تمہیں کو ابتداء لکھوں تمہیں کو انتہا لکھوں - نعتِ رسولِ مقبول ﷺ | مکمل متن
تمہیں کو ابتداء لکھوں تمہیں کو انتہا لکھوں
تمہیں کو ابتداء لکھوں تمہیں کو انتہا لکھوں سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ آخر تم کو کیا لکھوں
امین و صادق و پیغمبر، صدق و صفا لکھوں
نبیِ ذوالکرم لکھوں، محمد مصطفےٰ لکھوں
کبھی شمس الضحیٰ لکھوں،کبھی بدرالدجیٰ لکھوں
الہیٰ کس طرح شرحِ جمالِ مصطفےٰ لکھوں
رسولِ محترم لکھوں، امام الانبیاء لکھوں
خدا معلوم دل کیا چاہتا ہے تم کو کیا لکھوں
قلم رکتا نہیں مذکورہ اوصاف و فضائل پر
یہی جی چاہتا ہے تم کو محبوبِ خدا لکھوں
بنا کر رحمتہ للعالمیں جب رب نے بھیجا ہے
تو واجب ہے تمہیں کو رحمتِ ارض و سما لکھوں
شفاعت کا کیا ہے تم نے وعدہ اپنی امت سے
تو پھر کیسے نہ تم کو شافعِ روزِ جزا لکھوں
محبت کا تقاضا ہے عقیدت کی بھی خواہش ہے تمہارے نام نامی کو میں ہر غم کی دوا لکھوں
قلم چلتا رہے یوں ہی مسلسل ان کی مدحت میں کبھی نعتِ نبی لکھوں، کبھی رب کی ثنا لکھوں
سمجھ کچھ کام دیتی ہے نہ اب ہوش وخودی اپنی
پریشاں ہوں کہ کیسے اپنے دل کا مدعا لکھوں
اے صبا پہنچا دے لے جا کر رسولِ اللہ کے در تک میں ان کی مدح میں جو کچھ بھی اے بادِ صبا لکھوں
طفیل ایسی کہاں قسمت جو یہ اعزاز حاصل ہو
کہ خود کو میں سگِ کوئے محمد مصطفےٰ لکھوں



