رسم جہیز - غلام ربانی قاصر کی بہترین اصلاحی نظم | Urdu Nazm
رسمِ جہیز
ہند کے مسلم لڑکوں کے ہے سر پہ یہ الزام
نقد جہیزوں کے پیسوں پر ہوتے ہیں بدنام
گھوڑے گدھوں کی طرح لگے بازار میں انکا دام
بتاؤ کیا ہوگا انجام بتاؤ کیا ہوگا انجام
نقد روپیوں کے بھی علاوہ مانگے کل سامان اپنی جوانی کی قیمت کا کرتے ہیں اعلان
کتے گیدڑ سے بھی بدتر رکھدو ان کا نام
بتاؤ کیا ہوگا انجام بتاؤ کیا ہوگا انجام
کتنے غریبوں کی بیٹی کا ہوگیا اب یہ حال
بے شادی کے بیت گئے گھر بیٹھ کے پچپن سال
مرجاتی ہے فکر میں کوئی زہر کاپی کے جام بتاؤ کیا ہوگا انجام بتاؤ کیا ہوگا انجام
لاکھ روپے لیکے پھلاٹی کرتے ہیں دان رات دوسو براتی باجا لیکر جاتے ہیں بارات
بم کے دھماکوں سے یہ مچائے دنیا میں کہرام
بتاؤ کیا ہوگا انجام بتاؤ کیا ہوگا انجام
اب تو کنواری لڑکی کی ہے اتنی بڑی بربادی انکی غریبی دیکھ کے انکی ہوتی نہیں ہے شادی
آبرو عزت بازاروں میں کرتی ہے نیلام
بتاؤ کیا ہوگا انجام بتاؤ کیا ہوگا انجام
باروں مہینہ مانگ کرے ہے بیوی سے وہ خوب
تین طلاقوں کی دھمکی سے ورنہ کرے مرعوب
اتنے جہیزوں پر بھی بیٹی کر نہ سکے آرام بتاؤ کیا ہوگا انجام بتاؤ کیا ہوگا انجام
بیٹی والے توڑ کے گر، داماد کو دے دیں تارا پھر بھی بیوی کو یہ ستائے کمبختی کا مارا
لاٹھی ڈنڈا اور جوتوں سے پیٹے صبح وشام بتاؤ کیا ہوگا انجام بتاؤ کیا ہوگا انجام
جو بھی جہیزوں کے پیسوں سے اپنا کرے دلشاد
ایسے بیہودوں کو نہ بنائے کوئی بھی داماد
رب کے بھروسے چھوڑدو اپنی بیٹی کا یہ کام بتاؤ کیا ہوگا انجام بتاؤ کیا ہوگا انجام
جن لڑکوں کو شرعی شادی سے ہو ذرا انکار ان لڑکوں کو اس دنیا میں جینا ہے بیکار
ایسے گنواروں سے ہے قاصر خطرے میں اسلام
بتاؤ کیا ہوگا انجام بتاؤ کیا ہوگا انجام
(جناب غلام ربانی قاصر)



