حضرت داتا گنج بخشؒ کے 13 حکمت بھری اقوالِ زریں | اقوال داتا گنج بخشؒ
حضرت داتا گنج بخشؒ کے بیان کردہ اقوال زریں
۱۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ درویش کا درجہ راہِ مولا میں بہت بڑا مرتبہ ہے اور درویشی کے لیے اس راستے میں بڑے خطرات ہیں۔
۲۔ صوفی کو چاہیے کہ اپنے کو اپنے محبوب سے وابستہ رکھے اور دنیائے غدار و بے وفا کے علل و اسباب سے آزاد رہے کہ یہ دنیا سرائے فجار و فساق ہے۔
۳۔ غنی کا نام ہی صرف ذاتِ باری تعالی کے شایانِ شان ہے۔ اور مخلوق اس نام کی مستحق نہیں ہوسکتی۔
٤۔ یاد رکھو جو کوئی لباسِ اولیاء (خرقہ) کو کسبِ دنیا کے لیے آلہ بنائے گا وہ اپنے لیے آفت مول لے گا۔
۵۔ مسکین مجرد کو کہتے ہیں اور فقیر صاحبِ توشہ کو۔
٦۔ صوفی وہ ہے جس کے ایک ہاتھ میں قرآنِ مجید اور دوسرے میں سنتِ رسولؐ ہے۔
۷۔ علم بہت ہیں اور انسانی عمر تھوڑی ہے اس لیے تمام علوم کا سیکھنا انسان پر فرض نہیں اس حد تک ضروری ہے جس سے عمل درست ہوجائے ۔
۸۔ سارے ملک کا بگاڑ ان تین گروہوں کے بگڑنے پر ہے، حکمران جب بے علم ہوں، عالم جب بے عمل ہوں اور فقراء جب بے توکل ہوں۔
۹۔ رضا کی دو قسمیں ہیں اول خدا کا بندے سے راضی ہونا دوم بندے کا خدا سے راضی ہونا۔
۱۰۔ غافل امراء، کاہل فقراء، اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز کرنا عبادت ہے۔
۱۱۔ دین دار لوگوں کو خواہ وہ کیسے ہی غریب و نادار ہوں چشمِ حقارت سے نہ دیکھو کہ اس سے فی الجملہ اللہ تعالی کی تحقیر لازم آتی ہے۔
۱۲۔ جس کام میں نفسانی غرض آئے اس سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
۱۳۔ مسلسل عبادت سے مقامِ کشف و مشاہدہ ملتاہے۔



