حرف 'ر' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت مجموعہ | بہترین کلام
ر سے شروع ہونے والے اردو اشعار
رہ گئی رسمِ اذان روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی
(علامہ اقبال)
رگوں میں بھر کے فروغِ جمالِ الا اللہ
نظر میں شعلگیِ لا الہ پیدا کر
یہی زمیں ترا مسکن یہی ترا مدفن
اسی زمیں سے تو مہر و ماہ پیدا کر
(جگر مراد آبادی)
روشنیوں کی دھوم ہے لیکن اندھیرا عام ہے
صبح بھی ایسی نظر آتی ہے گویا شام ہے
(کلیم عاجز)
رفیقوں سے رقیب اچھے جو جل کر نام لیتے ہیں
گلوں سے خار بہتر ہے جو دامن تھام لیتے ہیں
(نامعلوم)
ریت کے ذروں کو ان کی بے زبانی کھا گئی
منجمد پتھر کو دریا کی روانی کھا گئی
(نواز دیوبندی)
راہِ وفا کا رہرو ہوں، کانٹوں پہ چلنا ہے مجھ کو
کرب و بلا سے ڈرنے والا، ہرگز میرے ساتھ نہ آئے
(عامر عثمانی)
رشتۂ خون توڑ ڈالا ہے
سچ کا مضمون توڑ ڈالا ہے
آج وہ دیلیز بھگت ہے
جس نے قانون توڑ ڈالا ہے
(ماجد دیوبندی)
رقیبوں کی بات ہو رہی ہے تیری محفل میں
ذرا سی بات ہم کہہ دیں ابھی کہرام ہو جائے
راہِ فرار موت ہے یہ جاننے کے بعد
مقتل میں لے گیا ہمیں زندگی کا شوق
(نواز دیوبندی)
راہِ گزر بتا ہم کو، راہبر کریں کس کو
معتبر زمانے میں شخصیت نہیں ملتی
سب کے نقلی چہرے ہیں سب کا ایک عالم ہے
اب کسی کے چہرے پر اصلیت نہیں ملتی
(الطاف ضیاء)
راکھ تلے چنگاری رکھ
کچھ تو پردہ داری رکھ
امن ضروری ہے لیکن
جنگ کی بھی تیاری رکھ
(نواز دیوبندی)
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
(کلیم عاجز)
رہے خیال کہ شاخوں پہ آشیاں بھی ہیں
شجر پہ ظلم کا پتھر اچھالنے والے
(الطاف ضیاء)
رو کے ہم دوستوں سے کیا کہتے
اپنے غم پتھروں سے کیا کہتے
ہم انہیں دیکھ کر رہے خاموش
آئینے آئینوں سے کیا کہتے
(نواز دیوبندی)
رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہنما سے ہم
چلتے ہیں بچ کے دور ہر اک نقشِ پا سے ہم
(جگر مراد آبادی)
راحت سے احتیاط، مصیبت سے ارتباط
عاجز یہ اور کیا ہے دیوانہ پن نہیں
(کلیم عاجز)
رندانِ بے ریا کی صحبت کے نصیب
زاہد بھی ہم میں بیٹھ کے انسان ہو گیا
(داغ دہلوی)
راہِ طلب میں جذبہ کامل ہو جس کے ساتھ
خود اسکو ڈھونڈ لیتی ہے منزل کبھی کبھی
رستے بھر رو رو کے پوچھا ہم سے پاؤں کے چھالوں نے
بستی کتنی دور بسالی دل میں بسنے والوں نے
رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد
سرخ رو ہوتا ہے انسان ٹھوکر کھانے کے بعد
راز اپنا اگر انسان پہ ہویدا ہوجائے
انسان فرشتوں سے بھی اونچا ہوجائے
امجد وہ شخص کیا نہیں کرسکتا
جس کو اللہ پر بھروسہ ہو جائے
(امجد حیدرآبادی)



