شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کے ۱۲۷ خوبصورت اقوالِ زریں

شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ اقوال زریں 


۱۔ علم کے بغیر انسان اللہ تعالیٰ کو بھی نہیں پہچان سکتا۔

۲۔ سلام کرنے میں پہل کرو اور ہر ایک سے شریفانہ سلوک کرو۔

۳۔ مذہب لوگوں کی خدمت میں ہے صرف تسبیح کے دانوں اور مصلے میں نہیں۔

٤۔ حسن بناؤ سنگھار کے بغیر ہی دل کو موہ لیتا ہے۔

۵۔ اگر تو کسی ایک شخص کی بھی تکلیف دور کردے تو یہ زیادہ بہتر کام ہے بہ نسبت اس کے کہ تو حج کو جائے اور راستے کے ہر پڑاؤ پر ایک ایک ہزار رکعت نماز پڑھتا جائے۔

٦۔ جو ہوش میں ہے وہ کبھی تکبر نہیں کرتا۔

۷۔ عقل مند آدمی اس وقت تک نہیں بولتا جب تک خاموشی نہیں ہوجاتی۔

۸۔ فطری کمینگی برسوں میں بھی معلوم نہیں ہوتی۔

۹۔ جو نصیحت نہیں سنتا اسے لعنت ملامت سننے کا شوق ہے۔

۱۰۔ علم حاصل کرنے کے لیے خود کو شمع کی طرح پگھلاؤ۔

۱۱۔ چالاکی درباریوں کے لیے وصف ہے اور درویشوں کے لیے خامی۔

۱۲۔ شیر بھوکا مرجانا پسند کرتا ہے کتے کا جھوٹا کھانا کبھی پسند نہیں کرتا۔

۱۳۔ خدمت سے خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے۔

١٤۔ عقل مند بولنے سے پہلے سوچتا ہے، احمق بولنے کے بعد سوچتا ہے کہ کیا کہہ گیا ہوں۔

۱۵۔ جس شخص پر پیسے کا لالچ چھا گیا اس نے اپنی زندگی کے کھلیان کو ہوا میں اڑا دیا۔

١٦۔ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے بعد اس شخص سے ڈرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا۔

۱۷۔ جب پیٹ خالی ہوتا ہے تو جسم روح بن جاتی ہے اور جب وہ بھرا ہوتا ہے تو روح جسم بن جاتی ہے۔

۱۸۔ بخیل آدمی کی دولت، اس وقت زمین سے باہر آتی ہے جب وہ خود زمین کے نیچے چلا جاتا ہے۔

۱۹۔ اگر کسی فقیر کے پاس ایک روٹی ہوتی ہے تو وہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی کسی غریب کو دے دیتا ہے لیکن اگر بادشاہ کے پاس ایک ملک ہوتا ہے تو وہ ایک اور ملک چاہتا ہے۔

۲۰۔ ظالم سے بڑھ کر کوئی بدقسمت آدمی نہیں ہے کیونکہ مصیبت کے وقت کوئی اس کا مددگار نہیں ہوتا۔

۲۱۔ اگر چڑیاں متفق ہوجائیں تو شیر کی کھال کھینچ سکتی ہیں۔

۲۲۔ جو زیادہ پیسے والا ہے وہی محتاج ہے۔

۲۳۔ اگر اللہ تعالیٰ کنجوس آدمی کی خواہشات پوری کرنے لگے، قسمت اس کی غلام ہوجائے اور اس کے ہاتھ قارون کا خزانہ لگ جائے اور ساری دنیا اس کے قبضے میں آجائے تو بھی کنجوس آدمی اس قابل نہیں ہے کہ تو اس کا نام لے۔

٢٤۔ جو کمزوروں پر رحم نہیں کرتا اسے طاقتوروں کے مظالم برداشت کرنے پڑیں گے۔

۲۵۔ اگر روزی عقل سے حاصل کی جاتی تو دنیا کے تمام بے وقوف بھوک سے مرجاتے۔

٢٦۔ وہ شخص سچ مچ کا عقل مند ہے جو غصے کی حالت میں بھی بری بات منہ سے نہیں نکالتا۔

۲۷۔ جتنے دن زندہ رہو اسے غنیمت سمجھو اور اس سے پہلے کہ لوگ تمہیں مردہ کہیں نیکی کرجاؤ۔

۲۸۔ دوسروں کا مزاج چاہے تمہیں پسند نہ ہو لیکن تمہیں اپنی نیک مزاجی نہیں چھوڑنی چاہیے۔

