد میں دو ہزار بھی نہ تھے۔ اگر اس پیش کش کے پسِ پردہ کوئی فریب ہوتا تو شام جاکر سب کے سب مارے جاتے۔ اگر حُصین بن نُمَیر مخلص بھی تھا تب بھی معلوم نہ تھا کہ امرائے دمشق کا رویہ کیا ہوتا؟ 

        ہاں اگر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت اتنا بڑا لشکر ہوتا جس کے ہوتے ہوئے شامی امراء قوت کے لحاظ سے مغلوب ہوتے تو پھر شام جانے میں کوئی مضائقہ نہ ہوتا۔ بصورتِ دیگر احتیاط کی بات یہی تھی کہ آپ مکہ میں رہ کر امرائے شام کی حمایت حاصل کرتے اور آپ نے ایسا ہی کیا۔ مستقبل کے حالات نے گواہی دی کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ بالکل درست اور دور اندیشی پر مبنی تھا۔

عبداللہ بن عمر و بن العاص کا اظہارِ افسوس اور تنبیہ:

        حُصین بن نُمَیر کی واپسی کے کچھ دنوں بعد عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بعض رفقاء کے ساتھ عمرہ کرنے مکہ معظمہ آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ کعبہ سوختہ ہوچکا ہے، اور اس کی دیواروں کے پتھر نہایت خستہ و شکستہ حالت میں ادھر ادھر ہوئے ہیں۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر ان کے رخساروں کو تر کرنے لگے۔ انہوں نے فرمایا:

        "لوگو! اگر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تمہیں یہ بتا دیتے کہ تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے سے قتال کرو گے اور اپنے رب کے گھر کو جلاؤ گے تو تم کہتے کہ ابو ہریرہ سے بڑا جھوٹا کوئی نہیں۔ کیا ہم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کو قتل نہیں کر دیا؟ کیا ہم نے اپنے رب کے گھر کو جلانہیں دیا؟ اللہ کی قسم! تم ایسا کر چکے ہو۔ تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کو بھی قتل کیا، تم نے اللہ کے گھر کو بھی جلایا۔ پس اب تم اس کی سزا کے منتظر رہو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں عبداللہ بن عمرو کی جان ہے، اللہ ضرور تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے آپس میں لڑائے گا اور تمہیں خانہ جنگی کا مزا چکھائے گا۔"

        یہ آخری الفاظ انہوں نے تین بار دہرائے۔ پھر آواز کو مزید بلند کر کے فرمایا:

            "کہاں ہیں نیکی کا حکم دینے والے؟ کہاں ہیں گناہوں سے روکنے والے؟ اس ذات کی قسم! جس کے قبضے میں عبداللہ بن عمرو کی جان ہے، اگر اللہ نے تمہیں گروہوں میں بانٹ کر لڑا دیا اور تمہیں خانہ جنگی میں مبتلا کر دیا تو اس وقت زمین کی تہہ اس شخص کے لیے زمین کی سطح سے بہتر ہوگی جس نے نہ نیکی کا حکم دیا نہ گناہوں سے منع کیا۔"

مزید پڑھیں