حرف 'م' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت مجموعہ | بہترین کلام

م سے شروع ہونے والے اردو اشعار

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
(علامہ اقبال)

محفل میں تکلم بھی بہت ہوتا ہے
ساحل پہ تلاطم بھی بہت ہوتا ہے
جو درد سے واقف ہے مگر اس کے لئے
تھوڑا تبسم بھی بہت ہوتا ہے
(رحمٰن جانی)

مری عافیت کے دشمن مجھے چین آچلا ہے
کوئی اور زخم تازہ کوئی اور ضرب کاری
(عامر عثمانی)


مرے آقا کا مسکن ہے کتنا حسیں
رشک کرتی ہے جس پر وہ خلد بریں
(حضرت شاہ جمال)

مدد کو کون کون آتا ہے یار میری
مرے اوپر گری دیوار میری
میں ذمہ دار ہوں خود ذلتوں کا
مرے پیروں میں ہے دستار میری
(نواز دیوبندی)

مجھے روکے گا کیا تو اے ناخدا غرق ہونے سے
کہ جن کو ڈوبنا ہو ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں
(علامہ اقبال)

مشغول ہیں سب حمد و ثنا میں جس کی
دریا بھی اسی کے ہیں اسی کی خشکی
کیوں ہم کو ڈراتے ہو غضب سے واعظ
محدود نہیں شانِ کریمی اس کی
(مظہر محی الدین)

میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے
زمین رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہے
رہے وہ جانِ جہاں یہ جہاں رہے نہ رہے
مکیں کی خبر ہو یارب مکاں رہے نہ رہے
(امیر مینائی)

میں تجھ پہ ایک احسان کرنے والا ہوں
ساری مشکلیں آسان کرنے والا ہوں
پہ جو منافقت کا چہرہ ہے اتار دے ورنہ
میں تیرے قتل کا اعلان کرنے والا ہوں

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصاف حجازی نہ رہے
(علامہ اقبال)

میں اپنے فن کی بلندیوں سے کام لے لوں گا
مقام نہ دو مجھے میں خود مقام لے لوں گا

مدحتِ گفتار کو نہ سمجھو سندِ اخلاق
خوب کہنا اور ہے خوب ہونا اور ہے

مرے درد میں وہ خلش کہاں، مرے سوز میں وہ تپش کہاں
کسی اور ہی کی پکار ہے،میری زندگی کی صدانہیں
(جگر مرادآبادی)

مری رات منتظر ہے کسی اور صبح نو کی
یہ سحر تجھے مبارک جو ہے ظلمتوں کی ماری
(عامر عثمانی)

میں کس لئے مسرور ہوں معلوم نہیں
کس بات پہ مغرور ہوں معلوم نہیں
بندہ ہوں تو مجھ میں کبریائی کیوں ہے
کس نشہ میں مخمور ہوں معلوم نہیں
(امجد حیدرآبادی)

مکتبِ عشق کا انداز نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
میں شکوہ لب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد
شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد
(جگر مرادآبادی)


متاعِ علم کہاں اہلِ ہوس کے سینوں میں
یہ شے ملے گی تو ہم بوریا نشینوں میں
(کلیم عاجز)

ماجد یہ بے گناہی بھی کیا کم گناہ ہے
کیوں آپ لڑ رہے ہیں گنہگار کون ہے
(ماجد دیوبندی)

مجھے دل کے حال کا غم نہیں مگر اس کا غم ضرور ہے
کہ اس نے توڑا یہ آئینہ جو اس آئینہ میں سنور گیا
(کلیم عاجز)

مزاجِ خاکساری میں نزاکت ہے قیامت کی
نہ لے جاؤ مجھے مغرور انسانوں کی محفل میں
(شورش کاشمیری)

منہ ہی منہ میں گالیاں دیجئے نہ آپ
کیجئے ہم سے کلام اچھی طرح
(داغ دہلوی)

میں فقیرخانہ بدوش ہوں،مرا انجمن میں گزر نہیں
نہ دکھاخواب محل اسے، جسے جھونپڑے کی خبر نہیں
(کلیم عاجز)

موت اس کی ہے جس پہ زمانہ کرے افسوس
یوں تو دنیا میں آتے ہیں سبھی جانے کے لئے

مرا درد کون سا درد ہے کہ قرارِ شام و سحر نہیں
مرے دشمنوں کو ہے سب پتہ، مرے دوستوں کو خبر نہیں
(کلیم عاجز)

منزلیں تو خود اپنے عزم سے ملتی ہیں
رہنما مسافر کو راستہ نہیں دیتے
اس کو موجِ ساحل پہ چھوڑ جاتی ہے
جس کو کشتیوں والے آسرا نہیں دیتے
(نواز دیوبندی)

مری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقی
جو ہوشیاری و مستی میں امتیاز کرے
(علامہ اقبال)

منہ چڑھاتا ہے کیا آئینے میں دیکھ کر
تجھ کو دیتا ہے دین تیرا برابر کا جواب
منہ چڑاؤ اور کا، تیوری چڑھاؤ اور پر
آئینہ ہوں منہ پہ دوں گا برابر کا جواب
(امیر مینائی)

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستاں ہمارا ہمارا
(علامہ اقبال)

میرے ہی لہو پہ گزر اوقات کرو ہو
مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو
(کلیم عاجز)

مبتلائے درد کوئی عضو ہو، روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
(علامہ اقبال)

مرنے والے مرتے ہیں فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں
(علامہ اقبال)

مجرم ہیں ہمیں ان کے گنہگار ہمیں ہیں
وقت آئے تو مرنے کو بھی تیار ہمیں ہیں
(کلیم عاجز)

مناسب ہے سمیٹوں دامنِ دستِ دعا عاجز
زباں ہی بے اثر ہو تو ہاتھ پھیلانے سے کیا ہوگا
(کلیم عاجز)

مرے دل کو دیکھ کر مری وفا کو دیکھ کر
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
(داغ دہلوی)

مجھے جو بھی دے وہ قبول ہے مگر التجا یہ ضرورہے
مری آرزو سے بھی کم نہ دے، میرے ظرف سے بھی سوا دے
(نامعلوم)

میری آبرو ترے ہاتھ ہے،میری عظمتوں کو گھٹا نہ دے
ملی جس نظر سے فرازیاں، مجھے اسی نظر سے گرا نہ دے
(علامہ عاقل حیدرآبادی)

مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا
(علامہ اقبال)

مری طلب بھی انہی کے کرم کا صدقہ ہے
یہ قدم اٹھتے نہیں اٹھائے جاتے ہیں
(تنویر واحدی)

مال و زر، جاہ و چشم، نہ جبہ و دستار ڈھونڈھ
تنگ رستے پہ جو لے جائے وہی سالار ڈھونڈھ
(تنویر واحدی)

مسلم ہو تو مسلم کو برادر سمجھو
ہر ذرے کو خورشید کا مظہر سمجھو
کیوں ہوتی ہیں مستوی صفیں وقتِ نماز
یعنی ہر ایک کو تم برابر سمجھو
(امجد حیدرآبادی)

میں یہ نہیں کہتا کہ خدا پیدا کر
دکھ سکھ کا شریک آشنا پیدا کر
جس سے نظر آئے تجھ کو اپنی صورت
امجد ایک ایسا آئینہ پیدا کر
(امجد حیدرآبادی)

مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں
بنتے ہیں آدمی ہی امام و خطبہ خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن و نماز  یاں
اور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں
(امجد حیدرآبادی)

مزید پڑھیں