حرف 'ک' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت مجموعہ | بہترین کلام

ک سے شروع ہونے والے اردو اشعار

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
(علامہ اقبال)

کون کرتا ہے یہ دعویٰ کہ بڑی ہے دنیا
میرے سرکار کے قدموں میں پڑی ہے دنیا
(ہاشم فیروز آبادی)

 کیا آپ کا رتبہ عرض کروں، اے نورِ خدا اے
 شمسِ ہدیٰ
گر آپ کو کہہ دے کوئی برا، پھنس جائے سدا وہ نِراں میں
(حضرت شاہ جمال)

 کون کہتا ہے رونے رلانے میں ہے
زندگی کا مزہ مسکرانے میں ہے
(نواز دیوبندی)

کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے
نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے

کوئی پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے
جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے
(علامہ اقبال)

کیسے نادان ہیں جو اپنوں کو برا کہتے ہیں
ہو برا بھی تو اسے چاہئے اچھا کہنا
(امیر مینائی)

 کبھی آگہی نے مارا، کبھی بے خودی نے مارا
مری موت زندگی ہے، مجھے زندگی نے مارا
یہ خلوص خود فریبی میرے کام کچھ نہ آی
تری دشمنی سے بڑھ کر، تری دوستی نے مارا
(نواز دیوبندی)

 کیوں عقل میں آتا نہیں نادانوں کی
تاریخ درخشاں ہے مسلمانوں کی
کس طرح چکائے گا زمانہ بدلہ
فہرست طویل ان کے احسانوں کی
(مظہر محی الدین)

 کس قدر گراں تم پہ صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
طبعِ آزاد پہ قیدِ رمضاں بھاری ہے
تم ہی کہہ دو یہی آئینِ وفاداری ہے
(علامہ اقبال)

کفر نہ ایمان، دین نہ دنیا، یاس و تعطل خوف وہراس
ایسے بے غیرت جینے سے بہتر ہے مرجانا بھی
(عامر عثمانی)

کبھی ہم سے، کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی ہر جائی ہے
(علامہ اقبال)

کم حد سے کبھی حد سے سوا ملتا ہے
تقدیر میں جتنا ہے لکھا ملتا ہے
ملتی ہے عبادت سے خدا کی جنت
مخلوق کی خدمت سے خدا ملتا ہے
(مظہر محی الدین)

 کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
(علامہ اقبال)

 کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر

 کیا کریں پتھروں کی قیمت بھی
آئینوں کی دکاں سے ملتی ہے
(نواز دیوبندی)

 کتنے عیار ہیں مکّار ہیں احباب مرے
پھر بھی ہم درد ہیں، غم خوار ہیں احباب مرے
(رحمن جامی)

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر آتی نہیں
(مرزا غالب)

 کھوکے بازار میں سب اپنا بھرم آئے ہیں
شرم کہتے ہوئے آتی ہے کہ ہم آئے ہیں

 آپ کے سامنے جس حال سے ہم آئے ہیں
ایسے مجرم کسی دربار میں کم آئے ہیں
(کلیم عاجز)

 کتنے بے درد اس زمانے کے اطبا ہیں امیر
حالِ بیمار کا سنتے ہیں فسانے کی طرح
(امیر مینائی)

 کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
(مرزا غالب)

کوئی بتائے اس غرورِ بے جا کو
وہ جنگ میں نے لڑی ہی نہیں جو ہاری ہے
دعا کرو کہ سلامت رہے میری ہمت
یہ چراغ تو کئی آندھیوں پہ بھاری ہے
(وسیم بریلوی)

 کیا گناہوں سے بچ سکیں گے بھلا
قسمیں جو صبح و شام کھاتے ہیں
ان کے چہروں پہ نور ناممکن
وہ جو رزقِ حرام کھاتے ہیں
(ماجد دیوبندی)

 کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
(علامہ اقبال)

کوئی امید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا اک دن متعین ہے لیکن، نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
(مرزا غالب)

 کوئی طنز میرے خیال پر، کوئی میرے حال پر کر گیا
میں نگاہ نیچی کئے ہوئے تیری انجمن سے گزر گیا
(کلیم عاجز)

کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیل
مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا
(قتیل شفاعی)

 کاغذ کی ایک ناؤ اگر پار ہو گئی
اس میں کہاں دریا کی ہار ہو گئی
(خالد زاہر)

کوئی کہہ دے یہ ذرا وقت کے شیطانوں سے
خاک ہو جاتے ہیں سورج کو بجھانے والے
(ماجد دیوبندی)

کبھی محنت کا صلہ اپنی نہ پایا ہم نے
چھاؤں اوروں کو ملی پیڑ لگایا ہم نے
(طبیب پاشاہ)

کون کہتا ہے کہ فضول ہیں ہم
خوشبوؤں سے مہکتے پھول ہیں ہم
جان دے دیں گے اپنی عظمت پر
خاک پائے رسول ہیں ہم
(ماجد دیوبندی)

کارزارِ ہستی میں عز و جاہ کی دولت
بھیک میں نہیں ملتی آدمی کماتا ہے
اپنی قبر میں تنہا آج تک گیا ہے کوئی
دفترِ عمل عامر ساتھ ساتھ جاتا ہے
(عامر عثمانی)

 کام کچھ ایسے کئے جاؤ جہاں میں عاقل
آپ کو یاد کرے خلق خدا آپ کے بعد
(حضرت عاقل حساتی)

کچھ کئے جاؤ لے کر نام خدا
کچھ نہ کرنا، بڑی خرابی ہے
کامیابی کچھ اور چیز نہیں
کام کرنا ہی کامیابی ہے
(امجد حیدر آبادی)

 کچھ اس طرح سے رہو روح گلستاں بن کر
تمہارے بعد تمہاری مہک چمن میں رہے
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
(علامہ اقبال)

 کیا پھل ملتا ہے بیچ بو کر دیکھو
پانے کی اگر ہوس ہے تو کھو کر دیکھو
کیا عرض کروں اس میں کیا لذت ہے
ایک مرتبہ تم کسی کے ہو کر دیکھو
(امجد حیدر آبادی)

کچھ وقت سے ایک پیج شجر ہوتا ہے
کچھ دیر میں ایک قطرہ گہر ہوتا ہے
اے بندہ ناصوبر تیرا ہر کام
کچھ دیر میں ہوتا ہے مگر ہوتا ہے
(امجد حیدر آبادی)

کسی کا رزق رک سکتا نہیں خلاق اکبر سے
صفی پتھر کے کیڑے کو غذا ملتی ہے پتھر سے
(صفی اورنگ آبادی)

مزید پڑھیں