مختلف شخصیات کے ١٠٠ سے زائد اقوال زریں | حکمت اور دانائی کی باتیں

متفرق شخصیات کے بیان کردہ اقوال زریں


۱۔ جو لوگ خدا کے آگے گردنِ تسلیم و رضا خم کیے ہوئے ہیں وہ مصیبت و بلا کو بلا کی صورت میں نہیں دیکھ سکتے۔

۲۔ زہد یہ ہے کہ آدمی رغبت کے کاموں سے باز آئے۔

۳۔ قناعت فضول چیزوں سے نکل آنے اور بقدرِ حاجت پر اکتفاء کرنے اور کھانے پینے اور رہنے کی چیزوں میں اسراف سے پرہیز کو کہتے ہیں۔

٤۔ پیر تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک پیرِ خرقہ، دوسرے پیرِ تعلیم، تیسرے پیرِ صحبت۔
(خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ)


۵۔ بے وقوف کے ساتھ جنت میں بیٹھنے سے عقل مند کے ساتھ قید خانے میں بیٹھنا بہتر ہے۔

٦۔ دنیا میں وہ سب سے کمزور ہے جو اپنی خواہش پر قابو نہ رکھتا ہو اور سب سے قوی وہ ہے جو ضبط کی قوت رکھتا ہو۔

۷۔ اگر تندرست رہنا چاہتے ہو تو نیک بنو، نیک بننا ہے تو دانا بننے کی کوشش کرو۔ دانا بننا چاہتے ہو تو مذہب کا مطالعہ کرو، خدا سے محبت کرو کیونکہ خدا کا خوف ہی دانائی کا آغاز ہے۔

۸۔ گناہ کا آغاز مکڑی کے تار کی مانند نازک ہوتا ہے لیکن انجام جہاز کے رسے کی مانند مضبوط اور ناقابلِ شکست ہوتا ہے۔
(ابوبکر بن داؤد)

۹۔ کسی کے ساتھ برائی مت کرو ورنہ اللہ تعالیٰ برائی کرنے والے پر کسی کو بدلہ لینے کے لیے مقرر کرے گا۔

۱۰۔ کوشش کرتے رہو، آدھی رات کو دو یا چار رکعت نوافل پڑھو اور اگر وضو نہ کرسکو تو صرف کلمہ ہی پڑھ لو۔

۱۱۔ جس کو شہوت فتنے میں ڈالے چاہیے کہ وہ نکاح کرلے۔

۱۲۔ چار شخصوں کے پاس خالی ہاتھ نہ جاؤ: فقیر، عیال، بیمار اور بادشاہ۔

۱۳۔ جو بچپن اور جوانی میں مطیع ہو بڑھاپے میں بھی مطیع ہوتا ہے، جو ابتداء میں نافرمان رہ کر اخیر میں توبہ کرے وہ مطیع ہوجاتا ہے لیکن کمالِ تہذیب اور حکمت اس کو دیر کے بعد حاصل ہوتی ہے۔
(حضرت ابو اسحاق گازرونی رحمۃ اللہ علیہ)

١٤۔ مبارک ہیں وہ لوگ جن کے پاس نصیحت کرنے کے الفاظ نہیں اعمال ہوتے ہیں۔

۱۵۔ تجربہ ہی سب سے اچھا استاد ہے۔

١٦۔ جس شخص کے دل میں نہ مذہب کے لیے پیار ہے، نہ دولت کمانے کا خیال ہے، نہ کام کی خواہش ہے بلکہ ان چیزوں کا احساس بھی نہیں تو ایسے شخص کا زندہ رہنا فضول ہے کیونکہ زندگی انہی کاموں کے لیے ہے۔

۱۷۔ انسان ہوکر ایسے کام نہ کرو جس سے انسانیت کا دامن داغ دار ہوجائے۔

۱۸۔ زندگی کی مصیبتیں ہلکی کرنا چاہتے ہو تو گناہ نہ کرو۔
(حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

۱۹۔ بہترین فضیلت زبان کی حفاظت ہے۔

۲۰۔ شکم سیری بیماری کی جڑ اور پرہیزگاری ساری بیماری کا علاج ہے۔

۲۱۔ مہمان کے لیے زیادہ خرچ کرنا اسراف نہیں ہے۔

۲۲۔ سچائی کی مشعل جہاں بھی دکھائی دے اس سے فائدہ اٹھاؤ، یہ نہ دیکھو کہ مشعل بردار کون ہے۔

۲۳۔ حق کا پرستار کبھی ذلیل نہیں ہوتا چاہے سارا زمانہ اس کے خلاف ہوجائے۔
(حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا)

٢٤۔ جو شخص صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام کرے وہ ضرور ثواب پائے گا۔

