رہبرِ کاروانِ وفا آپ ہیں - خوبصورت نعتِ پاک باکلام اقبال فیضی

رہبرِ کاروانِ وفا آپ ہیں

آپ فخرِ رسل، سرورِ انبیا
 رہبرِ کاروانِ وفا آپ ہیں
زیرِ دیوارِ کعبہ جو مانگی گئی
وہ حسیں وہ مبارک دعا آپ ہیں

آپ کا سنگِ در رشکِ شمس و قمر
مصدرِ رحمتِ کبریا آپ ہیں
میرے ایمان کی ابتداء آپ ہیں
علم و عرفاں کی انتہا آپ ہیں

مونس و ہمدمِ بے کساں آپ ہیں
 منبعِ لطف و جود و سخا آپ ہیں
آپ ہی قاسمِ علم و خیرات ہیں
 مصطفیٰ آپ ہیں، مجتبیٰ آپ ہیں

کہکشاں آپ کی راہ کی دھول ہے
 چاند تارے ہیں نقشِ قدم آپ کے
قاب قوسین کی شرح کیا ہو بیاں
 عرش پر جبکہ جلوہ نما آپ ہیں

آپ ہی ساقیِ جامِ توحید ہیں
 آپ پیغمبرِ امن و انسانیت
ماحیِ شرک ہیں، دشمنِ کفر ہیں
 قاطعِ رسمِ حرص و ہوا آپ ہیں

آپ فرمانِ ربِ العلیٰ کے امیں
 کون ہے آپ سا اس جہاں میں حسیں
اے حرا کے مکیں، شاہِ دنیا و دیں
 جگ کے بیمارِ دل کی دوا آپ ہیں

آپ ہی سے خرد کو ملی روشنی
آپ ہی سے جنوں کو ملی آ گہی
سارے عالم کے دل کی صدا آپ ہیں
نورِ یزداں ہیں، خیرالوریٰ آپ ہیں

آپ ہی شافعِ یومِ میزان ہیں
آپ ہی فاتحِ بابِ عدنان ہیں
جب کوئی بھی کسی کے نہ کام آئے گا
اس گھڑی آخری آسرا آپ ہیں

آپ ہی آرزو، آپ ہی جستجو
گلشنِ دل میں ہے آپ سے رنگ و بو
میری کل زندگی ہو فدا آپ پر
میری ہر التجا، ہر دعا آپ ہیں

ہو درود آپ پر، آپ کی آل پر
 آپ کے سارے اصحاب و احباب پر
ہو سلام آپ پر، آپ کے کام پر
اپنے فیضی کے دل کی جلا آپ ہیں

(اقبال فیضی فیض آبادی)

مزید پڑھیں