حرف 'ض' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت مجموعہ | بہترین کلام

ض سے شروع ہونے والے اردو اشعار


ضمیر مغرب ہے تاجرانہ، ضمیر مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ
(علامہ اقبال)

 ضائع فرما نہ سرفروشی کو میری
مٹی میں ملا نہ گرم جوشی کو میری
آیا ہوں کفن پہن کے اے رب غفور
دھبہ نہ لگے سپید پوشی کو میری
(امجد حیدر آبادی)

 ضد کی ہے اور بات مگر خود بُری نہیں
بھولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کئے
(نامعلوم)

ضبط غم کے بجائے رو رو کر
شہد نمکین کر رہے ہیں آپ
(نواز دیوبندی)

ضرور فیصلہ کیجئے جنوں کی قسمت کا
مگر یہ فیصلہ دار ورسن سے کیا ہوگا
(کلیم عاجز)

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
(احمد فراز)

ضربت پیہم سے ہو جاتا ہے آخراً پاش پاش
حاکمیت کا بت سنگین دل و آئینہ رو
(علامہ اقبال)

ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا کروں
بات تو کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
(نامعلوم)

 ضبط غم فراق کی دل میں کہاں سکت
ظالم کے روٹھنے کی ادا کیا کرے گی آج
(نواز دیوبندی)

 ضعف پیری بڑھ گیا زور جوانی گھٹ گیا
اب عصا بنوائے نخل تمنا کاٹ کر
(علامہ اقبال)

مزید پڑھیں