حضرت مجدد الف ثانیؒ کے ١٩ اقوال زریں | حکمت، تصوف اور نصیحتیں


حضرت مجدد الف ثانی رحمة اللہ تعالیٰ علیہ کے بیان کردہ اقوال زریں


١۔ تمام مخلوقات میں زیادہ محتاج انسان ہے۔

۲۔ اس دشمن کا قابو میں لانا بہت مشکل ہے جو اطاعت کی راہ سے آئے (مراد: نفس)۔

۳۔ آخرت کا کام آج کر، دنیا کا کام کل پر چھوڑ دے۔

٤۔ کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ دل آزاری ہے خواہ مومن ہو یا کافر۔

۵۔ خدا کے دشمنوں سے الفت کرنا خدا کے ساتھ دشمنی ہے۔

٦۔ تنہا پسندی یا گوشہ نشینی بے کار اشغال سے منہ موڑنے کا نام ہے۔

۷۔ جس کے پاس بیوی، گھر، نوکر اور سواری ہو وہ بادشاہ ہے۔

۸۔ کوئی جاہل ولی نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔

۹۔ عورت کا نا محرم مرد سے ملائم گفتگو کرنا بھی داخلِ بدکاری ہے اور اس کا باریک کپڑے پہننا ننگی ہونے کے حکم میں ہے۔

۱۰۔ اہل اللہ سے کرامت مت ڈھونڈو، ان کے وجود کو ہی کرامت جانو۔

۱۱۔ دنیا کی مصیبتیں بظاہر زخم کی طرح تکلیف دہ ہیں مگر درحقیقت ترقیاں کا موجب ہیں۔

۱۲۔ احسان ہر جگہ بہتر ہے لیکن ہمسائے کے ساتھ بہترین ہے۔

۱۳۔ بچوں پر پیار آنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کی نشانی ہے۔

١٤۔ زندگی کی فرصت بہت کم ہے اور ہمیشہ کا عذاب یا راحت اسی پر مرتب ہے۔

۱۵۔ علم ایک حقیقت ہے اور جہل عدمِ علم۔

١٦۔ عمل کی سستی پر مغفرت کی امید ہے لیکن بد اعتقادی پر نہیں۔

۱۷۔ متکبروں کے ساتھ تکبر کرنا صدقہ ہے۔

۱۸۔ ظاہر دراصل باطن کا نمونہ ہے۔

۱۹۔ دنیا میں آرام خواہاں بے وقوف اور عقل سے دور ہے۔

مزید پڑھیں