۲۹۔ صبر زندگی کے مقصد کے دروازے کھولتا ہے کیونکہ صبر کے سوا اس دروازے کی اور کوئی چابی نہیں ہے۔

۳۰۔ دنیا کا نعم البدل نہیں ہے اگر ہوسکے تو ایک مرتبہ کسی کا دل جیت۔

۳۱۔ جس کا لباس پاک اور عادت ناپاک ہے اس کے لیے جہنم کے دروازے کے لیے چابی کی ضرورت نہیں۔

۳۲۔ تین چیزوں کو بقا نہیں ہے مال کو تجارت کے بغیر، علم کو بحث کے بغیر اور ملک کو تدبیر کے بغیر۔

۳۳۔ جو آدمی اچھے وقتوں میں بھلائی نہیں کرتا وہ برے وقتوں میں دکھ اٹھاتا ہے۔

٣٤۔ دشمن کو حقیر مت جانو۔

۳۵۔ اپنا راز دوست سے بھی نہ کہو خواہ دوست مخلص ہو کیا خبر کہ ایک دن وہ دشمن بن جائے۔ اسی طرح ہر وہ تکلیف جو تم دشمن کو پہنچاسکتے ہو نہ پہنچاؤ اس لیے کہ ہوسکتا ہے یہی دشمن ایک دن تمہارا دوست بن جائے۔

٣٦۔ دشمن کا مشورہ ماننا خطا لیکن سننا رواہے۔

۳۷۔ اگر کام دولت سے نکل سکے تو جان کو خطرے میں نہ ڈالو۔

۳۸۔ فقیر کی ستر پوشی کر تاکہ اللہ تعالیٰ کا پردہ تیرا ستر پوش ہو۔

۳۹۔ بوجھ اٹھانے والے گدھے اور بیل، لوگوں کو ستانے والے انسانوں سے بہتر ہیں۔

٤٠۔ جو آدمی سوچ کر بات نہیں کرتا وہ اس کے جواب پر بگڑتا ہے۔

٤١۔ نیک انجام فقیر، بد انجام بادشاہ سے بہتر ہے۔

٤٢۔ عورتوں سے مشورہ لینا تباہی ہے اور مفسدوں پر بخشش کرنا گناہ۔

٤٣۔ اگر کسی چوپائے پر کتابیں لدی ہوں تو وہ نہ تو محقق ہوجاتا ہے۔ اور نہ دانش مند۔

٤٤۔ جس کو بچپن میں ادب نہ سکھاؤ گے بڑے ہو کر اس میں بھلائی نہ ہوگی۔

٤٥۔ اگر برائی تجھے ناپسند ہے تو خد نہ کر پھر پڑوسی سے کہہ کہ نہ کرے۔

٤٦۔ اگر تیری کوشش سے کوئی بہتر بات سامنے آئے تو اس کو خدا تعالیٰ کی توفیق سے سمجھ نہ کہ اپنی کوشش سے۔

٤٧۔ برائی کا بدلہ برائی سے دینا آسان ہے اگر تو جوان مرد ہے تو برائی کا بدلہ احسان سے دے۔

٤٨۔ جو نصیحت غرض سے خالی ہو کڑوی دوا کی طرح مرض کی دافع ہے۔

٤٩۔ اگر مالدار بننا چاہتے ہو تو سوائے قناعت کے کچھ طلب نہ کرو کہ یہی سب سے عمدہ دولت ہے۔

۵۰۔ وہ پارسا جو مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ قبلہ کی طرف پشت کرکے نماز پڑھ رہے ہیں۔

۵۱۔ اگر کوئی مانگنے والا عاجزی سے تجھ سے مانگے تو اس کو دے دو ورنہ کوئی ظالم تجھ سے زور سے لے لے گا۔

۵۲۔ جس عالم کا صرف کہنا ہی کہنا ہو (دینی عمل نہ ہو) وہ جو کچھ کہے گا اس کا اثر کسی پر نہ ہوگا۔

۵۳۔ اگر تجھے دوسروں کی تکلیف کا احساس نہیں ہے تو تو اس قابل نہیں کہ تجھے انسان کہاجائے۔

٥٤۔ دو باتیں خلاف عقل ہیں بولتے وقت چپ رہنا اور چپ رہنے کے وقت بولنا۔

۵۵۔ زبان کٹا ہوا اور گوشہ تنہائی میں گونگا بہرا بن کر بیٹھا ہوا انسان اس سے بہتر ہے جس کی زبان قابو میں نہ رہے۔

