حضرت سلیمان علیہ السلام کے ۲۸ اقوالِ زریں | حکمت اور دانائی کے انمول ارشادات

حضرت سلیمان علیہ السلام کے ارشاد فرمودہ اقوال زریں


۱- تعلیم بہترین خیرات ہے۔

۲- انصاف اور راستی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ پسند ہے۔

۳- جب انسان کی روش خدا کی مرضی کے مطابق ہوتی ہے تو وہ دشمنوں کو بھی دوست بنا لیتا ہے۔

۴- اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے کینہ رکھتا ہے: اونچی آنکھیں، جھوٹی زبان، وہ ہاتھ جو بے گناہ کو آزار پہنچائے، وہ دل جو برے منصوبے باندھے، وہ پاؤں جو جلدی برائی کی طرف دوڑیں، وہ گواہ جو جھوٹ بولے اور وہ شخص جو بھائیوں کے درمیان جھگڑے برپا کرے۔

۵- دولت بہت سے دوست پیدا کرتی ہے مگر مسکین اپنے ہی دوست سے بیگانہ ہے بلکہ مسکین کے بھائی بھی اس سے کینہ رکھتے ہیں۔

٦- جاہل اپنے دل میں جو کچھ ہے ظاہر کرتا ہے مگر دانشمند اسے آخر وقت تک چھپائے رکھتا ہے۔

۷- اللہ تعالیٰ کی تنبیہ کو حقیر مت جان اور اس کی تادیب سے بیزار مت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو پیار کرتا ہے اس کو تنبیہ دیتا ہے جس طرح باپ اس بیٹے کو جس سے وہ خوش ہوتاہے تنبیہ کرتا ہے۔

۸- بیٹے کی تادیب سے دستبردار نہ ہو چھڑی مارنے سے وہ مر نہ جائے گا لیکن تو جہنم سے اس کی جان بچائے گا۔

۹- جس کو غصہ دیر سے آتا ہے بہت ہی عقل مند ہے اور جو زود رنج ہوتا ہے اپنی بے وقوفی ظاہر کرتا ہے۔

۱۰- عالم کم گو، سرد مزاج اور خرد مند ہوتا ہے احمق بھی جب تک چپ رہے عقل مند شمار ہوتا ہے۔

۱۱- قناعت بدن کو تازگی بخشتی ہے اور حسد بدن کو گلا دیتا ہے۔

۱۲- بےوقوف کو اس کی حماقت کی مانند جواب مت دے ایسا نہ ہو کہ تو بھی اس کی مانند ہوجائے۔

۱۳- اللہ تعالیٰ کا خوف انتہائے دانش ہے۔

۱۴- جھگڑے کو پیشتر اس کے کہ وہ تیز ہو جائے، چھوڑ دو۔

۱۵- حلم اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے عزت ملتی ہے۔

۱۶- دغا کی روٹی آدمی کو میٹھی لگتی ہے مگر آخر کو اس کا منہ کنکروں سے بھرا جاتا ہے۔

۱۷- ہر ایک انسان کی روشنی اس کی نگاہ میں ٹھیک ہے مگر اللہ تعالیٰ دلوں کو تولتا ہے۔

۱۸- مالدار مسکین پر حکمران ہوتا ہے اور قرض دار قرض خواہ کا چاکر ہے۔

۱۹- سچ کبھی جھوٹ سے شکست نہیں کھاتا۔

۲۰- گھر اور مال وہ میراث ہے جو باپ سے حاصل ہوتی ہے مگر دانش مند بیوی نعمتِ خداوندی ہے۔

۲۱- وہ جس کے دل میں برائی ہے بھلائی نہ پائے گا اور جس کی زبان میں نکتہ چینی ہے وہ آفت میں پڑے گا۔

۲۲- اپنے خیال میں اپنے آپ کو دانش مند مت سمجھو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور بدی سے باز رہو۔

۲۳- میٹھے بول غصے کو رفع کرتے ہیں۔

٢٤- جو ایک بے وقوف کے ہاتھ پیغام بھیجتا ہے وہ اپنے پاؤں آپ کاٹتا ہے۔

۲۵- خدا کے خوف سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے شرپسندوں کی عمر کم ہوجاتی ہے۔

٢٦- صادق آدمی بلا میں گرتا ہے اور پھر اٹھتا ہے مگر شریر بلا میں گر کے پڑا رہتا ہے۔

۲۷- تھوڑا جو خداوند کے خوف کے ساتھ ہو اس بڑے گنج سے جو رنج کے ساتھ ہو بہتر ہے۔

۲۸- ایک خوش مزاج آدمی پژمردہ دلوں کی دوا ہے۔

مزید پڑھیں