حرف 'ج' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت انتخاب | بہترین اردو شاعری
ج سے شروع ہونے والے منتخب اشعار
جو نبی سے مرے آشنا ہو گیا
اس کا دل آئینہ آئینہ ہو گیا
(الطاف ضیاء)
جینا بھی اسی کا حق ہے جسے، مرنے کا سلیقہ آتا ہے
جو مرنے سے گھبراتا ہے، وہ جیتے جی مر جاتا ہے
(عامر عثمانی)
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہو جو اسلاف کے مدفن تم ہو
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو
(علامہ اقبال)
جو لوگ حقیقت پہ نظر رکھتے ہیں
وہ لوگ کہاں لعل و گہر رکھتے ہیں
رہتے ہیں تہی دست مگر سینے میں
دل موم کا پتھر کا جگر رکھتے ہیں
(مظہر محی الدین مظہر)
جھوٹی قیادتوں کے مجھے خواب مت دکھا
جا میرا ساتھ تجھ کو میسر نہ آئے گا
مکہ میں ہو گئی ہے ہر اک رہبری تمام
اب اس زمیں پہ دوسرا رہبر نہ آئے گا
(خالد زاہد)
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
(مرزا غالب)
جشنِ غمِ حیات منانے نہیں دیا
اس مفلسی نے زہر بھی کھانے نہیں دیا
ہم نے جو سادہ لوحی میں کھایا کوئی فریب
پھر وہ فریب اوروں کو کھانے نہیں دیا
(نواز دیوبندی)
جنہیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں
(علامہ اقبال)
جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفس انکی
الٰہی کیا چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں
(علامہ اقبال)
جو میں نے دیکھا جو میں نے سمجھا کہوں تو فطرت بھی کانپ اٹھے
قلم ہے قاصر، زباں ہے عاجز، ابھی مناسب فضا نہیں ہے
(شور ش کاشمیری)
جو کیف دیکھنی ہے زاہد، تو چل کے دیکھ میکدے میں
بہک بہک کر، مزے مزے کی سنائیں گے بادہ خوار باتیں
(داغ دہلوی)
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
(مرزا غالب)
جدا دیوانہ پن ہے، اب ایسے دیوانے سے کیا ہوگا
مجھے کیوں لوگ سمجھاتے ہیں، سمجھانے سے کیا ہوگا
سلگنا اور شئے ہے، جل کر مر جانے سے کیا ہوگا
جو ہم سے ہو رہا ہے کام پروانے سے کیا ہوگا
(کلیم عاجز)
جو دن بھر دو کھجوروں پر قناعت کرنے والے ہیں
وہ فاقہ کش زمانے پر حکومت کرنے والے ہیں
(خالد زاہد)
جس جگہ رحمتوں کی بارش تھی، اس جگہ آگ کی ہوائیں ہیں
دل یہ کہتا ہے مجھ سے اے ماجد، سب یہ اعمال کی سزائیں ہیں
(ماجد دیوبندی)
جس نے عامر متاعِ خودی بیچ دی
سچ ہے یہ عصمتِ زندگی بیچ دی
سر جھکانے سے بہتر ہے سر دیجئے
بھیک لینے سے بہتر ہے مر جائیے
(عامر)
جو تھوکا آسماں کی سمت وہ آکرگرا مجھ پر
نہ ہنستا آئینہ پر میں، نہ ہنستا آئینہ مجھ پر
(نواز دیوبندی)
جب تک انسان پاک طینت نہیں
علم وحکمت، علم وحکمت نہیں
(جگر مراد آبادی)
جاتا ہے ادھر اور ادھر آتا ہے
کچھ اور ہے کچھ اور نظر آتا ہے
یہ شخص وہ شخص ہے کہ جس کو مظہر
دیوانہ بنانے کا ہنر آتا ہے
