حرف 'ز' سے شروع ہونے والے اردو اشعار کا خوبصورت مجموعہ | بہترین کلام
ز سے شروع ہونے والے اردو اشعار
زمین سے قدم عرش پر لے گیا
فرشتوں سے بازی بشر لے گیا
(داغ دہلوی)
زندگی ایسی جیو کہ دشمن کو رشک ہو
موت ہو ایسی کہ زمانہ دیر تک ماتم کرے
(نواز دیوبندی)
زائرینِ کعبہ سے اقبال یہ پوچھے کوئی
کیا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھی نہیں
(علامہ اقبال)
زندگی غنیمت ہے نیکیاں کما لیجئے
جان کا بھروسہ کیا یہ تو آنی جانی ہے
(حضرت عاقل حسائی)
زخم کا مرہم، درد کا درماں، بیچ کے آئے ہیں
ہم لمحوں کا سودا کرکے صدیاں بیچ کے آئےہیں
(نواز دیوبندی)
زلفوں کی تو فطرت ہے لیکن میرے پیارے
زلفوں سے زیادہ تمہیں بل کھائے چلو ہو
(کلیم عاجز)
زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں
(نامعلوم)
زندگی جس کو کہتے ہیں فراموش ہے یہ
خواب ہے، غفلت ہے، سرمستی ہے، خاموشی ہے یہ
(علامہ اقبال)
زر پرستوں کو ہے انکار تو انکار کریں
میرا ایمان ہے غریبوں کا خدا آج بھی ہے
(شورش کاشمیری)
زبان و دل محوِ کشمکش ہیں، کسی میں بھی حوصلہ نہیں ہے
دعا شریکِ زباں نہیں ہے، زباں شریکِ دعا نہیں ہے
(عامر عثمانی)
زاہد لحاظ رکھ نہ گل ہو چراغِ زہد
جھوکا نہ آنے پائے ہوائے غرور کا
(امیر مینائی)
زباں سے حضرتِ ناصح کو کیا بتائیں ہم
یہ دل کی چوٹ ہے کھائے تو ہو مزا معلوم
(کلیم عاجز)
زندہ رہنا تو پھر خود کو مٹانا سیکھو
گھٹ کے مرتے ہیں سدا جان بچانے والے
(ماجد دیوبندی)
زمانے کے چین سیکھے ہیں تو نے
کسی کا دوست ہے تو دشمن کسی کا
(داغ دہلوی)
زمانہ جانتا ہے کس کا دامن چاک کتنا ہے
ترے بدنام کرنے سے کوئی بدنام کیا ہوگا
(کلیم عاجز)
زاہدوں کی توبہ ٹوٹی، لڑکھڑایا پائے شیخ
کچھ عجب مستانہ رت ہے ساقیا برسات کی
(امیر مینائی)
زخمِ دل مانگتے ہیں اور دعا دیتے ہیں
ہم سا سائل کوئی اے کرم دیکھا ہے
(کلیم عاجز)
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے
(علامہ اقبال)
زیبا نہیں ہے دعوائے عشقِ نبی ابھی
صورت بنی ہے ان کی نہ سیرت بنی ابھی
(حضرت عاقل حسائی)
زندگی پاک گزاریئے عاقل تاکہ
آپ کو یاد کرے خلقِ خدا آپ کے بعد
(حضرت عاقل حسائی)
زورِ بازو آزما، شکوہ نہ کر صیاد سے
آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے
زندگی کیا ہے خود ہی سمجھ جاؤ گے
بارشوں میں پتنگیں اڑایا کرو
(راحت اندوری)
زیبِ تن کر کے نہ نکلو کبھی شبنم کی قبا
وقت کی دھوپ بڑی تیز ہے مرجاؤ گے
زباں پہ حرفِ شکایت میں لاؤں گا کیسے
میں اپنے ظرف کو نیچا دکھاؤں گا کیسے
یہاں تو ہر کوئی خود ساختہ ہے دانشور
انہیں پیامِ محبت سناؤں گا کیسے
(تنویر واحدی)
راہِ خدا سے ہٹ نہیں سکتا کبھی قدم
انسان کے دماغ میں جب تک خلل نہ ہو
اس علم پر ہے علم کا اطلاق ہی غلط
جس علم کا نتیجہ لازم عمل نہ ہو
(امجد حیدرآبادی)
زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوزِ جگر ہے، علم ہے سوزِ دماغ
(علامہ اقبال)