۲۵۔ تو جنت طلب نہ کر بلکہ ایسی چیز طلب کر کہ خود جنت تیری طالب ہو اور تو دوزخ سے نہ بھاگ بلکہ ایسی چیز سے بھاگ، جس کی وجہ سے خود دوزخ بھاگے۔

٢٦۔ سب سے بڑا اخلاق یہ ہے کہ تقدیر کے ساتھ جھگڑو، ضد کرکے اس کو بدلنا چاہو اور تقلب، آرزو اور دعا سے اس کو پلٹنے کی کوشش کرو۔

۲۷۔ حق کی راہ میں خلق اور خلق کی راہ میں حق نہیں ہے۔

۲۸۔ صادق شخص کی علامت یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ ملا جلا رہے اور دل میں اکیلا ہو صرف اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہو۔
(حضرت ابوبکر واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

۲۹۔ بدخلق وہ ہے جس کا غصے کی حالت میں اپنے نفس پر کنٹرول نہ رہے۔

۳۰۔ دوست ہزار بھی کم ہیں اور دشمن ایک بھی زیادہ ہے۔

۳۱۔ اس دولت سے کوئی احمق ہی پیار کر سکتا ہے جو دنیا میں بد مست اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنا دے۔

۳۲۔ تیرا برا ہم نشین تیرے اوصافِ حمیدہ پر اور دوستِ صالح تیرے اوصافِ حمیدہ پر دلالت کرتا ہے۔

۳۳۔ تین باتوں کے نتائج تین ہیں: تقویٰ کا عظمت، خدمت کا سیادت اور سکوت کا نتیجہ سلامت۔
(نظام الملک طوسی)

٣٤۔ سب سے بڑا اخلاق یہ ہے کہ تقدیر کے ساتھ جھگڑو، ضد کرکے اس کو بدلنا چاہو اور تقلب، آرزو اور دعا سے اس کو پلٹنے کی کوشش کرو۔

۳۵۔ جو اچھے کو اچھا نہ جانے وہ برے کو بھی برا نہیں سمجھتا۔

٣٦۔ مجھے رونا آتا ہے جب میں دنیا کو عالم کے ساتھ کھیلتے دیکھتا ہوں۔

۳۷۔ اگر کوئی تجھ سے پوچھے کہ تو حق تعالیٰ کو دوست رکھتا ہے تو تو چپ رہ کیونکہ اگر تو کہے گا کہ نہیں تو کافر ہوگا، اگر تو کہے گا ہاں تو تیرے افعال دوستوں جیسے نہ ہوں گے اور یہ محض جھوٹ ہوگا۔

۳۸۔ انجام کی خرابی ابتداء کی برائی سے ہوتی ہے لہٰذا ابتداء کو اچھا بنا۔
(حضرت فضیل عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

۳۹۔ جھوٹی قسمیں نہ کھاؤ، نہ اللہ تعالیٰ کے نام کو قسموں کے لیے تختہ مشق بناؤ اور نہ جھوٹے لوگوں کو قسمیں کھانے پر آمادہ کرو، ایسا کرنے سے تم خود بھی گناہ میں شریک ہوجاؤ گے۔

٤٠۔ حکمت روح کی زندگی ہے۔

٤١۔ سعادت مند وہ ہے جو اپنے نفس کی نگرانی کرے۔

٤٢۔ جو شخص زندگی کی مناسب ضروریات سے زیادہ کا طالب ہوا وہ کبھی قانع اور مطمئن نہیں ہوسکتا۔

٤٣۔ اللہ تعالیٰ کی بے انتہاء نعمتوں اور اس کے احسانات کا شکریہ انسانی طاقت سے باہر ہے۔
(حضرت ادریس علیہ السلام)

٤٤۔ تم خوشی چاہتے ہو اور اسے نہیں پاتے، یہ بہشت میں ہوگی۔

٤٥۔ بغیر عقیدے کی درستگی کے کوئی عبادت فائدہ نہیں دیتی۔

٤٦۔ تین چیزوں کی دوستی مضر ہے: زندگی، نفس اور مال۔

٤٧۔ جب انسان صادق ہو تو نیک کام کرنے سے پہلے ہی اس میں لذت پاتا ہے۔

٤٨۔ سوچ و بچار کی حفاظت کرو۔
(حضرت ابو تراب بخشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

٤٩۔ ہمارا سب سے بڑا ہتھیار محبت کا زہر ہے، خلق مشین گن ہے اور یہی وہ ہتھیار ہے جن کا وار کبھی خالی نہیں جاتا۔

۵۰۔ جس قوم کا آسمان جھک کر زمین سے آملے اور عمل کے ستارے اس کے گنبد پر چمکیں تو وہ قوم چشم زدن درست ہوجائے گی۔

