حرف 'د' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت مجموعہ | بہترین کلام
د سے شروع ہونے والے اردو اشعار
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے
(علامہ اقبال)
دار و رسن کی گود میں پالے ہوئے ہیں ہم
سانچے میں مشکلات کے ڈھالے ہوئے ہیں ہم
(شور ش کاشمیری)
دولت نہ حکومت، نہ سیادت اچھی
اچھا ہے وہی جس کی ہو فطرت اچھی
جس علم سے آجائے غرور انسان میں
اس علم سے سو بار جہالت اچھی
(مظہر محی الدین مظہر)
دریا میں طوفان اٹھا ہے،دریا والے جھیلیں گے
تم تو دور کھڑے ہو پیارے،تم کاہے گھبرائے ہو
(کلیم عاجز)
دوسروں کو نہ غم دیا کرنا، پیار دشمن سے بھی کیا کرنا
گھیر لے جب تمہیں پریشانی، آیت الکرسی پڑھ لیا کرنا
(ماجد دیوبندی)
دنیا میں آدمی کو مصیبت کہاں نہیں
وہ کون سی زمیں ہے جہاں آسماں نہیں
(داغ دہلوی)
دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالب
آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفان نکلا
(مرزا غالب)
دریائے کرم جوش میں جب آتا ہے
جس چیز کی ہو جس کو طلب پاتا ہے
اس بات پہ رکھتا یقین ہے جو مظہر
مایوس ترے در سے وہ کب جاتا ہے
(مظہر محی الدین)
دعویٰ تھا ہوش مندی کا جامی ہمیں بہت
ساقی سے کیا نظر ملی کہ مخمور ہوگئے
(رحمٰن جامی)
دھوپ کہیں جب دھوپ کہیں، رات کہیں جب رات کہیں
دیوانوں کی بات سمجھنا، سب کے بس کی بات نہیں
(کلیم عاجز)
دیکھ او ناداں کر پیری کا زمانہ ہے قریب
کیا لڑکپن ہے کہ کرتا ہے جوانی پہ گھمنڈ
(امیر مینائی)
دنیا یہ محبت کو محبت نہیں دیتی
انعام بڑی چیز ہے قیمت نہیں دیتی
دینے کو تو میں بھی اسے دے سکتاہوں گالی
لیکن میری تہذیب اجازت نہیں دیتی
(نواز دیوبندی)
دشت تو دشت ہیں دریابھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
(علامہ اقبال)
دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسد
غلطی کی کہ جو کافر کو مسلمان سمجھا
(مرزا غالب)
دوچار کیا سارے زمانے کے باوجود
ہم مٹ نہیں سکیں گے مٹانے کے باوجود
(نواز دیوبندی)
دوستوں سے بھی محبت، دشمنوں سے بھی وفا
ہم کو اس کے ماسوا کوئی کمال آتا نہیں
(کلیم عاجز)
دوچار امیدوں کے دیے اب بھی ہیں روشن
ماضی کی حویلی ابھی ویران نہیں ہے
(ماجد دیوبندی)
در در کی ٹھوکریں ہیں اب اسکے نصیب میں
جو زندگی بچی ہے وہ بد رنگ ہوگئی
جس نے میرے رسولؐ پہ انگلی اٹھائی تھی
اس کے لیے خدا کی زمیں تنگ ہوگئی
(خالد زاہد)
داغ اک آدمی ہے گرما گرم
بہت خوش ہوں گے جب ملیں گے آپ
(داغ دہلوی)
دنیا الجھ رہی ہے تو الجھا رہا ہوں میں
آندھی سے کچھ کہ کے ٹکرا رہا ہوں میں
مجھ پر ہنسو نہ تم میری ہمت کو داد دو
ذرہ ہوں اور پہاڑ سے ٹکرا رہا ہوں میں
(خالد زاہد)
در حوادث پہ سر جھکانا میری خودی کو نہیں گوارا
میں آشیاں خود ہی پھونک لوں گا نزولِ برق و شرر سے پہلے
(عامر عثمانی)
دربار سے پہنچے ہیں یہ دربانوں میں
مشکل سے شمار ان کا ہے انسانوں میں
کچھ علم نہیں ان کو کھرے کھوٹے کا
اس درجہ جہالت ہے مسلمانوں میں
(مظہر محی الدین)
دیوانگی ہو، عقل ہو، امید ہو کہ یاس
اپنا وہی ہے وقت پہ جو کام آگیا
(جگر مراد آبادی)
دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے
پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے
(علامہ اقبال)
دل نہیں سنگ ہے جس میں کہ تیری یاد نہیں
گھر نہیں وہ جو تیرے ذکر سے آباد نہیں
الفَتِ شہ میں کچھ اس طرح گم ہوں عاقل
نامِ احمد کے سوا کچھ بھی مجھے یاد نہیں
(حضرت عاقل حسامی)
دشمنی جب کسی سے ہوتی ہے
ابتداء دوستی سے ہوتی ہے
در کبریا پہ جھکاؤ سر،درِمصطفیٰ سے لگاؤدل
یہ جو سر ہے اس کو بناؤ سر، یہ جو دل ہے اس کو بناؤ دل
(نواز دیوبندی)
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
(داغ دہلوی)
دمِ زندگی رمِ زندگی غمِ زندگی سمِ زندگی
غم و رم نہ کر، سم غم نہ کھا کہ یہ ہے شانِ قلندری
داتا کی شان یہ ہے کہ جاری ہو اس کی دین
سالک کا شیوہ یہ ہے کہ دامن پسار دے
(صفی اورنگ آبادی)
دوست کو دشمن سمجھنا بے وقوفی ہےصفی
کیا نہیں پہچان سکتے خوئے دشمن خوئےدوست
(صفی اورنگ آبادی)