٥٦۔ شر پھیلانے والا خود بھی شر میں مبتلا ہوتا ہے۔

۵۷۔ دو انسان ملک اور دین کے دشمن ہیں ایک وہ بادشاہ جس میں حلم و بردباری نہ ہو اور دوسرا وہ عابد جس میں علم نہ ہو۔

۵۸۔ جو راز تو چھپانا چاہتا ہے کسی سے نہ کہہ خواہ دوست ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس دوست کے بھی دوست ہوں گے اور اس طرح سلسلہ چل نکلے گا اور بات پھیل جائے گی۔

۵۹۔ دس آدمی ایک دسترخوان پر کھا لیتے ہیں لیکن دو کتے ایک مردار پر گزارہ نہیں کر سکتے، اسی طرح لالچی ایک دنیا حاصل کر کے بھی بھوکا ہے اور قناعت کرنے والا ایک روٹی سے بھی سیر ہوجاتا ہے۔

٦٠۔ موتی اگر کیچڑ میں گرجائے تو بھی قیمتی ہے اور گرد آسمان پر چڑھ جائے تو بھی بے قیمت ہے۔

٦١۔ جو بدوں کی صحبت میں بیٹھے اگرچہ ان کی عادات اختیار نہ کرے برا ہی کہلائے گا جیسا کہ کوئی شخص شراب کی دکان پر جا
کر نماز پڑھے تو وہ شراب خوار ہی کہلائے گا۔

٦٢۔ لالچی کے لیے اپنا دروازہ نہیں کھولنا چاہیے اگر کھل گیا تو پھر سختی سے بند نہ ہوگا۔

٦٣۔ مال کی زکوٰۃ نکالتے رہو اس لیے کہ جب باغبان انگور کی بے کار شاخیں تراش دیتا ہے تو اس پر زیادہ انگور آتا ہے۔

٦٤۔ جو اپنوں کے ساتھ وفا نہیں کرتا، داناؤں کے نزدیک وہ اور کسی کا دوست بھی نہیں ہوتا۔

٦٥۔ جسم کی طاقت خوراک سے نہ سمجھ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی تیری پرورش کرتی ہے۔

٦٦۔ جس کے سر میں غرور ہو اس کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ سچی بات سن لے گا۔

٦٧۔ اگر تو اپنے آپ کو نیکیوں میں گنتا ہے تو تو بد ہے اس لیے کہ خدائی میں خودی نہیں سماتی ہے۔

٦٨۔ نرم زبانی اور شیریں کلامی غضب ناک انسان کے غضب کی آگ پر پانی جیسا اثر کرتی ہے۔

٦٩۔ کمزور پر زور کرنا شرافت نہیں ہے کیونکہ جو پرندہ چیونٹی سے دانہ چھینے وہ کمینہ ہوتا ہے۔

۷۰۔ آدمیت جوانمردی اور مہربانی کا نام ہے حسین شکل وصورت کا نام نہیں۔

۷۱۔ ہر بات میں بحث کرنا جائز نہیں بڑوں کی غلطی پکڑنا غلطی ہے۔

۷۲۔ اگر بدقسمتی سے تیرا مال چوری ہوجائے تو حوصلہ سے کام لے اس لیے کہ خواہ تو عاجزی کرے خواہ فریاد چور یہ مال واپس نہیں کرے گا۔

۷۳۔ اپنا غم دشمنوں سے نہ کہو اس لیے کہ وہ خوش ہوتے ہوئے لاحول پڑھیں گے۔

٧٤۔ اگرچہ کوئی بے موت نہ مرے گا لیکن تو اژدہوں کے منہ میں نہ جا۔

۷۵۔ جو ذاتِ پاک تجھے مالدار نہیں بنارہی وہ تیری مصلحت تجھ سے بہتر جانتی ہے۔

٧٦۔ کسی عزیز دوست کے سامنے بد نسیبی کی وجہ سے منہ بگاڑ کر نہ جا ورنہ تو اس کا جینا بھی تلخ کردے گا ضرورت میں بھی اگر تو جائے تو شگفتہ رو اور ہنستا ہوا جا اس لیے کہ ہنس مکھ آدمی کا کام نہیں رکتا۔

