حرف 'س' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت مجموعہ | بہترین کلام

س سے شروع ہونے والے اردو اشعار


سب سے افضل سب سے پیارا تیرا نام
مرے مالک برکت والا تیرا نام
(ماجد دیوبندی)

سارے دروں کو چھوڑ کے اک در پہ پڑ کے دیکھ
پانی ضرور نکلے گا ایڑی رگڑ کے دیکھ
کوئی بولہب نہ مٹا پائے گا تجھے
پاگل میرے رسول کا دامن پکڑ کے دیکھ
(خالد زاہد)

 سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے
خرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے
(علامہ اقبال)

 سامان تجارت میرا ایمان نہیں ہے
ہر در پہ جھکے سر یہ میری شان نہیں ہے
(ماجد دیوبندی)

سچ بولنے کے طور طریقے نہیں رہے
پتھر بہت ہیں شہر میں شیشے نہیں رہے
(نواز دیوبندی)

سر اب بھی کٹ رہے ہیں نمازوں میں دوستو
افسوس تو یہ ہے کہ وہ سجدے نہیں رہے
(نواز دیوبندی)

 سینے کے زخم پاؤں کی زنجیر دیکھ لے
میسور میں رکھی ہوئی شمشیر دیکھ لے
پھر اس کے بعد دیکھ نہ مجھے شک کی نگاہ سے
پہلے میرے بزرگوں کی تصویر دیکھ لے
(خالد زاہد)

 سر کاٹ کے پھر سر پہ میرے وار کرے گا
یہ کام کوئی اور نہیں یار کرے گا
(الطاف ضیاء)

 سستم گر وقت کا تیور بدل جائے تو کیا ہوگا
مرا سر اور تیرا پتھر بدل جائے تو کیا ہوگا
امیرو کچھ نہ دو طعنے تو مت دو ان فقیروں کو
ذرا سوچو اگر منظر بدل جائے تو کیا ہوگا
(نواز دیوبندی)

سودا گری نہیں ہے یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر، جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
(علامہ اقبال)

 سب یہ کردار کی بدولت ہے
ٹھوکروں میں تیری حکومت ہے
(علامہ اقبال)

 ایک رہائی تو مل گئی لیکن
اس کی باقی ابھی عدالت ہے؟
(ماجد دیوبندی)

ستم کئے جاؤ ہم بھی حاضر ہیں
ہمیں حوصلہ دیکھنا ہے کسی کا
(داغ دہلوی)

 سیرت مصطفیٰ پڑھیں ماجد
خود کو انسان اگر بنانا ہے
(ماجد دیوبندی)

 سفر میں مشکلات آئیں تو جرأت اور بڑھتی ہے
کوئی جب راستہ روکے تو ہمت اور بڑھتی ہے
مری کمزوریوں پر جب کوئی تنقید کرتا ہے
دشمن کیوں نہ ہو اس سے محبت اور بڑھتی ہے
(نواز دیوبندی)

ستم پہ خوش، کبھی لطف وکرم سے رنجیدہ
سکھائیں تم نے ہمیں کج ادائیاں کیا کیا۔
(فیض احمد فیض)

سچ تو یہ ہے کہ آپ کی نیت بدل گئی
اور ہم سمجھ رہے کہ زمانہ بدل گیا
(نامعلوم)

 سن کے حیران ہوئے جاتے ہیں اربابِ چمن
آخر کونسی پاگل نے دعا مانگی ہے
(کلیم عاجز)

سنا ہے کہ شریفوں پہ لوگ ہنستے ہیں
تو شکریہ کہ ہمیں مستند کیا تم نے
(نواز دیوبندی)

 سنہری کرسیوں پر ناز نہ کیجے
خدا کمیں کو بھی سرفراز کرتا ہے
یقیں جانے روز ازل سے رب جہاں
حرام زادے کی رسی کو دراز کرتا ہے
(ساغر خیامی)

سچ تو یہ ہے جہاں میں حرف عبث ہے دوستی
نام کے آدمی ہیں کام کے آدمی نہیں
(عامر عثمانی)

 سربلندی پہ تو مغرور تھے ہم بھی لیکن
چڑھتے سورج پہ زوال آیا تو دل کانپ گیا
(نواز دیوبندی)

 سیاست میں ضروری ہے رواداری سمجھتا ہے
روزہ نہیں رکھتا افطاری سمجھتا ہے
میں سانس تک لٹا سکتا ہوں اس کے اشارے پر
مگر وہ میرے ہر وعدے کو سرکاری سمجھتا ہے
(راحت اندوری)

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
(علامہ اقبال)

سو بار کی تم نے گناہ سے توبہ
پھر ہو گئے مرتکب خطائے توبہ
مالک سے خلاف عہد کب تک فاضل
توبہ شکنی سے پہلے کیجے توبہ
(حضرت علامہ فاضل حیدر آبادی)


سر چڑھ کے بولنے لگی ہے تنگوں کی سرکشی
شعلہ بنے بغیر اب اپنا گزر نہیں
(نعیم اختر)

 ستم کئے تم نے ایک آہ نہ کی ہم نے
وہ ظرف تمہارا تھا یہ ظرف ہمارا ہے
(نعیم اختر)

سائل پہ خفا یوں میرے پیارے نہیں ہوتے
کیا مانگنے والوں کے گزارے نہیں ہوتے
محفل سے نکالا ہے مجھے ناکارہ سمجھ کر
کیا چاند کے نزدیک ستارے نہیں ہوتے
(داغ دہلوی)

مزید پڑھیں