حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے ٣٦ حکمت بھرے اقوالِ زریں و ارشادات
حضرت عبد القادر جلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ اقوال زریں
۱۔ گمنامی کو پسند کر کہ اس میں ناموری کی نسبت بڑا امن ہے۔
۲۔ شروع کرنا تیرا کام ہے اور تکمیل کرنا اللہ تعالیٰ کا۔
۳۔ تیرے سب سے بڑے دشمن تیرے بُرے ہم نشین ہیں۔
٤۔ تیرا کلام بتادے گا کہ تیرے دل میں کیا ہے۔
۵۔ عاقل پہلے قلب سے پوچھتا ہے پھر منہ سے بولتا ہے۔
٦۔ بجز اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات کے گھر سے باہر مت نکلو۔
۷۔ جو شخص اپنے نفس کا معلم نہیں ہوسکتا دوسرے کا کس طرح ہوگا۔
۸۔ جسے کوئی ایذا نہ پہنچے اس میں کوئی خوبی نہیں۔
۹۔ جس نے مخلوق سے کچھ مانگا وہ خالق کے دروازے سے اندھا ہے۔
١٠۔ خلوت میں خاموشی مردانگی نہیں، جلوت میں خاموش رہ۔
۱۱۔ اوروں پر ہر دم نیک گمان رکھ اور اپنے نفس پر بدظن رہ۔
۱۲۔ ہماری غیبت کرنے والے ہماری فلاح ہیں کہ ہمیں خراج دیتے ہیں۔ یعنی اپنے تمام اعمالِ صالحه ہمارے نام منتقل کرادیتے ہیں۔
١٣۔ تو اس وقت تک طالبِ صادق نہیں جب تک تو اپنی خوراک میں اپنے ہمسایہ کو اپنے نفس پر ترجیح نہ دینے لگے۔
١٤۔ بہت سے دولت مند اسیرِ حرص ہونے کی وجہ سے مفلس، عریاں ہیں۔ حقیقی بہادر وہ ہے جو حرص کے دیو کو پچھاڑنے کے بعد متاعِ دنیا سے بے نیاز ہوجائے۔
١٥۔ تو نفس کی تمنا پوری کرنے میں مصروف ہے اور وہ تجھے برباد کرنے میں۔
١٦۔ جو شخص آسودہ حال ہمسائے سے حسد کرتا ہے وہ قسامِ رزق کی حکمت کا منکر ہے۔
١٧۔ نعمت تجھے اپنا پابند نہ بنائے کہ منعم سے غافل کردے۔
١٨۔ مستحق سائل اللہ تعالیٰ کا ہدیہ ہے جو بندے کی طرف بھیجا جاتا ہے۔
١٩۔ شکستہ قبروں میں غور کر دیکھ کیسے حسینوں کی مٹی خراب ہورہی ہے۔
٢٠۔ کفرانِ نعمت اور خود ستائی قربِ حق کی ضد ہے۔
٢١۔ بدگمانی تمام فائدوں کو بند کردیتی ہے۔
۲۲۔ اسے دیکھو جو دیکھتا ہے، اس سے محبت کرو جو تم سے محبت کرتا ہے، اس کی سنو جو تمہاری سنتا ہے، اپنا ہاتھ اسے دو جو تھامنے کے لیے تیار ہے۔
٢٣۔ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو راضی رکھنا عقل و دانش سے دور ہے۔
٢٤۔ تو کوشش کر کہ گفتگو کی ابتداء تیری طرف سے نہ ہوا کرے اور تیرا کلام جواب بنا کرے۔
٢٥۔ جس عمل میں تجھ کو حلاوت نہ آئے سمجھ لے کہ وہ عمل کیا ہی نہیں۔
٢٦۔ اے عمل کرنے والے اخلاص پیدا کر ورنہ فضول مشقت ہے۔
٢٧۔ دنیا کی محبت سے خاصانِ خدا کو پہچاننے والی آنکھ اندھی رہتی ہے۔
٢٨۔ بے ادب خالق و مخلوق دونوں کا معتوب ہے۔
٢٩۔ اللہ تعالیٰ اور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت فقر و فاقہ سے ملی جلی ہوتی ہے۔
٣٠۔ موت کو یاد رکھنا نفس کی تمام بیماریوں کی دوا ہے۔
٣١۔ افلاس پر رضامندی بے حد ثواب کا موجب ہے۔
٣٢۔ تیری غفلت کی علامت اہل غفلت کے پاس بیٹھنا ہی ہے۔
٣٣۔ خوش رہنا چاہتے ہو تو دوسروں کو خوش کردو۔
٣٤۔ خالق کا مقرب وہی ہے جو مخلوقِ خدا پر شفقت کرتا ہے۔
٣٥۔ ظالم مظلوم کی دنیا بگاڑتا ہے اور اپنی آخرت۔
٣٦۔ غیر ضروری بات کا جواب دینے سے بھی زبان کو بند رکھ چہ جائے کہ تو خود کوئی فضول بات کرے۔



