حرف 'چ' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت مجموعہ | منتخب شاعری

چ سے شروع ہونے والے منتخب اشعار


چشمے، کنویں، خدایا بے آب ہوگئے ہیں
خشکی زدہ زمیں، تالاب ہو گئے ہیں
برسا دے مولیٰ بارش آبی ذخیرے بھر دے
بندے ترے خدایا بے تاب ہوگئے ہیں
(حضرت شاہ جمال)

چاہے یہ جان ہی چلی جائے، کچھ نا کے خلاف مت کرنا
چھین لی جس نے آپ کی پہچان، اس کو ہرگز معاف مت کرنا
(ماجد دیوبندی)

چھوڑ کر مانند بو تیرا چمن جاتا ہوں میں
رخصت اے بزمِ جہاں سوئے وطن جاتا ہوں میں
عارضی لذت کا شیدائی ہوں چلاتا ہوں میں
جلد آتا ہے غصہ جلد من جاتا ہوں میں
(علامہ اقبال)

چلو اچھا ہوا کام آگئی دیوانگی اپنی
ورنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے
(قتیل شفائی)

چار دن کا ہے سب غرور گھمنڈ
کیجئے اپنے دل سے دور گھمنڈ
(داغ دہلوی)

چھپے ہوئے انوکھے خیال لفظوں میں
دکھا سکو تو دکھاؤ کمال لفظوں میں
سخنوری کی مجھے داد ملی لیکن
سمجھ سکا نہ کوئی دل کا حال لفظوں میں
(نامعلوم)

چارہ گر ہم ہوش میں آئیں گے کیا تدبیر سے
عقل دیوانی نہیں باندھیں جسے زنجیر سے
(داغ دہلوی)

چھیڑتا ہوں ان کو کہ غصہ آئے
کیوں رکھو ورنہ غالب اپنا نام
(مرزا غالب)

چراغِ لالہ بہ عنوانِ داستاں نہ رہا
کہ جن کے ہم تھے عنادل وہ گلستاں نہ رہا
(شورش کاشمیری)

چھیڑتی جا اس عراقِ دل نشیں کے ساز کو
اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
(علامہ اقبال)

چپکے چپکے میری غزلوں کو نواز
دشمنوں نے گنگنایا دیر تک
(نواز دیوبندی)

چھری گلے پہ چلے ہے کچھ اس ادا کے ساتھ
چمن میں جیسے نسیمِ بہار گزرے ہے
(کلیم عاجز)

چند لمحوں کی تمازت پر تکبر اور غرور
بادلوں میں گھر نہ جائے روشنی کا آفتاب
(نواز دیوبندی)

چار دن کے شباب پر یہ غرور
ابتداء ہے تو انتہا بھی ہے
(داغ دہلوی)

چراغوں کو آنکھوں میں محفوظ رکھنا
بڑی دور تک رات ہی رات ہوگی
(بشیر بدر)

چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منھ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
(میر تقی میر)

چمن سے روتا ہوا موسمِ بہار گیا
شبابِ سیر کو آیا تھا سوگوار گیا


مزید پڑھیں