۵۱۔ عبادت کا منشاء یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے غلام بن جاؤ اس کے احکام پر شب و روز عمل کرو میدان میں کٹ مرو مگر پیٹھ نہ دکھاؤ اور فرقہ بندی چھوڑ کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاؤ۔

۵۲۔ ترقی کا راز مسلسل عمل اور تکرارِ عمل میں پوشیدہ ہے۔

۵۳۔ دنیا کی تمام تاریخِ اصلاح و انقلاب میں جب کبھی کسی قوم کا عروج ہوا، فردِ واحد کے ذریعہ ہوا۔ فردِ واحد اپنے ضمیر کی آواز کا پابند ہے۔ نتائج کا انتظار اس کو اضطراب رکھتا ہے اور اس کا ہر عمل منزل کی طرف ایک قدم ہے۔
(علامہ عنایت اللہ المشرقی)

٥٤۔ دریا کا جوش اور مرد کی جوانی یکساں اہمیت کی حامل ہے۔

۵۵۔ بادشاہوں سے کیا خوف، خوف تو بادشاہوں کے بادشاہ سے ہوتا ہے۔

٥٦۔ اس شخص سے بچو جو باعزت ہوکر مجلس میں بیٹھے اور بے عزت ہوکر اٹھے۔

۵۷۔ عشق حقیقی تو وہ ہے جو جذبہ عمل کو بھڑکادے۔

۵۸۔ حق پر چلنے والے کا پاؤں شیطان کے سینے پر ہوتا ہے۔
(فردوسی)

۵۹۔ کچھ نہ کچھ عیب سب میں ہوتے ہیں، فرق یہ ہے کہ عقل مند اپنے عیب خود محسوس کرلیتا ہے دنیا محسوس نہیں کرتی، بے وقوف اپنے عیب خود محسوس نہیں کرتا دنیا محسوس کرتی ہے۔

٦٠۔ ہم غرور کے جام سے مست ہیں اور اس کا نام ہم نے ہوشیاری رکھ لیا ہے۔

٦١۔ زمانہ کتابوں سے بہتر معلم ہے۔

٦٢۔ جو مہربانی کرنے والے کو کمینہ سمجھتا ہے اس سے زیادہ کمینہ کوئی دوسرا نہیں۔

٦٣۔ توکل کے آستانہ پر پہنچنا تو ممکن ہے لیکن آخرت کی سرداری کے آسمان پر عروج کرنا بڑا مشکل کام ہے۔
(حافظ شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

٦٤۔ پوری محبت کی علامت یہ ہے کہ محبوب کے سوا دل میں اور کسی کا خیال نہ رہے اور یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ دوستی میں لذت حاصل ہو اور یہ لذت حاصل اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک کہ انسان نے پہلے تنہائی اور صحبت سے بے پروائی کا مزہ چکھا ہو۔

٦٥۔ عاقل وہ ہے جو کسی چیز سے ڈرنے اور اس میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی اس کا اہتمام اور بندوبست کر رکھے۔

٦٦۔ عوام کا شکر طعام و لباس پر ہے اور خواص کا شکر حقیقت و معانی پر جو دل میں ہوں۔

٦٧۔ اغنیا کے ساتھ صحبت عزت و وقار سے کرنا تواضع ہے اور فقراء کے ساتھ نرمی و عاجزی شریفانہ وضع ہے۔

٦٨۔ خوف سے محبت درست ہوتی ہے اور ادب کی رعایت سے مستحکم ہوتی ہے۔
(حضرت عثمان الہیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

٦٩۔ میں ان لوگوں سے رشک و حسد نہیں کرتا جن کے پاس مجھ سے زیادہ علم ہے لیکن ان پر رحم آتا ہے جن کے پاس مجھ سے کم علم ہے۔

۷۰۔ علم کی مثال دریا کی سی ہے اس میں سے کتنا ہی خرچ کردو گے گھٹے گا نہیں۔

۷۱۔ اگر دنیا کے درختوں کے قلم بن جائیں اور سمندروں کی سیاہی جب بھی انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتیں نہیں گن سکتا۔

۷۲۔ ہر اچھا کام پہلے ناممکن ہوتا ہے۔

۷۳۔ جھگڑا بڑھنے سے قبل تم اس سے الگ ہوجاؤ۔
(حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

٧٤۔ صرف اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں مدد کرتا ہے۔

۷۵۔ اگر تو چاہتا ہے کہ دن کی طرح روشن ہوجائے تو اپنی ہستی کو اپنے دوست کے سامنے جلا دے۔

