ہائے رے بے لگام - غلام ربانی قاصر | معاشرتی زوال پر اردو نظم

ہائے رے بے لگام


کہنے کو اب ہے مسلماں کا نام 
 جوار شراب اور چوری ہے کام

کھاتا ہے لالا کا رزقِ حرام 
 ہائے رے بے لگام ہائے رے بے لگام

شادی کے موقع پہ ہے اب یہ حال 
شادی سے پہلے ہی مانگے یہ مال

دو لاکھ رکھے جوانی کا دام 
ہائے رے بے لگام ہائے رے بے لگام

پڑھ لکھ کے آئے تو کہلائے ہیرو 
علم و ہنر میں مگر ہے یہ زیرو

کرتا نہیں ہے بڑوں کو سلام 
 ہائے رے بے لگام ہائے رے بے لگام

شادی میں کچھ مال جب ہاتھ آئے 
 گل چھرا میاں اور بیوی اڑائے

ماں باپ کا کر دیا چَکّا جام 
ہائے رے بے لگام ہائے رے بے لگام

مولانا حافظ پہ کیچڑ اچھالے 
 حق بات بولو تو سن سن کے ٹالے

مذہب کا کچھ بھی نہیں احترام 
 ہارے رے بے لگام ہائے رے بے لگام

روزِ قیامت کا تم خوف کھاؤ 
 دھرتی پہ اتنا اکڑ نہ دکھاؤ

قبرِ خدا سے ڈرو صبح و شام 
 ہائے رے بے لگام ہائے رے بے لگام

سسرال سے جس نے پیسہ لیا ہے 
 عزت کی کھٹیا کھڑی کر دیا ہے

شوہر ہے بیوی کا یا ہے غلام 
 ہائے رے بے لگام ہائے رے بے لگام

لائے جو سسرال سے گھر میں ٹی وی 
 شوہر کو جھاڑو دکھائے گی بیوی

بولے بڑھ چڑھ کے بیجا کلام 
 ہائے رے بے لگام ہائے رے بے لگام

کہئے اسی کو حقیقت میں غنڈا 
 مانگے جہیزوں میں جو ہیرو ہونڈا

شادی میں کرتے ہو کیوں دھوم دھام 
 ہائے رے بے لگام ہائے رے بے لگام

لڑکا تو ہیرو ہے گھر ہے نہ باڑی 
ماڈرن اسکول کی مانگے ہے گاڑی

اوپر سے لگتا ہے سندر یا آم 
ہائے رے بے لگام ہائے رے بے لگام

سسرال کے مال پر یہ پٹھانی 
 ناچ اور کھانے پہ ہے عقد خوانی

قاصر نمائش کا ہے اہتمام 
 ہائے رے بے لگام ہائے رے بے لگام

(جناب غلام ربانی قاصر)

مزید پڑھیں