رابندر ناتھ ٹیگور کے ۳۱ اقوالِ زریں | حکمت، محبت اور زندگی کے اصول

ٹیگور کے بیان کردہ اقوال زریں


١۔ جنہیں ہم کمتر اور حقیر بنائے رکھتے ہیں وہ بھی رفتہ رفتہ ہمیں کمتر اور حقیر بنا دیتے ہیں۔

۲۔ وقت تبدیلی کا سرمایہ ہے۔

۳۔ ہماری خواہشات زندگی نامی بھاپ کو قوس قزح کا رنگ دیتی ہیں۔

٤۔ ٹھوکریں صرف دھول اڑاتی ہیں دھرتی سے فصل نہیں اگاتیں۔

۵۔ انسان خود اپنے آپ کو بندھن میں ڈالتا ہے۔

٦۔ نصیحت کرنا آسان ہے اور حل بتانا مشکل ہے۔

۷۔ تجربہ مفت ملنے والی چیز نہیں ہے اس کے لیے وقت اور عمر گنوانی پڑتی ہے۔

۸۔ جو دوسروں پر احسان جتانے کا خواہشمند ہے وہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے جس کے دل میں محبت ہے اس کے لیے دروازے کھلے ہیں۔

۹۔ حق جتانے سے حق ثابت نہیں ہوجاتا۔

۱۰۔ محنت دیانت اور کفایت شعاری سے دولت آتی ہے۔

۱۱۔ لوگ چپ چاپ سب کچھ برداشت کرلیتے ہیں ان کے بارے میں طے ہے کہ ان کا دل زخم خوردہ ہے۔

۱۲۔ جسے شوہر بننا ہے اس کے لیے مرد بننا بہت ضروری ہے۔

۱۳۔ ہر لحظہ جو نیا دکھائی دیتا ہے وہی حسن کا بہترین نمونہ ہے۔

۱٤۔ ساکن سمندر کی لہریں بھی متحرک ہیں۔

١٥۔ جب میں خود پر ہنستا ہوں تو میرے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔

١٦۔ کچھ نہ کچھ کرتے رہنا ہی فرض نہیں ہے۔ ایک وقت ایسا بھی ہوتا ہے جب کچھ نہ کرنا ہی فرض ہوجاتا ہے۔

١٧۔ جہادِ خارجہ فتح کے لیے نہیں ہوتا بلکہ وہ تو ہار کر بھی جیتنے کے لیے ہوتا ہے۔

١٨۔ اعتماد اس پرندے کی طرح ہے جو صبحِ کاذب میں ہی روشنی کے احساس سے چہچہانے لگتا ہے۔

۱۹۔ جو صفحات گن کر کتابوں کی قیمت دیتے ہیں ان کا ذہن کتابوں کے نیچے ہی دب کر قبر میں پہنچ جاتا ہے۔

۲۰۔ کم پڑھنا، زیادہ سوچنا، کم بولنا، زیادہ سننا ہی عقل مند بننے کے ذرائع ہیں۔

۲۱۔ مٹی، پانی اور روشنی، ان کے ساتھ پوری وابستگی رکھے بغیر جسم کی تعلیم و تربیت مکمل نہیں ہوتی۔

۲۲۔ سچائی سے قلبی آزادی ملتی ہے۔

۲۳۔ دھول خود تو توہین برداشت کرلیتی ہے اور بدلے میں پھولوں کا تحفہ دیتی ہے۔

٢٤۔ فنکار فطرت کا عاشق ہے اس لیے وہ اس کا غلام بھی ہے اور مالک بھی۔

٢٥۔ انسان جس وقت حیوان کا سا عمل کرتا ہے اس وقت وہ حیوان سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔

۲٦۔ اگر تم غلطیوں کو روکنے کے لیے دروازے بند کردو گے تو سچ بھی باہر رہ جائے گا۔

٢٧۔ دنیا میں اپنا پرایا کوئی نہیں جو کسی کو اپنا سمجھتا ہے وہی اپنا اور جو پرایا سمجھتا ہے وہ اپنا ہونے پر بھی پرایا ہے۔

٢٨۔ سزا دینے کا حق صرف اسے ہے جو سزا دینے والے سے محبت کرتا ہو۔

۲۹۔ فکر ہی سے فکر دور ہوتی ہے۔

۳۰۔ مبارک ہیں وہ لوگ جن کی شہرت ان کی صداقت سے زیادہ منور نہیں ہوتی۔

۳۱۔ خدا بڑی بڑی سلطنتوں سے خفا ہوسکتا ہے لیکن چھوٹے چھوٹے پھولوں سے کبھی ناراض نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں