مہاتما گاندھی کے ۳۲ اقوالِ زریں | سچائی، عدم تشدد اور اخلاقیات

مہاتما گاندھی کے بیان کردہ اقوال زریں


۱۔ تھوڑا سا جھوٹ بھی انسان کو ملیا میٹ کردیتا ہے جیسے دودھ کو ایک بوند زہر۔

۲۔ حقیقی محبت کا اظہار تعریف سے نہیں خدمت سے کیا جاتا ہے۔

۳۔ سچائی کو تلاش کرنے سے نیکی اور خوبصورتی خود آجائے گی۔

٤۔ کردار کے بغیر علم برائی کی طاقت بن جاتا ہے۔

۵۔ خاموشی اعلیٰ ترین تقریر ہے۔

٦۔ جرم انسان کے چہرے پر لکھا رہتا ہے۔

۷۔ میری سب سے بڑی تمنا یہ ہے کہ میں ہر آنکھ کا ہر آنسو پونچھ دوں۔

۸۔ غلام بننے سے بہتر ہے کہ تم مرجاؤ۔

۹۔ غلاموں کے ملک میں غلام ہی حکومت کرتے ہیں۔

۱۰۔ برداشت زندگی کا اصول ہے۔

۱۱۔ نیند بیداری کی کیفیت کا آئینہ ہے۔

۱۲۔ عورت کو کمزور کہنا اس کی توہین ہے۔

۱۳۔ خواہشات ہی تمام دکھوں کی بنیاد ہے۔

١٤۔ جس شخص کو شبہ ہے اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔

۱۵۔ امید کی دلیری کی پوجا کبھی لاحاصل نہیں ہوتی۔

١٦۔ بدخواہی کو میں انسانیت کا کلنک سمجھتا ہوں۔

۱۷۔ عورت اگر چاہے تو چاروں طرف سکھ اور شانتی کے پھول بچھا سکتی ہے۔

۱۸۔ ظلم سب سے بڑا گناہ ہے۔

۱۹۔ نفرت جرم سے کرو، مجرم سے نہیں۔

۲۰۔ جو فن روحانی آسودگی میں اضافہ نہیں کرتا وہ فن نہیں ہے۔

۲۱۔ کسی جاندار کو ضائع مت کرو، پرائی چیز غصب نہ کرو، جھوٹ نہ بولو۔

۲۲۔ اگر حب الوطنی کا مطلب بنی نوع انسان کی خیر خواہی نہیں ہے تو وہ بالکل بے معنی چیز ہے۔

۲۳۔ ہمت کے فقدان میں علم اس موم کے پتلے کی مانند ہے جو دیکھنے میں تو خوبصورت لگتا ہے لیکن کسی چیز کا لمس پاتے ہی پگھل جاتاہے۔

٢٤۔ کتابوں کی قیمت جواہرات سے بھی زیادہ ہے کیونکہ جواہرات ظاہراً چمک دمک دکھاتے ہیں جب کہ کتابیں باطن کو منور کرتی ہیں۔

۲۵۔ اگر میری لڑکی ہوتی تو میں اس کو کنواری ہی رہنے دیتا مگر ایسے لڑکے کے ساتھ شادی نہ کرتا جو مجھ سے ایک پیسہ بھی لینے کی امید کرتا۔

٢٦۔ بے اعتمادی سے کام کرنا اندھے کنویں میں گرنا ہے۔

۲۷۔ خدا نے انسان کو محنت کرکے کھانے کے لیے بنایا، اللہ کا حکم ہے کہ جو محنت کے بغیر کھاتے ہیں وہ چور ہیں۔

۲۸۔ خدا اس کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد خود کرتا ہے کاہل شخص کو وہ مرنے دینا ہی زیادہ پسند کرے گا۔

۲۹۔ زبان انسان کی عقل کے سہارے چلتی ہے اس لیے جب کسی موضوع تک عقل نہیں پاتی تو زبان ادھوری رہ جاتی ہے۔

۳۰۔ منطق صرف دماغ کا موضوع ہے۔ دل کی بات تک عقل نہیں پہنچ سکتی جسے دماغ مانے اور دل نہ مانے وہ ترک کردینے کے قابل ہے۔

۳۱۔ دوسروں کو جو نصیحت کرو پہلے خود اس پر عمل کرو۔

۳۲۔ بہادری مارنے میں نہیں مرنے میں ہے کسی کی عزت بچانے میں ہے عزت گنوانے میں نہیں ہے۔

مزید پڑھیں