حضرت ابوبکر شبلیؒ کے 13 حکمت بھرے اقوالِ زریں | اقوال حضرت ابوبکر شبلی
حضرت ابوبکر شبلیؒ کے پیش کردہ اقوالِ زریں
۱۔ جو دنیا میں عیب و صواب کی طرف سے اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔
۲۔ اس دنیا کے اندر بارگاہِ الہی میں دعا کرنے والا ایسا ہے جیسے اونٹ بٹھانے والا کخ کخ کرتاہے تو جو شخص دنیا میں غموں سے بچا اور فکروں سے دور ہے وہ عذابِ آخرت سے بہت قریب ہے اور ذلیل ہونے والا ہے۔
۳۔ فقیر وہ ہے جو کسی چیز کے ساتھ سوا ذاتِ پاک سبحانہ تعالی کے آرام نہ پکڑے۔
٤۔ فقر دریائے بلا کا نام ہے اور فقیر کے لیے بلا ہائے فقر ہی عزت ہیں۔
۵۔ تصوف شرکِ طریقت ہے اس لیے کہ متصوف اپنے دل کو محفوظ کرتا ہے غیرکے دیکھنے سے اور صوفی کی نظر میں وجودِ غیر معدوم ہے۔
٦۔ ہر وہ شخص جس کے کلیجہ میں درد ہے وہ اُسی چیز کا طالب ہے جو اس کے درد کو مفید ہو۔
۷۔ وہ لوگ جو جانتے خاک نہیں اور اپنے جہل پر مُصر ہیں وہ مشرک طریقت ہیں۔
۸۔ فقر ایسی صفت ہے کہ خاص مخلوق کے لیے زیبا ہے۔
۹۔ غنا صفت اللہ تعالی کی ہے اور فقر اس کی ذات کے لیے ممنوع ہے۔
۱۰۔ فقیر وہ نہیں جو مال و متاع سے خالی ہو بلکہ فقیر وہ ہے کہ جس کا دل خواہشاتِ باطل اور طمع سے خالی ہو۔
۱۱۔ جس نے اللہ تعالی کی ذات کو پالیا وہ تو نگر ہوگیا۔
۱۲۔ عزت اس بندہ کو ملتی ہے جو سچائی کے ساتھ اپنے محبوب کے حضور حاضر ہوا۔ اور ذلت اسے ملتی ہے جو مشاہدہ حق سے اپنے کو غائب کرے۔
۱۳۔ حصولِ صفا افعال و اعمال سے نہیں ہوسکتا۔



