مسلماں کہنا ہے بیکار - غلام ربانی قاصر | جہیز پر اردو نظم
مسلماں کہنا ہے بیکار
اب تو جہیزوں کی لعنت سے کرتے ہیں سب پیار
کوئی مانگے ٹی وی سوفہ کوئی موٹر کار
ورنہ شادی کرنے سے وہ کرتے ہیں انکار
مسلماں کہنا ہے بیکار مسلماں کہنا ہے بیکار
لڑکا مانگے مہر معجل الٹی ہوگئی چال
لڑکی بیچاری مہر مؤجل پرجائے سسرال
پھر باتوں باتوں میں کیوں ہوتی ہے تکرار
مسلماں کہنا ہے بیکار مسلماں کہنا ہے بیکار
قربانی کا بکرا ہے، یا ہے کوئی انسان
لڑکی والوں کے پیسوں پر ہوتے ہیں قربان
پھر بھی لالچ میں بیوی کو دے جوتے کی مار
مسلماں کہنا ہے بیکار مسلماں کہنا ہے بیکار
ایم اے، بی اے، کرکے لڑکے ہوتے ہیں مغرور
رشتہ غریبوں کی بیٹی سے ان کو نہیں منظور
کم سے کم بھی لیں گے یہ تو پورے ساٹھ ہزار
مسلماں کہنا ہے بیکار مسلماں کہنا ہے بیکار
ہیرو ہونڈا چاہئے ان کو ماروتی فی ایٹ
ایک لاکھ ہو نقد روپے پھر بھی خالی پیٹ
لڑکے والے کرتے ہیں یوں لڑکوں کا بیوپار
مسلماں کہنا ہے بیکار مسلماں کہنا ہے بیکار
رسمِ تلک اس دور میں لوگوں ہوگئی ہے اب عام
سوچو ذرا کیا ہوگا مسلماں محشر میں انجام
شرم و حیا سب لے گیا دھوکر شیطانی کردار
مسلماں کہنا ہے بیکار مسلماں کہنا ہے بیکار
لڑکے والے مونچھ بچھائیں لے کے سارا مال
لڑکی والے دیکے بیچارے ہوگئے اب کنگال
سچ پوچھو تو یہی ہیں قاصر ڈاکو کے سردار
مسلماں کہنا ہے بیکار مسلماں کہنا ہے بیکار
(جناب غلام ربانی قاصر)



