حرف "ل" سے شروع ہونے والی خوبصورت اردو شاعری اور اشعار

 ل سے شروع ہونے والی خوبصورت اشعار


لڑنے کے لیے دشمن اگر آتا ہے
ہر کوئی لِئے تیر و تبر آتا ہے
جیتی ہے وہی قوم یہاں پہ عزت سے
جس قوم کو مرنے کا ہنر آتا ہے
(مظہر محی الدین مظہر)

لو سارے تخت و تاج رکھو اپنے پاس تم
ہم کو عزیز آج بھی ٹوٹی چٹائی ہے
یوں ہی نہیں ملی ہیں ہمیں سر بلندیاں
بھیڑیں چرا کے ہم نے حکومت چلائی ہے
(خالد زاہد)

لطفِ کلام کیا جو نہ ہو دل میں دردِ عشق
بسل نہیں ہے تو، تو تڑپنا بھی چھوڑ دے
(علامہ اقبال)

لاکھ دام بڑھ جائیں خوشبوؤں کے پھولوں سے
خوشبوؤں پہ واجب ہے احترام پھولوں کا
(نواز دیوبندی)

لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزا جینے میں
کچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں
کتنے بے تاب ہیں جو ہر مرے آئینے میں
کس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میں
(علامہ اقبال)

لازم ہے جہالت کے اثر سے نکلے
انسان ہے نفس کے شر سے نکلے
راہوں میں ملک اس کے بچاتے ہیں پر
جو علم کی تحصیل کو گھر سے نکلے
(مظہر محی الدین)

لوٹ لیتی ہے داغ کے دل کو
تیری ہر اک پیاری پیاری بات
(داغ دہلوی)

لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے
بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا
(کلیم عاجز)

لذتِ قربِ حقیقی پر مٹا جاتا ہوں میں
اختلاطِ موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں میں
(علامہ اقبال)

لبوں پہ گھر سے تبسم سجا کے نکلوں گا
میں آج بھی کوئی چہرہ لگا کے نکلوں گا

لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی آئے، نہ اپنی خوشی چلے

لوگ کانٹوں سے بچ کر چلتے ہیں
ہم نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
(افضل کرت پوری)

لوگ واقف ہیں ہمارے جذبۂ تعمیر سے
ہم بنا سکتے ہیں بگڑی بات بھی تدبیر سے
(تنویر واحدی)

لوگ ہم کو جو ہوشیار ملے
رازِ ہستی کے آشکار ملے
فصلِ گل خزاں رسیدہ تھی
گل ملے بھی تو داغدار ملے
(تنویر واحدی)

لے لے کے خدا کا نام چلاتے ہیں
پھر بھی اثر دعا نہیں پاتے ہیں
کھاتے ہیں حرام لقمہ پڑھتے ہیں نماز
کرتے نہیں پرہیز دوا کھاتے ہیں
(امجد حیدر آبادی)

لو ختم ہوا آج کلامِ امجد
امجد کی جگہ رہ گیا نام امجد
اب آپ اس پر عمل کریں یا نہ کریں
پہنچا دیا امجد نے پیامِ امجد
(امجد حیدر آبادی)

مزید پڑھیں