حرف 'ق' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت مجموعہ | بہترین کلام

ق سے شروع ہونے والے اردو اشعار


قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے
(علامہ اقبال)

قرآن کی آیتوں کو بھلایا نہ جا سکا
جو رب نے لکھ دیا وہ مٹایا نہ جا سکا
صدیوں سے چل رہی ہیں تعصب کی آندھیاں
لیکن چراغ حق کو بجھایا نہ جا سکا
(خالد زاہد)

قرآن کا ادراک جسے ہوتا ہے
جب علم سوا اس کے کسے ہوتا ہے
پاتا ہے کوئی راہ ہدایت مظہر
گمراہ کوئی پڑھ کے اسے ہوتا ہے
(مظہر محی الدین)


قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں
(علامہ اقبال)

قصر دربار کی عظمت کے قصیدے لکھ
بادشاہوں کی جلالت کے قصیدے لکھ
آستانوں پر لٹاؤ عقیدت کے موتی
پیر زادوں کی سیادت کے قصیدے لکھ
(شورش کاشمیری)

قیدی جو تھا وہ دل سے خریدار ہو گیا
یوسف کو قید خانہ بھی بازار ہو گیا
الٹا وہ میری روح سے بے زار ہو گیا
میں نام حور لے کے گنہگار ہو گیا
(امیر مینائی)

قدم قدم پر کھڑے ہیں رہزن، خود اپنے ساتھی بنے ہیں دشمن
ہر ایک شے لُٹ گئی ہماری، اب اور لُٹنے کا ڈر نہیں ہے
(عبید اللہ ہاشمی)

قطرہ جو دریا میں مل جائے تو دریا ہو جائے
کام اچھا ہے وہ جس کا مآل اچھا ہو جائے
(مرزا غالب)

قسمت سے کوئی بن کے تونگر نکلے
جامے سے شرافت کے نہ باہر نکلے
کرتی ہے دور خدا سے دولت
چیونٹی کی سمجھ موت اگر پر نکلے
(مظهر حیدر آبادی)

قربتوں میں بھی جدائی کے بہانے مانگے
دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے
(احمد فراز)

قائم یہ عنصروں کا تماشا تجھی سے ہے
ہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے
(علامہ اقبال)

قوم کو الو بناؤ کیا یہی اسلام ہے
دو تکے کے رہنماؤ کیا یہی اسلام ہے
بیج کر فتنہ تکفیر کا اسلام میں
رات دن جلسے کراؤ کیا یہی اسلام ہے
(شورش کاشمیری)

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں
(علامہ اقبال)

قفس توڑ کر مطمئن نہ ہو بلبل
قفس صورت، آشیان اور بھی ہیں
(جگر مرادآبادی)

قدم قدم پر طرح طرح کی عبادتیں وضع کرنے والو
بتائو کیا تم نے دین حق کو حقیر اور ناتمام جانا
(عامر عثمانی)

قسمت کی بد نصیبی کو صیاد کیا کرے
سر پہ گرے پہاڑ تو فرہاد کیا کرے
(اتائی)

قد کے بڑھنے سے قد آور نہیں ہوگا وہ
قد آور ہیں جو کردار کا قد رکھتے ہیں
(رائق)

مزید پڑھیں