حرف 'خ' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت مجموعہ | بہترین کلام

خ سے شروع ہونے والے اردو اشعار


خاموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
(علامہ اقبال)

ختمِ نبوت پہ حرف نہ آنے دیں گے
جان اس راستے میں جاتی ہے تو جانے دیں گے
(طیب پاشاہ)

خشک دریاؤں میں ہلکی سی روانی اور ہے
ریت کے نیچے تھوڑا سا پانی اور ہے
ایک کہانی ختم کر کے وہ بہت ہے مطمئن
بھول بیٹھا ہے آگے ایک کہانی اور ہے
(راحت اندوری)

خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں
(علامہ اقبال)


خوشی سے تو پھولے سماتے نہیں ہیں
دکھانے کو پلکیں بھگونے چلے ہیں
جنہیں مسکرانے سے فرصت نہیں تھی
میرے حال پہ آج رونے چلے ہیں
(کلیم عاجز)

خوابوں کے شوق میں کہیں آنکھیں نہ گنوا دیں
ہم سو رہے ہیں نیند نہ آنے کے باوجود
(علامہ نواز)

خشک نہ لب، نہ آنکھ تر، واہ رے حضرتِ جگر
جیسے کہ دور کا بھی اب عشق سے واسطہ نہیں
(جگر مراد آبادی)

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
دل دے کہ مفت گئے ہیں کہ کچھ کام کا نہیں
الٹی شکایتیں ہوئیں کہ احسان تو گیا
(داغ دہلوی)

خاموش رہے حسبِ ضرورت بولے
بے وقت نہ انسان کبھی منہ کھولے
آواز شب و روز یہ دیتا ہے کوئی
توبہ سے گناہوں کی سیاہی دھولے
(مظہر محی الدین)

خشک ہوجاتے ہیں جب آنسو تو آتا ہے لہو
غم وہ دولت ہے کبھی جس پر زوال نہیں
(کلیم عاجز)

خود ہی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
(علامہ اقبال)

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
(امیر مینائی)

خضر کی کیا ضرورت ہے ہمیں، راستے خود ہی مل جائیں گے
منزلیں جس کی محتاج ہیں، ہم کو وہ رہنما مل گیا
(خالد زاہد)

خاموش میں اس لئے نہیں ہوں کہ دولتِ فکر وفن نہیں ہے
بہت سخنہائے گفتنی ہیں مگر مجالِ سخن نہیں ہے
(کلیم عاجز)

خدا کے دشمنوں کی پگڑیاں گر جائیں گی خود ہی
رسالت کا یہ پرچم اور اونچا کر دیا جائے
(خالد زاہد)

خزینہ ہوں، چھپایا مجھ کو مشتِ خاکِ صحرا نے
کس کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں، کس کی دولت ہوں
(علامہ اقبال)

خدا کے آگے سچ کہنا پڑے گا
زباں میری لگا دینا زباں میں
(داغ دہلوی)

خاک کے ڈھیر کو اکسیر بنا دیتی ہے
وہ اثر رکھتی ہے خاکسترِ پروانۂ دل
(علامہ اقبال)


خنجر پہ خون تھا میرے ہی بھائی کا
اس بار جنگ جیت کے پچھتا رہا ہوں میں
(خالد زاہد)

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں ہے
(علامہ اقبال)

خیرات دینے والے تو نے کچھ کمی نہ کی
دامن ہی اپنا تنگ تھا تو اوروں سے کیا گلہ
خوشی کے ساتھ دنیا میں ہزاروں غم بھی ہوتےہیں
جہاں بجتی ہیں شہنائیاں وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں
(داغ دہلوی)

خود اپنا وجود آپ پہ بھاری ہے
ہر کام میں نوکر کی مدگاری ہے
مشکل ہے امیر کو جگہ سے ہٹنا
دولت مندی بھی ایک بیماری ہے
(امجد حیدرآبادی)

مزید پڑھیں