امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ۲۰ اقوالِ زریں | حکمت، شجاعت اور نصیحت کے ارشادات
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان فرمودہ اقوال زریں
1. شفیق ترین تیرا بھائی تیرا دین ہے۔
2. نجات انسان کی متابعت دین میں ہے اور اس کی ہلاکت مخالفتِ دین میں۔
3. بھائی وہی ہے کہ نصیحت کرتا رہے اور شفقت و محبت میں اس کا پابند نہ بنے۔
4. ہم نے جملہ عیش دنیاوی سے انقطاع کر لیا ہے اور اپنی تمام تمنائیں اور آرزوئیں مٹا دی ہیں اور دوسروں کی تمنا پوری کرنے میں عمر وقف کردی ہے۔
5. انسان کو چاہیے کہ اپنے مشفق کے حکم کے ماتحت چلے اور اس کی شفقت کا سایہ اپنے اوپر سمجھے۔
6. جس کام کی انجام دہی تمہارے لیے دشوار ہو، تم اس پر قادر نہ ہو، اس کی ذمہ داری اپنے سر نہ لو۔
7. معاملے کی جو صورت ہوگئی ہے، تم دیکھ رہے ہو، دنیا نے اپنا رنگ بدل دیا۔ منہ پھیر لیا، نیکی سے خالی ہوگئی، ذرا تلچھٹ باقی ہے، حقیر سی زندگی رہ گئی ہے۔ ہولناکی نے احاطہ کرلیا ہے۔
8. دولت کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس سے عزت و آبرو کو برقرار رکھے۔
9. اعلیٰ درجے کا معاف کرنے والا وہ ہے جو انتقام پر قدرت رکھتے ہوئے عفواً و درگزر سے کام لے۔
10. سردار بننا چاہتے ہو تو حرکت و عمل، جدوجہد کو اپنا معمول بناؤ۔
11. اس چیز کے درپے نہ ہو جسے تم نہیں سمجھ سکتے یا نہیں پاسکتے۔
12. اپنے کام کے صلے کی، واجب سے زیادہ امید نہ رکھو۔
13. اگر تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہاری تعریف کریں تو نیک کام کرو۔
14. ذلیل وہی ہے جو بخیل ہے۔
15. حماقت کیا ہے؟ کمینوں کا اتباع اور گمراہوں کی اطاعت۔
16. مروت یہ ہے کہ تو اپنے وعدے کو پورا کرے۔
17. وہ سب رخصت ہوگئے جن سے مجھے محبت تھی اور اب میں ان لوگوں میں ہوں جو مجھے پسند نہیں۔
18. دنیا کا رنگ بدل گیا، وہ نیکی سے محروم ہوگئی۔ کوئی نہیں جو ظالم کو ظلم سے روکے۔ وقت آ گیا ہے کہ مومن سچائی کی راہ میں بے چین ہوکر نکل پڑے۔ اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کردے۔
19. جس کام کی انجام دہی تمہارے لیے دشوار ہو، تم اس پر قادر نہ ہو، اس کی ذمہ داری اپنے سر کبھی نہ لو۔
20. ذلت کی زندگی سے موت بہتر ہے۔



