عرب کے چاند سا حسیں - خوبصورت نعتِ پاک باکلام عطا مفتاحی

عرب کے چاند سا حسیں

یہ آسماں یہ زمیں، یہ مہر و ماہِ دلنشیں
نسیمِ صبحِ عنبریں، بہارِ حسنِ آفریں

گلاب ہوکہ یاسمیں،کسی نے دیکھا ہے کہیں
عرب کے چاند ساحسیں،نہیں نہیں نہیں نہیں

یہ کاروانِ انبیاء، یہ پاک نوری قافلہ
یہ انس و جن کے مقتداء، مقربانِ کبریا

یہ لوگ ہیں عظیم تر، ہوں مثلِ مصطفیٰ مگر
حبیبِ ربِ عالمیں، نہیں نہیں نہیں نہیں

ستارے ان کی راہ میں، زمانہ ان کی چاہ میں
نبی کی خانقاہ میں، ہے دو جہاں پناہ میں

مقام آپ کا وہ ہے، جہاں کبھی پہنچ سکے
خیال و وہم اور یقیں، نہیں نہیں نہیں نہیں

وہ جا رہے ہیں عرش پر، بلندیوں کا ہے سفر
کہ سدرہ بھی ہے رہگزر،ہیں آپ سب کے منتظر

ازل سے آج تک بھلا، کوئی بھی اس طرح ہوا
خدا کے ساتھ ہم نشیں، نہیں نہیں نہیں نہیں

یہ بولے جبرئیل گر، بڑھا جو آگے بال بھر
ہے جلوہ اتنا پر اثر، جلیں گے میرے بال و پر

مقامِ قرب کو چلے، اکیلے ہی نبی میرے
یہ کہتے رہ گئے امیں، نہیں نہیں نہیں نہیں

میرے حضور سر بسر، نشانِ عظمتِ بشر
وہ بے کسوں کے چارہ گر، وہ خلق میں بزرگ تر

غضب میں ہوگا جب خدا،تو اک حضور کے سوا
کوئی شفیعِ مذنبيں، نہیں نہیں نہیں نہیں

شریر ایک عدوئے جاں، ہوا نبی کا میہماں
تو کھا کے سب کی روٹیاں، نجس بناگیا مکاں

حضور نے وہ گندگی،خود اپنے ہاتھوں صاف کی
جبیں پہ اک شکن کہیں، نہیں نہیں نہیں نہیں

میرے نبی کا ہر قدم، دلیلِ جادۂ ارم
نفس نفس کرم کرم، خدائے پاک کی قسم

وہ موجِ نور گفتگو، کرے جو چاکِ دل رفو
بھلا جواب ہے کہیں، نہیں نہیں نہیں نہیں

وہ رحمتِ تمام ہیں، صلائے لطفِ عام ہیں
بلند جو مقام ہیں، وہ سب انہی کے نام ہیں

ادا ادا میں روشنی، کسی کو شان یہ ملی
ملائکِ مقربیں؟ نہیں نہیں نہیں نہیں

متاعِ زندگی عطا، نبی کی نعت اور ثناء
بروزِ حشر آسرا، فقط اسی پہ ہے مرا

اسی کے صدقے میں خدا، نواز دے عجب ہے کیا
عمل تو پاس کچھ نہیں،نہیں نہیں نہیں نہیں
(عطا مفتاحی خادم جامعہ حبیبیہ پورنی)

مزید پڑھیں