ارسطو کے ۳۱ اقوالِ زریں | حکمت، اخلاق اور زندگی کے سنہری اصول

ارسطو کے بیان کردہ اقوال زریں 


۱۔ غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہوتا ہے اور ندامت پر ختم۔

۲۔ ہر ایک نئی چیز اچھی معلوم ہوتی ہے مگر دوستی جتنی پرانی ہو اتنی ہی عمدہ، مضبوط ہوتی ہے۔

۳۔ کسی کے عیب مت تلاش کر تاکہ دوسرا تیرے عیبوں کی جستجو نہ کرے۔

٤۔ کتنا برا ہے وہ انسان جو اس بات کی پرواہ ہی نہ کرے کہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔

۵۔ ملازم سے اپنا راز کہنا اسے ملازم سے مالک بنا لیتا ہے۔

٦۔ حسنِ اخلاق سے زندگی راحت اور آرام سے بسر ہوتی ہے اس کو سب شعائر پر مقدم رکھنا چاہیے۔

۷۔ اگر کوئی تیرے حق میں بدی کرے اور تو کسی کے حق میں نیکی کرے تو دونوں کو فراموش کردے۔

۸۔ جو چیز ہماری عادت سے دور ہے وہ عقل سے بھی دور ہے۔

۹۔ جو بات معلوم نہ ہو اس کے اظہار میں شرم نہ کرنی چاہیے۔

۱۰۔ مصیبتیں اور دکھ ہمیں اپنی کم ہستی کی وجہ سے زیادہ خوفناک نظر آتے ہیں۔

۱۱۔ عادت طبیعت کو ضعیف کردیتی ہے اور اس کے خلاف کام کرواتی ہے۔

۱۲۔ ذہنی تکمیل مفروضات و خیالات سے نہیں ہوتی بلکہ ان مفہومات کے حاصل کرنے میں جو کوشش کی جاتی ہیں اس سے ہوتی ہے۔

۱۳۔ خاموشی سب سے زیادہ آسان کام اور سب سے زیادہ نافع عادت ہے۔

١٤۔ جواب دینے میں جلدی نہ کر تاکہ آخر میں خفت و شرمندگی نہ ہو۔

۱۵۔ نا امید نہ ہو کہ اس کا نتیجہ کم عمری ہے۔

١٦۔ مرگ ایک چیتا ہے کمین گاہ میں کہ جس کے پنجے سے رہائی نہیں ہوسکتی۔

۱۷۔ ملک و دولت کو حکامِ بدطینت کی ذات سے زیادہ کوئی چیز ضرر نہیں پہنچا سکتی۔

۱۸۔ جو شخص تحصیلِ علم کی مشکلات کا متحمل نہیں ہوسکتا اسے جہل کی سختیاں عمر بھر برداشت کرنی پڑتی ہیں۔

۱۹۔ سب سے آسان کام جس کا نفع بھاری ہے کم بولنا ہے۔

۲۰۔ زندگی کی سب سے بڑی فتح نفس پر قابو پانا ہے اگر نفس نے دل پر فتح پا لی تو سمجھو دل مردہ ہے۔

۲۱۔ سب سے بڑا بزدل وہ ہے جو موت سے ڈرتا ہے۔

۲۲۔ صورت بغیر سیرت کے ایک پھول ہے جس میں کانٹے زیادہ ہوں اور خوشبو بالکل نہ ہو۔

۲۳۔ ظالموں اور ستم گروں کے ساتھ تعلقات مت رکھ کہ روزِ جزا ان کی باز پرس تجھ سے ہوگی۔

٢٤۔ رشک سے انسان کو بچنا چاہیے مگر جس رشک سے اصلاح کی امید ہو اسے بالضرور اختیار کرنا چاہیے۔

۲۵۔ غربت، انقلاب اور جرم کی ماں ہے۔

٢٦۔ میرے دوستو! دوست ہیں ہی نہیں۔

۲۷۔ دنیا میں ہر چیز کا زائل اور منتقل ہونا ممکن ہے۔ طبیعت کا دنیا میں ہر چیز سے بہانہ چل سکتا ہے مگر قضاء و قدر سے فرار ممکن نہیں۔

۲۸۔ بے انصافی برداشت کرنے سے خود بے انصافی کرنا زیادہ اچھا ہے، کوئی بھی شخص اس بات کو قبول نہیں کرے گا۔

۲۹۔ زیادہ گفتگو کرنا ہر چند کہ اچھی ہو، دلیلِ دیوانگی ہے۔

۳۰۔ حرص کو دل میں جگہ نہ دے کہ تیری قوت دوسروں سے زیادہ نہیں ہے۔

۳۱۔ جو ایک لمحے کے لیے غصے کو پی جائے وہ پورے المناک دن سے خود کو محفوظ رکھتا ہے

مزید پڑھیں