۷۷۔ دوست وہی ہے جو دوست کی پریشان حالی اور عاجزی میں مدد کرے۔

۷۸۔ نصیب اور دولت ہنرمندی کی وجہ سے نہیں ہے یہ محض تائیدِ آسمانی کی بدولت ہے۔

۷۹۔ اگر بڑائی چاہتے ہو تو بخشش کرو کیونکہ جب تک دانہ نہ بکھیرو گے وہ نہ اگے گا۔

۸۰۔ امیر اور وزیر اور بادشاہ کے دروازہ کا بغیر کسی وسیلہ کے چکر نہ کاٹ۔

۸۱۔ زمانے کی گردش سے دل شکستہ ہوکر نہ بیٹھ اس لیے کہ صبر اگرچہ کڑوا ہے مگر اس کا پھل میٹھا ہے۔

۸۲۔ اللہ سبحانہُ و تعالیٰ کے راضی ہونے کا سبب یہ ہے میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ سیدھے راستے پر چلتے ہوئے بھٹک گیا ہو۔

۸۳۔ عاجزوں کا حال وہی جانتا ہے جو خود اپنے حالات میں عاجز آگیا ہو۔ جو راحت اور عیش میں جیا اسے کیا معلوم کہ بھوکے پر کیا بیتی ہے۔

٨٤۔ کائنات میں انسان بظاہر اشرف المخلوقات ہے اور کتا ذلیل ترین موجودات لیکن عقل مندوں کے نزدیک یہ مسلم ہے کہ حق شناس کتا نافرمان آدمی سے بہتر ہے۔

۸۵۔ خداوندِ کریم دیکھتا ہے اور پردہ پوشی کرتا ہے لیکن ہمسایہ بن دیکھے شور مچاتا پھرتا ہے۔

٨٦۔ دو شخص مرگئے اور حسرت ساتھ لے گئے ایک تو وہ جس نے جمع کیا اور نہ کھایا۔ دوسرا وہ جس نے جانا اور عمل نہ کیا۔

۸۷۔ بادشاہوں کو وہی شخص نصیحت کر سکتا ہے جس کو نہ سر کا خوف ہو نہ زر کی تمنا۔

۸۸۔ اگر تجھے میری بری عادت ناگوار ہے تو تو اپنی اچھی عادت ہاتھ سے نہ جانے دے۔

۸۹۔ سونا کان سے کان کنی کے بعد نکلتا ہے اور بخیل کے ہاتھ سے جان کنی کے بعد۔

۹۰۔ شاہی خلعت اگرچہ قیمتی ہے لیکن اپنا پرانا لباس اس سے زیادہ با عزت ہے اور بڑوں کا دسترخوان اگرچہ لذیذ ہے مگر اپنی جھولی کے ٹکڑے اس سے زیادہ مزیدار ہیں۔

۹۱۔ وہ گناہ گار جو دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے مغرور عبادت گزار سے اچھا ہے۔

۹۲۔ بدعقیدہ شاگرد مفلس عاشق کی مانند ہے۔ راستہ کی پہچان نہ رکھنے والا مسافر بے پر کا پرندہ ہے۔ بے عمل عالم بے پھل کا درخت ہے اور جاہل عبادت گزار بغیر دروازے کا گھر ہے۔

۹۳۔ بے نمازی کو قرض نہ دو خواہ فاقہ سے اس کا منہ کھلا ہوا ہو اس لیے کہ جو خدا کا قرض ادا نہیں کرتا اسے تیرے قرض کی فکر بھی نہ ہوگی۔

٩٤۔ گناہ جس سے بھی صادر ہو برا ہے اور علماء سے اس کا صادر ہونا تو بہت ہی برا ہے اس لیے کہ علم شیطان سے نمٹنے کا ہتھیار ہے اور ہتھیار بند کو جب اسیر کرلیتے ہیں تو وہ زیادہ شرمندہ ہوتا ہے۔

۹۵۔ جو سخی کھائے اور دے اس عبادت گزار سے بہتر ہے جو روزے رکھے اور جمع کرے۔

٩٦۔ جس کو ایک مدت میں دوست بنائیں مناسب نہیں کہ اس کو ایک لمحہ میں رنجیدہ کر پردیں۔

۹۷۔ جو عقل مند جاہلوں سے لڑے وہ عزت کی توقع نہ رکھے۔

۹۸۔ شیر سے پنجہ آزمائی کرنا اور تلوار پر تنکہ مارنا عقل مندوں کا کام نہیں۔

۹۹۔ جو بزرگوں سے لڑتا ہے وہ خود اپنا خون گراتا ہے۔

۱۰۰۔ یہ ضروری نہیں کہ جو آدمی بظاہر نیک ہو اس کی سیرت بھی اچھی ہو۔

۱۰۱۔ جس نے علم حاصل کیا اور عمل نہ کیا وہ اس آدمی کی مانند ہے جس نے ہل چلایا اور بیج نہ بکھیرے۔

