حرف 'ش' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت مجموعہ | بہترین کلام

ش سے شروع ہونے والے اردو اشعار


شکست سے کبھی آشنا ہوتا نہیں
نظر سے چھپتا ہے لیکن فنا ہوتا نہیں
(علامہ اقبال)

شجر کی شاخ پہ جب بھی ثمر لہرانے لگتے ہیں
وہ کچے ہوں کہ پکے ہوں اس پر پتھر آنے لگتے ہیں
(الطاف ضیاء)

 شبنم تو رو کے دے گئی اپنا ثبوت غم
آنکھوں میں ہوں نہ اشک تو بتلاؤ کیا کریں
(نواز دیوبندی)

 شام ایسی نہ اب ایسی سحر مانگ رہی ہے
دنیا نئی دنیا کی خبر مانگ رہی ہے
معلوم نہیں تم کو پتہ ہے کہ نہیں ہے
کچھ تم سے زمانے کی نظر مانگ رہی ہے
(کلیم عاجز)

شمع صفت جب کبہو مر جائیں گے
ساتھ لیئے داغ جگر جائیں گے
(میر تقی میر)

 شور پسند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
(مرزا غالب)

 شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے
چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
(علامہ اقبال)

 شاید یہ تکبر کی سزا مجھ کو ملی ہے
ابھرا تھا بڑی شان سے اب ڈوب رہا ہوں
(الطاف ضیاء)

 شہروں شہروں خونریزی میں شیطانوں کا نام نہ لو
اس سازش کے پیچھے کوئی انسان بھی ہوسکتا ہے
(نواز دیوبندی)

 شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
میں کب کا جاچکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو
(احمد فراز)

 شبنم سے فقط کام چلا ہے نہ چلے گا
پھولوں کی زباں خون جگر مانگ رہی ہے
(کلیم عاجز)

 شیشہ کا محل آپ نے بنوا تو لیا ہے
پتھر کا زمانہ ہے مگر یہ نہیں سوچا
(نواز دیوبندی)

 شیخ جو ہے مسجد میں، ننگا رات تھا میخانے میں
جبہ، خرقة، ٹوپی، ٹوپی مستی میں انعام کیا
(میر تقی میر)

 شناسائی نہیں اپنائیت دے
مجھے شہرت نہیں مقبولیت دے
 مجھے اقبال کا لہجہ عطا کر
مرے اشعار کو آفاقیت دے
(نواز دیوبندی)

شوخی نے تیری کام کیا اک نگاہ میں
صوفی ہے بت کدہ میں صنم خانقاہ میں
(داغ دہلوی)

 شکر ہے کہ میں احسان فراموش نہیں
عمر بھر آپ کا بخشا ہوا غم یاد رہا
(کلیم عاجز)

 شیشہ گروں کے ہاتھ میں پتھر بھی دیکھ لے
اے عکس آ یہ آخری منظر بھی دیکھ لے
(عرفان صدیقی)

 شرافت کا پتہ چلتا ہے
جب وہ غصہ میں بھر کر بولتا ہے
(نواز دیوبندی)

 شکوہ کیا تھا از راہ الفت طنز سمجھ کر روٹھے ہو
ہم بھی ہیں نادم اپنی خطا پر، آؤ تم بھی جانے دو
(اثیر لکھنوی)

 شیخ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہیں
مفت میں کالج کے لڑکے ان سے بدظن ہوگئے
وعظ میں فرما دیا کل آپ نے یہ صاف صاف
پردہ آخر کس سے ہو جب مرد ہی زن ہوگئے
(علامہ اقبال)

مزید پڑھیں