ایماں بچانا مشکل ہے - غلام ربانی قاصر کی اصلاحی نظم | Urdu Nazm

جڑ سے مٹانا مشکل ہے

اس دورِ فتن میں انساں کو
 ایماں بچانا مشکل ہے

توبہ جو گناہوں سے نہ کرے 
کچھ بات بتانا مشکل ہے


گھر گھر میں سنیما کی کثرت
 ٹی وی ہے مسلماں کی لعنت

ہر گھر میں چراغِ الا اللہ
اب جلنا جلانا مشکل ہے

ٹی وی کے تماشائی تم ہو
شیطان کے بھی بھائی تم ہو

کچھ وقت نمازوں میں اپنا
 ہر روز لگانا مشکل ہے

ملت کے جواں فلمی گانے 
سُن سُن کے اچھلتے رہتے ہیں

قرآن کی آیت سُن سُن کر
اب دل کا لگانا مشکل ہے

اسکول میں پانا انگریزی
 تہذیب تو آساں ہے لیکن

بچوں کو مدارس میں دینی
 تعلیم دلانا مشکل ہے

مسلک کی نزاکت پر اکثر 
آپس میں مسلماں لڑتے ہیں

کلمہ کی حقیقت کو
 واحد بنیاد بنانا مشکل ہے

خاتونِ مسلماں اب گھر سے
 بے پردہ چلے بازاروں میں

برقع تو محض اک فیشن ہے
چہرے کا چھپانا مشکل ہے

ماں باپ کی خدمت سے بیٹے
محروم رہا کرتے ہیں یہاں

خدمت تو بہت ہی دور ہوئی
پانی بھی پلانا مشکل ہے

بھائی سے ہے نفرت بھائی کو
بہنوں سے بغاوت بہنوں کو

اس دور میں بھائی بہنوں کو
 آپس میں ملانا مشکل ہے

عالم کو تعصبِ عالم سے
 جاہل بھی کرے اس کا شکوہ

مفتی پہ ہے جاہل کا فتویٰ
 یہ عیب چھپانا مشکل ہے

بیوی کو شکایت شوہر سے
 شوہر کو شکایت بیوی سے

بچوں کو شریعت کی باتیں
 ہر لمحہ سکھانا مشکل ہے

لُٹتے بھی رہے پِٹتے بھی رہے
مرتے بھی رہے مٹتے بھی رہے

پھر بھی دلِ مسلم میں اس کا
احساس دلانا مشکل ہے

سرکاری دفاتر میں مسلم افسر
 بھی کرے رشوت خوری

تنخواہ کے پیسوں سے ان کا
ہر کام چلانا مشکل ہے

تم اپنی مرادوں کی خاطر 
جھکتے ہو مزاروں پر لیکن

مسجد میں خدا کے آگے
 کیوں سر اپنا جھکانا مشکل ہے

واعظ کا فقط اندازِ بیاں
 کیا فائدہ سن کے لوگوں کو

اصلاحِ طلب دل جس کا نہیں 
کچھ اس کو سنانا مشکل ہے

اس دورِ حکومت میں 
ہر سو ہے ظلم و تشدد کی کثرت

مظلوم تو مٹتے جاتے ہیں
 ظالم کا مٹانا مشکل ہے

بیٹے پہ تلک تم لیتے ہو
 بیٹی کو تلک پر دیتے ہو

ماحول پہ ایسی لعنت کو
 اب جڑ سے مٹانا مشکل ہے

مشرک سے کہو ذکرِ کافر
جس آیتِ قرآں سے ہے عیاں

اس آیتِ قرآنی کو بھی
قرآں سے ہٹانا مشکل ہے

بارات میں انگلش ڈانس بھی اب
 کرتے ہیں جواں لونڈوں کی طرح

بے شرم جوانوں کو ایسی
عادت سے بچانا مشکل ہے

ملت کے جوانوں کے دل میں
 محبوب ہے یہ دنیا داری

دنیا ہی میں رہ کر اے قاصرؔ
 دین کا لانا مشکل ہے

(شاعر: جناب غلام ربانی قاصرؔ)

مزید پڑھیں