کس طرح نعت کے لکھنے کی شروعات کروں - مفتی اسرار احمد دانش قاسمی

کس طرح نعت کے لکھنے کی شروعات کروں؟


توبہ کرکے میں گنہ اپنے مٹالوں پہلے
عشق کی آگ ذرا دل میں بڑھالوں پہلے

جلوۂ نورِ نبی دل میں سمالوں پہلے
خاکِ طیبہ کو میں آنکھوں میں لگالوں پہلے

نذر پھر ان کی درودوں کی میں سوغات کروں
بعدۂ نعت کے لکھنے کی شروعات کروں


مشک و عنبر سے میں سو بار زباں گردھولوں
ہیرے الفاظ کے لاؤں، انہیں پرکھوں، تولوں

باادب نعت میں پھر اپنے لبوں کو کھولوں
پھر بھی گستاخی سراسر ہے اگر کچھ بولوں

منہ ہے چھوٹا مرا، کیسے میں بڑی بات کروں
کس طرح نعت کے لکھنے کی شروعات کروں


خود خدا جس کا ہو حامد، وہ محمد ایسا
جس کی توصیف سے عاجز رہے حسّاں جیسا

عظمتیں عقل سے بالا ہیں، تخیل کیسا
تھاہ جس کی نہ ہی ساحل، وہ سمندر ایسا

محوِ حیرت ہوں میں کیا نقلِ حکایات کروں
کس طرح نعت کے لکھنے کی شروعات کروں


وجہِ تخلیقِ جہاں فخرِ رسولاں ہیں وہ
کاشفِ سرِ نہاں جانِ گلستاں ہیں وہ

دلبرِ ربِ جہاں محسنِ انساں ہیں وہ
حاصلِ کون و مکاں درد کا درماں ہیں وہ

کیسے ممکن ہے بیاں ان کے کمالات کروں
کس طرح نعت کے لکھنے کی شروعات کروں


آپ سردار ہیں، میں ننگِ سگانِ طیبہ
آپ محمود ہیں، میں ننگِ غبارِ بطحاء

آپ داتا ہیں، سخی ہیں، میں ہوں بھکاری منگتا
باعثِ فخر ہو کہلاؤں تمہارا کتا

ایسی قسمت پہ بجا فخر و مباہات کروں
کس طرح نعت کے لکھنے کی شروعات کروں



وہ ہیں امّی بھی مگر علم ہے ان پر قرباں
اہلِ فن، اہلِ سخن، آگے ہیں جن کے حیراں

عقل و دل، فہم و ذکا، نور سے ان کے تاباں
دین منسوخ ہیں سب، لائے وہ ایسا قرآں

ایسے امّی پہ فدا سارے خطابات کروں
کس طرح نعت کے لکھنے کی شروعات کروں


نعتِ سرکارِ دو عالم، کہاں عاجز لاچار
جہل و ظلماتِ سراپا، کہاں عالی دربار

ہاں اگر دل کو ملے آپ کی رحمت کی پھوار
کیا عجب ہے جو شفا یاب ہو دانشؔ بیمار

دور پہلے میں گناہوں کی یہ ظلمات کروں
بعدۂ نعت کے لکھنے کی شروعات کروں


(مولانا مفتی اسرار احمد دانش قاسمی)

مزید پڑھیں