نادان کو اس بات کا بالکل نہیں پتہ - الطاف ضیاء | حمدیہ و عارفانہ کلام
نادان کو اس بات کا بالکل نہیں پتہ
نادان کو اس بات کا بالکل نہیں پتہ
وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
اللہ کے حضور یہ ہوتا ہے فیصلہ
وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
جھوٹی نوازشات کی بارش فضول ہے
مجھ کو ذلیل کرنے کی سازش فضول ہے
میرا قدم قدم پہ مددگار ہے خدا
وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
جب تم زمین والوں کو نیچا دکھاؤ گے
بے داغ صورتوں کو جو شیشہ دکھاؤ گے
آئے گی آسمان سے اُس وقت یہ صدا
وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
بے جا کسی کے حق میں برا کر رہے ہیں جو اک دوسرے کے راز کو وا کر رہے ہیں جو
اُن کو بتائے کوئی اِس آیت کا ترجمہ
وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
بنجر زمیں پہ پھول کی چادر بچھائے وہ پتھر کو موم موم کو پتھر بنائے وہ
اُس کی رضا سے زہر بھی بن جاتا ہے دوا
وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
کچھ بھی نہیں ہوں دوستوں ان پڑھ گوار ہوں
بے نام بے نشان ہوں بے اعتبار ہوں
الطاف تھا میں اُس نے بنایا مجھے ضیاء
وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
(جناب الطاف ضیاء)



