کتابِ فطرت کے سرورق پر جو نامِ احمد رقم نہ ہوتا - مکمل کلام اقبال سہیل اعظمی
نامِ احمد صلی اللہ علیہ وسلم
کتابِ فطرت کے سرورق پر جو نامِ احمد رقم نہ ہوتا
تو نقشِ ہستی ابھر نہ سکتا، وجودِ لوح و قلم نہ ہوتا
یہ محفلِ کن فکاں نہ ہوتی، جو وہ امامِ امم نہ ہوتا
زمیں نہ ہوتی، فلک نہ ہوتا، عرب نہ ہوتا، عجم نہ ہوتا
ترے غلاموں میں بھی جو تیرا ہی عکسِ شانِ کرم نہ ہوتا
تو بارگاہِ ازل سے اس کا خطاب "خیر الامم" نہ ہوتا
ہر اک سویدائے دل سے پیدا جھلک محمد کے میم کی ہو
دل اس کی خلوت سرا نہ بنتا، جو نقشِ یہ مرتسم نہ ہوتا
نہ روئے حق سے نقاب اٹھتا، نہ ظلمتوں کا حجاب اٹھتا
فروغِ بخشِ نگاہِ عرفاں اگر چراغِ حرم نہ ہوتا
نہ کرتی خود شانِ کبرائی اگر تقاضائے خود نمائی
تو خاک کا ذرۂ حقیر، وجود سے مہتم نہ ہوتا
سوائے صدیق کون پاتا حضورِ انور کی جانشینی
کہ وہ نہ ہوتے تو یوں جہاں میں بلند دیں کا علم نہ ہوتا
اریکہ آرائیِ نبوت کا فخر فاروق ہی کو ملتا
جو سلسلۂ وحیِ آسماں کا حضور پر مختتم نہ ہوتا
خلافتِ راشدہ کا منصب اگر نہ ہوتا نصیبِ عثمان
تو دفترِ وحیِ آسمانی مرتب و منتظم نہ ہوتا
زہے علوِ مقامِ حیدر! خوشی میں کہتے تھے خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم
کہ فتح ہوتا نہ حصنِ خیبر جو آج یہ ابنِ عم نہ ہوتا
(اقبال سہیل اعظمی)



