۱۔ یاد رکھو جو شریر لوگوں سے صحبت رکھے گا وہ اپنی شرارتِ نفس کے ماتحت ہوگا اور اگر اس میں بھلائی اور نیکی ہوگی تو وہ اخیار کے ساتھ ہی صحبت پسند کرے گا۔
۲۔ جو بدبختوں میں رہے گا نیکوں کی جماعت سے اور ان کے پیشواؤں سے بدگمان ہوجائے گا۔ اور یہ بات متفق علیہ ہے بلکہ یقینی۔
۳۔ جو کام حکمت سے خالی ہے وہ آفت ہے، جو خاموشی سے خالی ہے وہ غفلت ہے، جو نظر حکمت سے خالی ہے وہ ذلت ہے۔
٤۔ جھوٹا سب سے پہلے اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
۵۔ غم سے روح میں توانائی آتی ہے۔
٦۔ جسے خدا ذلیل کرنا چاہے وہ دولت کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔
۷۔ نفس سے بڑھ کر دنیا میں منہ زور اور بد لگام کوئی جانور نہیں ۔
۸۔ جو شخص دنیا میں رہ کر دنیا کی محبت سے بچتا ہے اس نے اپنے آپ کو بھی فائدہ پہنچایا اور دوسروں کو بھی۔
۹۔ جو توقع تم دوسروں سے رکھتے ہو پہلے خود اس کی تکمیل کرو۔
۱۰۔ اگر بنی آدم کے تمام اعمال نیک ہوتے تو اس بات کا تکبر انہیں ہلاک کردیتا۔
۱۱۔ عقلمند بولنے سے پہلے سوچتا ہے اور بے وقوف بولنے کے بعد سوچتا ہے۔
۱۲۔ چشم و زبان کی آزادی روح کے لیے قید ہے۔
۱۳۔ دنیا کا عذاب یہ ہے کہ تمہارا دل مردہ ہو جائے۔
۱۴۔ انسان کا سب سے بڑا دشمن خود اس کا نفس ہے۔
۱۵۔ بُروں کی صحبت نیکوں سے بدگمان کر دیتی ہے۔