٧٦۔ جب تو کوئی غم دیکھے تو استغفار کر! غم خالق کے حکم سے آتا ہے تو اپنے کام میں لگا رہ۔

۷۷۔ زندگی کو غنیمت جانو یہ عنقریب تم سے لے لی جائے گی۔

۷۸۔ شمع بننے کے دعویٰ سے پروانہ بن جانا زیادہ باعثِ افتخار ہے۔
(مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

۷۹۔ مصائب گناہوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، گناہگار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مصیبتوں کے نزول کے وقت واویلا کرے۔

۸۰۔ جو علم کو دنیا کمانے کے لیے حاصل کرتا ہے علم اس کے قلب میں جگہ نہیں پاتا۔

۸۱۔ علم بغیر عمل کے ایسا ہے جیسے جسم بغیر روح، جب تک علم پر ہمہ وجوہ عمل سے متفق نہ ہوگا، کافی نہ ہوگا اور نہ مخلصانہ۔

۸۲۔ تعلقاتِ دنیا کو کم کرنا یہ ہے کہ آدمی دنیا سے ضروری چیزیں لے لے اور غیر ضروری چھوڑ دے۔

۸۳۔ علمِ دنیاوی نفع حاصل کرنے کے لیے سیکھایا جائے تو دل میں گھر نہیں کرتا۔
(امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

٨٤۔ تمام علوم خواہ وہ علومِ قدیمہ ہوں یا علومِ جدیدہ، ان کا مقصد دین کا فہم حاصل کرنا ہونا چاہیے۔

۸۵۔ مسلمان کو دنیا کے لیے صرف زبان سیکھنے یا حساب، اقلیدس، جغرافیہ جائز علم پڑھنے میں حرج نہیں بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہوکر اپنے دین و علم سے غافل نہ ہوجائے ورنہ جو چیز اپنا دین و علم بقدرِ سیکھنے میں مانع آئے حرام ہے۔

٨٦۔ استاد کے احسان کو فراموش کردینا ایک مصیبت ہے ایک قاتل بیماری جو علم کی برکات کو زائل اور باطل کر ضدیتی ہے۔

۸۷۔ اگر کسی عالم کے پاس جاؤ تو یہ سمجھ کرجاؤ کہ میں علم سے خالی ہوں تب ہی جاکر اس کے علم سے فیض پاؤگے۔

۸۸۔ کتاب تعلیم کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
(امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

۸۹۔ دانا وہ ہے جو کم بولے اور زیادہ سنے۔

۹۰۔ اپنے آپ کو اس وقت تک انسان نہ سمجھو جب تک تمہاری رائے تمہارے غصے کے زیرِ اثر ہو۔

۹۱۔ صادق کا تھوڑا سامان جھوٹے کی بہت سی دولت سے اچھا ہے۔

۹۲۔ اپنی ضرورتوں کو محدود کرلینا ہی بڑی دولت مندی ہے۔

۹۳۔ جب تمہاری روزی دوسروں کی روزی سے الگ ہو تو پھر یہ بے صبری اور پریشانی کیوں۔
(حضرت داؤد علیہ السلام)

٩٤۔ میں شیطانوں کے ساتھ پہاڑوں پر پھرا مگر برے انسان کے سوا کسی سے نہیں گھبرایا۔

۹۵۔ کمینے شخص سے حاجت طلب کرنا بیابان میں مچھلی طلب کرنے کے برابر ہے۔

٩٦۔ میں نے قرض سے زیادہ بوجھل کوئی چیز نہیں دیکھی۔

۹۷۔ بسا اوقات انسان کی موت اس بات میں ہوتی ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے۔

۹۸۔ میں نے بری عورت سے زیادہ غالب کوئی نہیں دیکھا۔
(حکیم بژرجمہر)

۹۹۔ ایک غیرت مند انسان کی دنیا میں دو ہی کام ہیں یا تو وہ کامران ہوتا ہے یا اپنا سر قربان کرتا ہے۔

۱۰۰۔ مجھے اس انسان کی آزادی، بے فکری اور خوشی پر رشک آتا ہے جو نہ زر رکھتا ہے اور نہ زمین۔

۱۰۱۔ مکھی اور مچھر اگرچہ پروں سے پرواز کرتے ہیں لیکن وہ شہباز اور عنقا کے برابر نہیں ہوسکتے۔

۱۰۲۔ جہنم کی آگ کو وہی آنسو بجھا سکتے ہیں جو وقتِ سحر ایک مومن کی آنکھ سے ٹپکیں۔

۱۰۳۔ جھوٹے ہمیشہ خزاں میں ہوں گے اور سچے لوگوں کے چہرے ہمیشہ بہار میں رہتے ہیں۔
(خوشحال خان خٹک)

مزید پڑھیں