افلاطون کے ۱۷ اقوالِ زریں | عقل، حکمت اور اخلاق کے سنہری اصول
افلاطون کے بیان کردہ اقوال زریں
۱۔ وہ شخص عقل مند نہیں جو دنیاوی لذتوں سے خوش اور مصیبتوں سے مضطرب ہے۔
۲۔ طلبِ علم میں شرم بہتر نہیں کیونکہ جہالت شرم سے بدتر ہے۔
۳۔ علم سے محبت کرنا دانش سے محبت کرنا ہے۔
٤۔ دنیا عاقل کی موت پر اور جاہل کی زندگی پر ہمیشہ آنسو بہاتی ہے۔
۵۔ بات کو پہلے دیر تک سوچو، پھر منہ سے نکالو اور پھر اس پر عمل کرو۔
٦۔ خاموشی انسان کی سلامتی ہے۔
۷۔ اللہ تعالیٰ سے ایسی چیزیں مت چاہو جن کا نفع دیر پا نہ ہو بلکہ باقیات الصالحات کے خواہاں رہو۔
۸۔ اطباء کی سب سے بڑی چوک یہ ہے کہ وہ ذہن کی طرف توجہ دیے بغیر علاج کرنے لگ جاتے ہیں۔
۹۔ برائی کو بھلائی کا ذریعہ نہ بناؤ۔
۱۰۔ بدطینت وہ جو لوگوں کی برائیاں تو ظاہر کرے مگر نیکیاں چھپائے۔
۱۱۔ غصہ کی مقدار بات چیت میں اتنی ہونی چاہیئے جیسے کھانے میں نمک کہ جب تک انداز پر رہتا ہے تو ہاضم ورنہ فاسد۔
۱۲۔ جس شخص میں غور و فکر کی عادت ہے وہ اپنی روح سے دو بدو کلام کرتا ہے۔
۱۳۔ سب سے بڑی فتح اپنے آپ کو فتح کرنا ہے۔
١٤۔ وہ چیز جو حاصل نہیں ہوسکتی اس کی خواہش فضول ہے۔
۱۵۔ اللہ تعالیٰ کے تمام عطیوں میں سے حکمت سب سے بڑھ کر ہے۔
١٦۔ اور حکیم وہ شخص ہے جس کے قول و فعل یکساں ہوں۔
۱۷۔ عقل جس جگہ کامل ہوگی حرص و شر ناقص ہوگا۔



