امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اقوالِ زریں | حکمت اور نصیحت کے بہترین ارشادات
امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان کردہ اقوالِ زریں
1. میں خود کو بالکل اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہوں میں کسی ایسی بات کی تمنا ہی نہیں کرتا جو اس حالت کے خلاف ہو جو خداوند تعالیٰ میرے لیے اختیار کرتا ہو۔
2. میں ایسی جگہ جارہا ہوں جہاں اب سے پہلے کبھی نہیں گیا تھا اور میں ایسی مخلوق کو دیکھ رہا ہوں جسے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
3. تمہیں اپنے اندرونی اسرار کا محفوظ رکھنا لازمی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ضمیروں کے راز کا جاننے والا ہے۔
4. جو شخص قدرِ خیر و شر من اللہ پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور جو اپنے افعالِ معصیت کو خداۓ تعالیٰ کی مشیّت کی طرف منسوب کرے وہ فاجر ہے۔
5. اپنی تعریف زیادہ کرنا ہلاکت کا باعث ہے۔
6. تمہاری عمر برابر گھٹتی جارہی ہے جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اس سے کسی کی مدد کر جاؤ۔
7. مومن وہ ہے جو زادِ آخرت مہیا کرے اور کافر وہ ہے جو دنیا کے مزے اڑانے میں مشغول ہو۔
8. اچھے اخلاق دس ہیں۔ زبان کی سچائی۔ حقوق العباد۔ احسان کا بدلہ۔ سائل کو دینا۔ صلہ رحمی۔ مہمان نوازی۔ باطل سے جنگ کے وقت حملہ میں شدت۔ پڑوسی کی حفاظت اور سب سے بڑھ کر شرم اور حیا۔
9. جو لوگ تمہارے دوست بننا چاہتے ہیں ان کے دوست بنو، عادل کہلاؤ گے۔
10. عادل کہلانا چاہتے ہو تو جو شخص تمہارا دوست بننا چاہے اس کے دوست بن جاؤ۔
11. عیب کا چھپانا اور آبرو کی زینت برقرار رکھنا خاموشی سے ممکن ہے۔
12. آخرت کا بہترین توشہ تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔
13. تین باتیں آدمی کو ہلاک کرتی ہیں۔ حسد، حرص اور تکبر۔
14. عابد وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو۔
15. حرص سے آدمی مصیبتوں میں پھنس جاتا ہے۔
16. مسلمان وہ ہے جو پڑوسی پر احسان کرے۔
17. تکبر سے دین اور ایمان جاتا ہے چنانچہ شیطان تکبر کی وجہ سے مردود اور ملعون ہوا۔
18. حسد ایک آگ ہے جو انسان کو جلاتی ہے اور دوسروں کو عداوت پر ابھارتی ہے۔
19. ایماندار وہی ہے جو آخرت کے لیے توشہ جمع کرے۔
20. چپ رہنے والا آرام سے رہتا ہے اور سلامتی اس کا ساتھ دیتی ہے۔
21. جس کے پاس عقل نہیں اس کے پاس ادب نہیں، جس کے پاس ہمت نہیں اس کے پاس کامیابی نہیں اور جس کے پاس دین نہیں اس کے پاس حیا نہیں۔
22. بہادری یہ ہے کہ آڑے وقت میں پڑوسی کا ساتھ دیا جائے اور مصیبت کے وقت صبر و تحمل سے کام لیا جائے۔



