آپ کی دعا سے - محبوب راہی | مزاحیہ اردو غزل

آپ کی دعا سے


مظلومیت کا پیکر ہے آپ کی دعا سے 
بندہ بھی ایک شوہر ہے آپ کی دعا سے

فیشن نے اب تو سب کا حلیہ بدل دیا ہے 
 ہر شخص ایک جوکر ہے آپ کی دعا سے

اماں بھی ہیں نمازی ابا بھی متقی ہیں 
 بیٹا جو ہے سولوفر ہے، آپ کی دعا سے

آکاش جس کی چھت ہے دھرتی ہے فرش جس کا 
 اتنا بڑا مرا گھر ہے آپ کی دعا سے

ممی سماج سیوک ڈیڈی ریفارمر ہیں 
 بیٹا بلیک میلر ہے آپ کی دعا سے

بیٹی ہے لکھ پتی کی بھینگی ہوئی تو کیا ہے  میری نظر اسی پر ہے آپ کی دعا سے

لوگوں کے واسطے جو ہے گرم جون جیسی  میرے لیے دسمبر ہے آپ کی دعا سے

تھا دھرم داس پہلے خود بھی غریب لیکن  اب وہ غریب پرور ہے آپ کی دعا سے

کچلا ہوا ہوں میں بھی غمِ ہائے نو بہ نو کا  میرا بھی حال بدتر ہے آپ کی دعا سے

ماموں تو ساٹھ کے ہیں لیکن نئی ممانی  سولہ برس کے اندر ہے آپ کی دعا سے

کچھ دن ہوئے وہ جیبیں لوگوں کی کاٹتا تھا  سنتے ہیں اب منسٹر ہے آپ کی دعا سے

کس کی مجال ہے جو مجھ سے نظر ملائے  سالا مرا کمشنر ہے آپ کی دعا سے

پانچوں ہیں اب تو گھی میں اور سر کڑھائی میں ہے 
 اونچا مرا مقدر ہے آپ کی دعا سے

اک مرض ہے سیاست سب جسمیں مبتلا ہیں 
جو آدمی ہے لیڈر ہے آپ کی دعا سے

پھیلی ہے شاعری بھی اب وبا کی صورت 
 ہر دو میں اک سخنور ہے آپ کی دعا سے

مفلس کا مفلسی سے پتلا ہے حال لیکن 
دل کا بڑا تونگر ہے آپ کی دعا سے

(جناب محبوب راہی)

مزید پڑھیں