رب کا کہنا مان - غلام ربانی قاصر کی مشہور اصلاحی نظم | Urdu Poetry
رب کا کہنا مان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
دنیا ہی میں کر لے پیارے جنت کا سامان
کر دو خدا کی راہ پہ تن من دھن کو تم قربان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
پہلے نمازی بن جا تو اور ساری برائی چھوڑ
سب سے ناطہ توڑ کے پیارے رب سے ناطہ جوڑ
چار دنوں کی دنیا ہے یہ تو ہے یہاں مہمان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
لڑکوں کے ماتھے پہ چڑھا ہے اب تو تلک کا بھوت
بیوی ٹی وی نقد روپے گاڑی ہو راجدوت
بکنے لگے ہیں جہیزوں کے بازار میں اب انسان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
جم کے مارو باپ کو لاٹھی ماں کو مارو تھاپ
سالی سلج سے پیار کرو اور بہن پہ کھینچو الاپ
ساس سسر کے دھن پہ تکبر کرتا ہے نادان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
بھائی باپ سے جھگڑے لڑکا مارے چچا کو گھونسا
کمزوروں کو مسل مسل کے اڑائے اس کا بھوسا
انسانوں کے بھیس میں انسان ہوگیا اب شیطان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
چوری ڈاکہ رشوت جوار اور زنا ہے عام
چھنتا ہی کے مال سے کھائے گھر میں رزقِ حرام
روزہ نماز کو جیب میں رکھے طاق پہ ہے قرآن
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
مفتی ملا شیخ اور صوفی یا ہو کوئی امام
آج کے جہلاء کرتے ہیں ان لوگوں کو بدنام
چھوٹے بڑے اور اچھے بروں کی کرلے ذرا پہچان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
پہلے دینا اپنے بچوں کو دینی تعلیم
دنیاوی تعلیم سے کیا ہو مذہب کی تعظیم
دین اور دنیا دونوں ملے گی حق پہ رکھ ایمان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
دو پیسوں کا انسان سمجھے خود کو برلا ٹاٹا
کھانے کو دو شام نہیں ہے گھر میں چاول آٹا
بھگ لوٹی سے جان چھڑائے جب آئے مہمان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
نوکری پیشہ والوں کا ہے رشوت سے دل شاد
نیتا افسر ہی کے گھوٹالوں سے ہے وطن برباد
سچ پوچھو تو خطرے میں ہے ان سے ہندوستان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
چغلی غیبت جھوٹ دغا اور ہوتی ہے مکاری
بے شرمی اب عام ہوئی ہے نر ہو یا کہ ناری
مٹی مل گئی، آبرو، عزت، رہ گئی خالی شان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
سنت کہہ کے بدعت کوئی کرتا ہے دن رات
فاتحہ خوانی قیام کو سمجھے فرض و سنن کی بات
تیجہ چہلم کی شدت سے بٹ گیا ہے ایمان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
ایک ہی مسلک ایک خدا ہے اور ہے ایک رسول
ایک ہی قرآن ایک ہی کلمہ پھر بھی کیسی بھول
جانے مسلماں کو کافر کیوں کہتے ہیں نادان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
پوچھو ذرا ان ماں بہنوں سے پردے کا کچھ حال
جاکے مزاروں پر بے پردہ کرتی ہیں تڑیا چال
بال اور بچہ پیر سے مانگے مانگے اپنی جان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
چور پکڑنے والا قاصر خود ہی ہوگیا چور
انساں انساں سے بچھڑے اور منصف رشوت خور
مجرم سے رشوت لے لے کر حق کا کرے اعلان
سب کا کہنا چھوڑ کے بھیا رب کا کہنا مان
(جناب غلام ربانی قاصر )



