امام شافعیؒ کے ۱۲ اقوالِ زریں | حکمت و بصیرت سے بھرپور ارشادات
حضرت امام محمد بن ادریس شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے ارشاد فرمودہ اقوال زریں
۱۔ جب تو عالم کو دیکھے کہ رخصت اور تاویلات میں مشغول ہے سمجھ لے کہ اب اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
۲۔ جب صحیح حدیث مل جائے تو میرے قول کو دیوار پر مارو۔
۳۔ سب سے زیادہ جاہل وہ ہے جو گناہ سے باخبر ہوتے ہوئے بھی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
٤۔ اہل مروت کے لیے دنیا میں آرام طلب کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ ایسے لوگ تمام زمانہ مصیبت میں رہتے ہیں۔
۵۔ زندگی ہمیں اس لیے عطا کی گئی ہے کہ ہم اسے ان اشغال میں صرف کردیں جو ہمیں موت کے وقت اس دنیا ہی میں چھوڑنے پڑیں گے۔
٦۔ عالم جہل کو جہالت سمجھتا ہے اور جاہل علم کو۔
۷۔ دل زبان کی کھیتی ہے اس میں اچھی تخم ریزی کرو اگر سارے دانے نہ اگ سکیں تو کچھ تو ضرور اگ جائیں گے۔
۸۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا آدمی ہو جو بلند منصب پر ہوکر مست خواہشات کے پیچھے چل کر درماندہ اور بدکاروں سے مل کر نادم نہ ہوا ہو۔
۱۰۔ مجھے دوستوں میں ہم رائے دوست محبوب ہے جو بڑی کوتاہیوں سے چشم پوشی کرتا ہے۔
۱۱۔ جب کام زیادہ ہوں تو سب سے پہلے اس کام کو ہاتھ میں لو جو سب سے اہم ہو۔
۱۲۔ اگر اہل کو علم نہ سکھایا جائے تو ظلم ہے اور اگر نااہل کو تعلیم دی جائے تو علم کا حق ضائع کرنا ہے۔
۱۔ جب تو عالم کو دیکھے کہ رخصت اور تاویلات میں مشغول ہے سمجھ لے کہ اب اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
۲۔ جب صحیح حدیث مل جائے تو میرے قول کو دیوار پر مارو۔
۳۔ سب سے زیادہ جاہل وہ ہے جو گناہ سے باخبر ہوتے ہوئے بھی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
٤۔ اہل مروت کے لیے دنیا میں آرام طلب کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ ایسے لوگ تمام زمانہ مصیبت میں رہتے ہیں۔
۵۔ زندگی ہمیں اس لیے عطا کی گئی ہے کہ ہم اسے ان اشغال میں صرف کردیں جو ہمیں موت کے وقت اس دنیا ہی میں چھوڑنے پڑیں گے۔
٦۔ عالم جہل کو جہالت سمجھتا ہے اور جاہل علم کو۔
۷۔ دل زبان کی کھیتی ہے اس میں اچھی تخم ریزی کرو اگر سارے دانے نہ اگ سکیں تو کچھ تو ضرور اگ جائیں گے۔
۸۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا آدمی ہو جو بلند منصب پر ہوکر مست خواہشات کے پیچھے چل کر درماندہ اور بدکاروں سے مل کر نادم نہ ہوا ہو۔
۱۰۔ مجھے دوستوں میں ہم رائے دوست محبوب ہے جو بڑی کوتاہیوں سے چشم پوشی کرتا ہے۔
۱۱۔ جب کام زیادہ ہوں تو سب سے پہلے اس کام کو ہاتھ میں لو جو سب سے اہم ہو۔
۱۲۔ اگر اہل کو علم نہ سکھایا جائے تو ظلم ہے اور اگر نااہل کو تعلیم دی جائے تو علم کا حق ضائع کرنا ہے۔