(مظہر محی الدین مظہر)
جان کر منجملۂ خاصانِ میخانہ مجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
(جگر مراد آبادی)
جہاں میں اہل ایمان صورتِ خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے، ادھر ڈوبے ادھر نکلے
(علامہ اقبال)
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل ہے صنم آشنا تجھے کیا ملےگا نماز میں
(علامہ اقبال)
جو پاک خدا کے بندوں پر کرتے تھے خدائی کے دعوے
اب ان کا سفینہ اپنے ہی دریا میں تھپیڑے کھاتا ہے
(عامر عثمانی)
جب اس کی طرف چل کے کوئی جاتا ہے
وہ دوڑ کے لینے کے لئے آتا ہے
یہ قول نہیں اور کسی کا مظہر
بندوں سے خود اللہ یہ فرماتا ہے
(مظہر محی الدین مظہر)
جو جھوٹ بول کے کرتا ہے مطمئن سب کو
وہ جھوٹ بول کے خود مطمئن نہیں ہوتا
(نواز دیوبندی)
جو ذرا بھی نیند آئے کبھی اہل کارواں کو
وہی بن گئے لٹیرے جو بنے ہوئے تھے ہادی
(عامر عثمانی)
جذبۂ شوق کو کیا پاؤں گے ایفا کر کے
شمع خود روئے گی محفل میں اجالا کر کے
(نواز دیوبندی)
جو خود ہی راہ سے بھٹکا ہوا ہے رہنما
اسی کی راہ اختیار کریں کیا معنی
(رحمٰن جامی)
جرأت ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے
اے مردِ خدا ملکِ خدا تنگ نہیں ہے
(علامہ اقبال)
جوان مردوں کے تیور سے ستم گر ہار جاتا ہے
مجاہدوں کے مقابل میں لشکر ہار جاتا ہے
اگرچہ کام ہی خنجر کا زخم دینا ہے لیکن
زباں جب زخم دیتی ہے تو خنجر ہار جاتا ہے
(سفیان قاسمی)
جب تک مقید نہ ہو مٹھی میں یہ سورج
ہم پیڑ کے سائے پہ بھروسہ نہیں کرتے
(نواز دیوبندی)
جگنو کو آندھیوں سے بھی لڑکر نہیں غرور
اور آندھیاں ہیں ننھاسا دیپ بجھا کے خوش
(نواز دیوبندی)
جس دم رقیب کہنے پہ آتے ہیں جھوٹ سچ
ان کو میری طرف سے لگاتے ہیں جھوٹ سچ
(داغ دہلوی)
جن کا تبسم روح کو بیدار کرتا تھا
وہی اب سو رہے ہیں قبر کی تاریک منزل میں
(جوش ملیح آبادی)
جسے میں بھی خود نہ بتاسکا، مرا رازِ دل ہے وہ رازِ دل
جسے غیرِ دوست سمجھ سکے، مرے ساز میں وہ صدا نہیں
مرا نالہ ہوش ربا ہو کیا، مرا نغمہ روح فزا ہو کیوں
کہ چمن میں پھول تو ہیں وہی، مگر ان میں بوئے وفا نہیں
(جگر مراد آبادی)
جو ابھی ابھی ابھرے ہیں ظلمتِ خانۂ ایام سے
جن کی ضو ناآشنا ہے قیدِ صبح وشام سے
(علامہ اقبال)
جو ہر انسان عدم سے آشنا ہوتا نہیں
آنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیں
(علامہ اقبال)
جس قدر ہوسکا جس قدر کرسکا
قوم کو راہِ حق کی بتاتا رہا
حکم یا رب سنا نا مرا کام تھا
دل کی دنیا بدلنا تیرا کام ہے
(حضرت عاقل حسامی)
جاگنا ہے جاگ لے افلاک کے سائے تلے
عمر بھر سوتا رہے گا خاک کے سائے تلے
جو حق کی خاطر جیتے ہیں مرنے سے کہیں ڈرتے ہیں جگر
جب وقتِ شہادت آتا ہے دل سینوں میں رقصاں ہوتے ہیں
(جگر مراد آبادی)



