ترانہ دارالعلوم دیوبند از مولانا ریاست علی ظفر بجنوری | Tarana Darul Uloom Deoband
ترانہ دارالعلوم، دیوبند
یہ علم و ہنر کا گہوارہ تاریخ کا وہ شہ پارہ ہے
ہر پھول یہاں ایک شعلہ ہے، ہر سرو یہاں مینارہ ہے
خود ساقیِ کوثر نے رکھی میخانے کی بنیاد یہاں
تاریخ مرتب کرتی ہے، دیوانوں کی روداد یہاں
جو وادیِ فاراں سے اٹھی، گونجی ہے وہی تکبیر یہاں
ہستی کے صنم خانوں کیلئے ہوتا ہے حرم تعمیر یہاں
برسا ہے یہاں وہ ابر کرم،اٹھاتھا جوسوئے یثرب سے
اس وادی کا سارا دامن سیراب ہے جوئے یثرب سے
کہسار یہاں دب جاتے ہیں طوفان یہاں رک جاتیں ہیں
اس کاخِ فقیری کے آگے شاہوں کے محل جھک جاتے ہیں
ہر بوند ہے جس کی امرت جل یہ بادل ایسا بادل ہے
سو ساگر جس سے بھر جائیں، یہ چھاگل ایسا چھاگل ہے
مہتاب یہاں کے ذروں کو ہر رات منانے آتا ہے
خورشید یہاں کے غنچوں کو ہر صبح جگانے آتا ہے
یہ صحن چمن ہے برکھا رت ہر موسم ہے برسات یہاں
گل بانگ سحر بن جاتی ہے ساون کی اندھیری رات یہاں
اسلام کے اس مرکز سے ہوئی تقدیس عیاں آزادی کی
اس بامِ حرم سے گونجی ہے سو بار اذاں آزادی کی
اس وادیٔ گل کا ہر غنچہ خورشید جہاں کہلایا ہے
جو رند یہاں سے اٹھا ہے وہ پیر مغاں کہلایا ہے
جو شمع یقیں روشن ہے یہاں، وہ شمع حرم کا پرتو ہے
اس بزمِ ولی الہی میں تنویر نبوت کی ضو ہے
یہ مجلس مے وہ مجلس ہے خود فطرت جس کی قاسم ہے
اس بزم کا ساقی کیا کہیے جو صبح ازل سے قائم ہے
جس وقت کسی یعقوب کی لے اس گلشن میں بڑھ جاتی ہے
ذروں کی ضیا خورشید جہاں کو ایسے میں شرماتی ہے
عابد کے یقیں سے روشن ہے، سادات کا سچا صاف عمل
آنکھوں نے کہاں دیکھا ہوگا اخلاص کا ایسا تاج محل
یہ ایک صنم خانہ ہے جہاں محمود بہت تیار ہوئے
اس خاک کے ذرے ذرے سے کس درجہ شریر بیدار ہوئے
ہے عزمِ حسین احمد سے برپا، ہنگامۂ گیرو دار یہاں
شاخوں کی لچک بن جاتی ہے باطل کے لیے تلوار یہاں
رومی کی غزل، رازی کی نظر، غزالی کی تلقین یہاں
روشن ہے جمالِ انور سے پیمانۂ فخر الدین یہاں
ہر رند ہے ابراہیم یہاں ہر میکش ہے اعزاز یہاں
رندانِ ہدیٰ پر کھلتے ہیں تقدیس طلب کے راز یہاں
ہیں کتنے عزیز اس محفل کے، انفاس حیات افروز ہمیں
اس سازِ معانی کے نغمے دیتے ہیں یقیں کا سوز ہمیں
طیبہ کی مئے مرغوب یہاں دیتے ہیں سفالِ ہندی میں
روشن ہے چراغِ نعمانی، اس بزم کمالِ ہندی میں
خالق نے یہاں ایک تازہ حرم اس درجہ حسین بنوایا ہے
دل صاف گواہی دیتا ہے، یہ خلد بریں کا سایہ ہے
اس بزم جنوں کے دیوانے ہر راہ سے پہنچے یزداں تک
ہیں عام ہمارے افسانے دیوار چمن سے زنداں تک
سوبار سنواراہے ہم نے اس ملک کے گیسوئے برہم کو
اے اہل جنوں بتلائیں گے کیا ہم نے دیا ہے عالم کو
جو صبح ازل تک گونجی تھی فطرت کی وہی آواز ہیں ہم
پروردۂ خوشبو غنچے ہیں، گلشن کے لیے اعجاز ہیں ہم
اس برق تجلی نے سمجھا، پروانہ شمع نور ہمیں
یہ وادیٔ ایمن دیتی ہے تعلیم کلیم طور ہمیں
دریائے طلب ہو جاتا ہے، ہر میکش کا پایاب یہاں
ہم تشنہ لبوں نے سیکھے ہیں، مئے نوشی کے آداب یہاں
بلبل کی دعا جب گلشن میں فطرت کی زباں ہو جاتی ہے
انوار حرم کی تابانی ہر سمت عیاں ہو جاتی ہے
امداد، ورشید واشرف کا یہ قلزم عرفاں پھیلے گا
یہ شجرۂ طیب پھیلا ہے تاوسعت امکاں پھیلے گا
خورشید یہ دین احمد کا، عالم کے افق پر چمکے گا
یہ نور ہمیشہ چمکا ہے، یہ نور برابر چمکے گا
یوں سینۂ گیتی پر روشن، اسلاف کا یہ کردار رہے
آنکھوں میں رہیں انوارحرم سینے میں دل بیداررہے
(از: سلطان الادباء، حضرت مولانا ریاست علی ظفر صاحب بجنوری زید مجدہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند)