۱۰۲۔ لوگوں کے چھپے عیب ظاہر نہ کرو کیونکہ تو ان کو ذلیل کرے گا اور خود کو بھروسے کے ناقابل۔

۱۰۳۔ جو شخص اپنے سے بڑے عالم سے اس لیے بحث کرے کہ لوگ اس کو عالم سمجھیں تو وہ سمجھ لیں کہ وہ جاہل ہے۔

١٠٤۔ نادان کے لیے خاموشی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے اگر وہ یہ بات جان لیتا تو نادان نہ رہتا۔

۱۰۵۔ لوگوں کو ستانے والے سے زیادہ بد نصیب کوئی نہیں ہے اس لیے کہ مصیبت کے وقت اس کا کوئی دوست نہیں۔

١٠٦۔ بداصل نیکوں کا اثر قبول نہیں کرتے۔

۱۰۷۔ مشک وہ ہے جو اپنی خوشبو سے اپنا پتہ خود دے نہ کہ عطار بتائے کہ یہ مشک ہے۔

۱۰۸۔ جہاں پھول ہوتے ہیں وہاں کانٹے ہوتے ہیں۔

۱۰۹۔ بہت کھانے والا بہت ذلیل ہوتا ہے۔

۱۱۰۔ استاد کی سختی باپ کے پیار سے بہتر ہے۔

۱۱۱۔ جس کا حساب پاک ہے اس کو محاسبے سے کیا ڈر۔

۱۱۲۔ جو شخص بروں کی صحبت میں بیٹھتا ہے کبھی سکھ نہیں پاتا۔

۱۱۳۔ بہت سے کام صبر سے نکلتے ہیں اور جلد باز منہ کے بل گرتے ہیں۔

١١٤۔ جو چیز جلد حاصل ہوتی ہے دیر تک نہیں ٹھہرتی۔

۱۱۵۔ ہر انسان اپنی عقل کو بڑا سمجھتا ہے اور اپنے بچے کو خوبصورت۔

١١٦۔ جو شخص اپنی تعریف پر خوش ہوتا ہے اور خوشامد پسند کرتا ہے، پہلے درجے کا بے وقوف ہے۔

۱۱۷۔ نہ اتنی سختی کرو کہ لوگ تم سے بیزار ہوجائیں اور نہ اتنی نرمی کہ تم پر دلیر ہوجائیں۔

۱۱۸۔ ملک کی رونق داناؤں سے ہے اور دین کا کمال پرہیزگاروں سے، بادشاہ داناؤں کی نصیحت کے اس سے زیادہ محتاج ہیں جس قدر داناہوں کے تقرب کے۔

۱۱۹۔ علم دین کی خدمت اور اشاعت آخرت کے لیے نہ کہ دنیا کمانے کے لیے۔

۱۲۰۔ دو دشمنوں کے درمیان تمہارا وطیرہ ایسا ہونا چاہیے کہ کل کو اگر وہ دوست بن جائیں تو تمہیں شرمسار نہ ہونا پڑے۔

۱۲۱۔ ہماری شریعت میں دل آزاری سے زیادہ کوئی گناہ نہیں۔

۱۲۲۔ اس کی ہمت پر قربان جو نیک کام اخلاص سے کرتا ہے۔

۱۲۳۔ آرام و آسائش، راحت و سکون، جنت الفردوس میں ہے لیکن لوگ اس فانی دنیا میں تلاش کرتے ہیں۔

١٢٤۔ دانش مندوں کو قتل کردیا جائے تو بے وقوف ان کا بدل نہیں بن سکتے۔

۱۲۵۔ اے حقیر پیٹ! ایک ہی روٹی سے مطمئن ہوجا تاکہ تجھے غلامی میں کمر کو نہ جھکانا پڑے۔

١٢٦۔ اگر انسان رنج و مسرت کی فکر سے بلند ہوجائے تو آسمان کی بلندی بھی اس کے قدموں کے نیچے آجائے۔

۱۲۷۔ کسی بادشاہ نے کسی پرہیزگار سے پوچھا، کیا میں تمہیں کبھی یاد آتا ہوں؟ تو اس نے جواب دیا، ہاں! جب میں اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہوں۔

مزید پڑھیں