حضرت اویس قرنیؒ کے ۹ حکمت بھرے اقوالِ زریں و ارشادات
حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ اقوال زریں
۱۔ جو مخلوق سے محبت رکھے اس کے دل میں محبت الہیہ کا گزر نہیں ہوسکتا گویا وہ محبت الہی کو سمجھتا ہی نہیں۔
۲۔ سلامتی تخلیہ اور تنہائی میں ہے۔
۳۔ جب تک کسی کے دل میں شیطان کی محبت ہو اور اس کے سینہ میں نفس غالب ہو اور دنیا و عاقبت کی فکر اور لوگوں کا اندیشہ ہو اس وقت تک اس کو کیفیت وحدت حاصل نہیں ہوسکتی۔
٤۔ اگر جدوجہد کرتے ہوئے کامیابی کو صرف خدا کے حوالے کروگے تو لوگوں سے بے پرواہ ہوجاؤ گے اور یہی حقیقتِ استغناء ہے۔
۵۔ بلند مرتبہ تواضع سے پیش آنے میں متصور ہے، لوگوں کی خیر خواہی کروگے تو وہ تمہیں اپنا سردار مانیں گے سچ بولو گے اور نیت و فعل میں بھی صدق رکھوگے تو جواں مرد سمجھے جاؤگے۔
٦۔ جو شخص اچھے کپڑے پہنے اچھے کھانے کھائے اور دولت مندوں کی صحبت میں بیٹھنے کی خواہش رکھتا ہے اس سے دوزخ رگِ گردن سے بھی قریب ہے۔
۷۔ خشوع کہتے ہیں ایسی بے خبری کو کہ اگر اس پر نیزہ مارا جائے تو اثر محسوس نہ ہو۔
۸۔ اگر انسان عبادت الٰہی ملائکہ کے برابر کرے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول نہ کرے گا جب تک کہ انسان کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ ہو، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے مقرر کی ہے یعنی خواہش اس سے فارغ اور بے خوف ہو تاکہ عبادت میں مخل نہ ہو۔
۹۔ اپنے قوی اور حواس کو حقانی اور ٹھیک طریقے پر استعمال کروگے تو اونچے خاندانی ہونے سے زیادہ عزت حاصل کروگے۔



