امام محمد غزالیؒ کے 32 حکمت بھرے اقوالِ زریں | اقوالِ امام غزالیؒ
امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بیان کردہ اقوال زریں
١۔ عورت کی بدخُلقی پر صبر کرنے والا حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کے برابر ثواب پائے گا۔
٢۔ خاموشی بجائے خود ایک عبادت ہے۔
٣۔ تکلف کی زیادتی محبت کی کمی کا باعث بن جاتی ہے۔
٤۔ قرض ادا کرنے کی طاقت ہوتے ہوئے ایک ساعت کی دیر کرنا بھی ظلم ہے مگر قرض خواہ کی اجازت سے۔
٥۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ عقل و عدل پر مبنی ہوتاہے اس لیے کبھی بھی حرفِ شکایت لب پر نہ لاؤ۔
٦۔ محتاجوں سے مہنگا خریدنا احسان میں ہے اور صدقہ سے بہتر ہے۔
۷۔ غریب مہمان آجائے تو قرض لے کر بھی تکلف کرو۔
۸۔ کھانے میں عیب نہ نکالو، ناپسند ہو تو مت کھاؤ۔
۹۔ تین چیزیں انسان کو تباہ کر دیتی ہیں: حرص، حسد اور غرور۔
۱۰۔ بدخُلقی سے دشمنی پیدا ہوتی ہے اور دشمنی سے جفاکاری۔
۱۱۔ فقیر کو صدقہ دے کر احسان نہ جتلا بلکہ اس کے قبول کرنے کا خود احسان مند ہو۔
۱۲۔ اپنے آپ کو سب سے بہتر سمجھ لینا حماقت ہے۔
۱۳۔ عورت میں ایک کمزوری ہے جس کا علاج تحمل ہے، اسے رنج نہ دینا چاہیے بلکہ اس کا رنج سہنا چاہیے۔
۱٤۔ انسان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وہ اپنے دل اور زبان کو قابو میں رکھے۔
١٥۔ جس کا لباس باریک اور ہلکا ہوگا اس کا ذہن بھی ضعیف ہوگا۔
١٦۔ غیبت اس کو کہتے ہیں کہ کسی شخص کا ذکر اس کی پیٹھ پیچھے اس طریقہ پر کیاجائے کہ اگر وہ سنے تو اسے رنج ہو۔
۱۷۔ تم آئینہ دیکھو، اگر خوش شکل ہو تو منہ پر گناہ کی سیاہی نہ ملو اور اگر رو سیاہ ہو تو دو سیاہیاں جمع نہ کرو۔
۱۸۔ بھوک سے پہلے کھانا مکروہ بھی ہے اور مذموم بھی۔
۱۹۔ دو آدمیوں کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا: طالبِ علم اور طالبِ مال۔
۲۰۔ سخت کلامی سے ابرِ ریشم جیسے نرم دل بھی سخت ہوجاتے ہیں۔
۲۱۔ نیک عورت امورِ دنیا سے نہیں، اسبابِ آخرت سے ہے۔
۲۲۔ نیکی اور بدی کے درمیان اتنی باریک لکیر ہوتی ہے کہ نظر نہیں آتی۔
۲۳۔ بچوں کی اصلاح مکتب میں ہے اور عورت کی گھر میں۔
۲٤۔ نکاح نہ کرنے والا گو شرم گاہ کو بچائے مگر نظر اور دل کا بچانا اس کو محال ہے۔
٢٥. غصہ شمعِ انسانیت کو بجھا دیتا ہے۔
٢٦۔ حاسد دشمن پر پتھر پھینکتا ہے مگر وہ واپس اسی کو لگتا ہے اور وہ دشمن ہنستا ہے۔
٢٧۔ اپنے معاملات سے ہوشیار اور چوکنا رہنا اور سوچ سمجھ کر کام کرنا سعادت کی کنجی ہے۔
٢٨۔ کلام میں نرمی اختیار کر، کیونکہ الفاظ کی نسبت لہجے کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔
٢٩۔ بعض احمق اس غم میں گھلتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں کو دولت کیوں دی۔
٣٠۔ السلام علیکم کے کہنے سے ترکِ کلام کے گناہ سے نکل جاتا ہے۔
٣١۔ زندگی ایک مسافر ہے جس کا آغاز مہد اور اختتام لحد ہے۔ اس سفر میں سال منازل، مہینے فرسنگ، ایام سنگِ ہائے میل اور ہر سانس ایک قدم ہے۔
٣٢۔ دعوت قبول کرنے میں امیر و غریب کا فرق مت کرو، راہِ دور ہونے کی وجہ سے دعوت رد نہ کرو۔



