امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے ٢٤ اقوالِ زریں | حکمت، معرفت اور نصیحت کے ارشادات
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے اقوال زریں
1. جو شخص چاہے کہ اس کی عزت بلاذات و قبیلہ کے ہو اور ہیبت بلاحکومت ہو اس سے کہہ دو کہ گناہوں کو چھوڑ دے اور طاقت اختیار کرے۔
2. دل کی آنکھ عبادت سے کھلتی ہے اس کی رسائی لامکاں تک ہے اور کائنات کا کوئی راز اس سے پنہاں نہیں۔
3. جو اللہ تعالیٰ سے اُنس رکھتا ہے اس کو لوگوں سے وحشت ہوتی ہے۔
4. نفس اللہ تعالیٰ کا مخالف ہے اور نفس کی مخالفت اللہ تعالیٰ کی دوستی ہے۔
5. بہت سے ایسے گناہ ہیں جن کی وجہ سے بندہ رب تعالیٰ کے نزدیک ہوجاتا ہے اور بہت سی ایسی عبادات ہیں جن کی وجہ سے بندہ رب تعالیٰ سے دور ہوجاتا ہے کیونکہ مطیع مغرور گناہگار ہوجاتا ہے، گناہگار خادم مطیع ہوجاتا ہے۔
6. فاجر سے صحبت مت رکھو کہ تجھ میں فجور غالب آ جائے گا۔ مشاورت ایسے لوگوں سے کرو جو اطاعت خدا خوب کرتے ہیں۔
7. حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ جو کچھ تیرے دل کے اندر ہے اگر تو اس کو کھلے طبق میں رکھ کر بازار کا گشت لگائے تو اس میں ایک چیز بھی ایسی نہ ہو جس کو اس طرح آشکارا کرنے سے تجھے شرم آئے۔
8. انسان کے پاس ایک ایسی قوت ہے جو مستقبل میں جھانک سکتی ہے یہ اس وقت بیدار ہوتی ہے جب حواس خمسہ سو رہے ہوں اور دماغ مشاہدات کی مداخلت سے آزاد ہو۔
9. دروغ گو کو مروت نہیں ہوتی اور حاسد کو راحت نہیں ہوتی، بد خلق کو سرداری نہیں۔
10. بے حد اعتقاد بربادی اور نکتہ چینی بد نصیبی ہے۔
11. انتقام کی قدرت رکھتے ہوئے غصہ کو پی جانا افضل ترین جہاد ہے۔
12. مصیبت میں آرام کی تلاش مصیبت کو ترقی دیتی ہے۔
13. توبہ کرنا آسان لیکن گناہ چھوڑنا مشکل ہے۔
14. دوسروں کے مال کی حرص نہ کرنا سخاوت ہے۔
15. گناہ ناسور ہے اگر ترک نہ کرو تو برابر بڑھتا رہے گا۔
16. صبح کو عزت حاصل کرنے کے لیے بازار ضرور جایا کرو (یعنی تجارت کیا کرو)۔
17. جو زبان پر قابو نہیں رکھے گا وہ پشیمان ہوگا۔
18. ایک گناہ بہت ہے اور ہزار اطاعت قلیل۔
19. عبادت بلا توبہ درست نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے توبہ کو عبادت پر مقدم کیا ہے۔
20. اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے محارم سے بچاؤ تاکہ عابد ہو۔ اور جو کچھ قسمت میں ہوگیا اس پر راضی ہو۔
21. تغیر اساس کائنات ہے، پانی کہیں سحاب بن رہا ہے کہیں موتی اور کہیں آنسو۔ نور ظلمت میں بدل رہا ہے اور ظلمت نور میں۔
22. انسان اعمال میں تو آزاد ہے لیکن اس کی آزادی لامحدود نہیں، اس لیے کہ اس کے اختیار میں کچھ شائیہ جبر بھی ہے۔
23. ابتلاء ایک شرف ہے اس لیے خاصانِ حق اس میں مبتلا کیے جاتے ہیں۔
24. خوشامدی لوگ تیرے لیے تکبر کا تخم ہیں۔



