حرف "گ" سے شروع ہونے والی خوبصورت اردو شاعری اور اشعار
گ سے شروع ہونے والی خوبصورت اشعار
گستاخ شہ دیں کا ٹھکانہ ہے جہنم
سولی پہ ہم چڑھ کے یہی بات کہیں گے
ہم لوگ غلامانِ محمدؐ ہیں یہ سن لو
جوتوں کے بھی ہم ان کی اہانت نہ سہیں گے
(خالد زاہد)
گستاخِ نبی کو ہم دنیا سے مٹا دیں گے
ہم امتی ہیں ان کے دنیا کو بتا دیں گے
(طبیب پاشاہ)
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
(علامہ اقبال)
گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
گزر جائے نہ حادثہ یہ کبھی پھر کسی کے ساتھ
ہم مسکرا رہے ہیں مگر بدلی کے ساتھ
قانون دے رہا ہے گواہی پہ فیصلہ
انصاف ہو رہا ہے مگر بدلی کے ساتھ
(نواز دیوبندی)
گرچہ میں ظلمت سراپا ہوں، سراپا نور تو
سینکڑوں منزل ہے ذوقِ آگہی سے دور تو
(علامہ اقبال)
گرا دی اپنی قسمت ہم نے اپنی ہی نگاہوں میں
برا ہم خودہی سمجھیں گے تو اچھا کون سمجھےگا
(کلیم عاجز)
گفتگو صاف صاف کرتے ہیں
وہ بھی میرے خلاف کرتے ہیں
ہم تو خاموش ہو گئے تھے مگر
آپ ہی اعتراف کرتے ہیں
(رحمٰن جائی)
گردو گے صدا فرش سے ربی ربی
آئے گی صدا عرش سے عبدی عبدی
ہوگا نہ مددگار کسی کا کوئی
چلائیں گے سب محشر میں نَفْسِی نَفْسِی
(مظہر محی الدین مظہر)
گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو
ہے وطن تیرا کدھر، کس دیس کو جاتا ہے تو
(علامہ اقبال)
گرے ہوؤں کو اٹھانے میں گر پڑا خود بھی
مگر اٹھا کے نیا حوصلہ ملا مجھ کو
(نواز دیوبندی)
گلشن کی تباہی پر کیوں رنج کرے کوئی
الزام جو آنا تھا دیوانوں کے سر آیا
(جگر مراد آبادی)
گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رکھتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات
(علامہ اقبال)
گمنام تھا لباسِ شرافت کی وجہ سے
دستار مگر باندھی تو مشہور ہوگیا
(شہود آفاقی)
گرجتے بادلوں سے یہ درس ملتا ہے دوستو
فقط باتوں کے غازی فیض پہنچایا نہیں کرتے
(شہود آفاقی)
گمراہ ہوئے تو رہنما یاد آیا
جب یاد آگئی پیری تو عصا یاد آیا
فرعون بھی وقتِ غرق لایا ایماں
جب چل نہ سکی خودی تو خدا یاد آیا
(امجد حیدر آبادی)



